کشمیر پر پور ی قوم ایک ہے

کشمیر پر پور ی قوم ایک ہے
 کشمیر پر پور ی قوم ایک ہے

  

کنٹرول لائن کے دونوں جانب پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے بھارت کا یوم جمہوریہ، یوم سیاہ کے طور پر منایا۔ اس موقع پر مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال اور جگہ جگہ سیاہ پرچم لہرائے گئے جبکہ دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں بھارت مخالف مظاہرے اور ریلیاں منعقد کی گئیں۔ بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر وادئ کشمیر، فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردی گئی، بھارتی فوج نے گھر گھر چھاپوں کے دوران متعدد کشمیریوں کو گرفتار کرلیا، وادی میں کرفیو کا سماں تھا۔ دوسری جانب بھارت میں یوم جمہوریہ کے موقع پر ریاست آسام اور منی پور دھماکوں سے گونج اٹھے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ یوم سیاہ منانے کی کال سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے د ی تاکہ عالمی برادری کوباور کرایا جاسکے بھارت کشمیریوں کو ان کا ناقابل تنسیخ حق، حق خود ارادیت دینے سے مسلسل انکار کر رہا ہے۔ بھارتی افواج نے حریت کانفرنس کے نظر بند رہنماؤں سید علی گیلانی، شبیر شاہ اور دیگر کے گھروں کے باہر اضافی نفری تعینات کر دی۔ حریت رہنماؤں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، یاسین ملک نے مقبوضہ وادی میں لوگوں کو سکیورٹی کے نام پر ہراساں کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی یوم جمہوریہ منانے کی آڑ میں کشمیریوں کے تمام جمہوری حقوق ہر سال سلب کرلیے جاتے ہیں۔ 68ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر ریاست آسام اور منی پور کے مختلف علاقوں میں 8ریموٹ کنٹرول دھماکے کیے گئے۔ دھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں، لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ اگرچہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات بہت سخت ہیں بھارتی فوجی ہر طرح کا ظلم کررہے ہیں لیکن کشمیری مسلمانوں کے حوصلے بلندہیں۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان میں امسال بہت سی مذہبی، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی نے 5 فروری کو اظہارِ یکجہتئ کشمیر کادن جوش وخروش سے منانے اور 2017ء کاسال اہل کشمیر کے نام کرنے کافیصلہ کیا ہے۔ گذشتہ دنوں اسلام آباد میں ’’ تحریکِ آزادئ جموں و کشمیر ‘‘کے زیراہتمام قومی مجلس مشاورت کا انعقاد کیا گیا جس میں دفاع پاکستان کونسل سمیت تمام سیاسی، مذہبی و کشمیری جماعتیں شریک ہوئیں اورانہوں نے تحریک آزادئ جموں و کشمیر کی طر ف سے سال 2017ء کو کشمیر کے نام کرنے اور 26جنوری سے پانچ فروری تک عشرۂ کشمیر منانے کاخیر مقدم کیا اور فیصلہ ہوا کہ کراچی سے پشاور تک ہونے والے جلسوں، کانفرنسوں، کشمیرکارواں اور ریلیوں میں بھرپور شرکت کی جائے گی۔27جنوری سے 31جنوری تک تمام بڑے شہروں میں ضلعی سطح پر آل پارٹیز کانفرنسوں کا انعقاد کیا جائے گاجس میں ہر ضلع کی مقامی قیادت اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات شریک ہوں گی۔یکم اور دو فروری کو ملک بھرمیں کسان کشمیر کارواں ہوں گے۔ اسی طرح وکلاء، تاجروں، سول سوسائٹی اورصحافیوں کی طرف سے کشمیرریلیاں نکالی جائیں گی۔ 3فروری جمعہ کو علما ء کرام کشمیر میں بھارتی مظالم کو خطبات جمعہ کاموضوع بنائیں گے اور بعد نماز جمعہ مقامی علماء کرام کی قیادت میں احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔4فروری کو پاکستان بھر میں طلباء کی بڑی ریلیاں نکالی اور تعلیمی اداروں میں کشمیر کے حوالے سے مہم چلائی جائے گی۔

پانچ فروری کو لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں بڑے کشمیر کارواں اور جلسے ہوں گے، ان چاروں صوبوں و آزاد کشمیر کے دیگر شہروں و علاقوں میں بھی تحصیل سطح پرریلیوں، کانفرنسوں اور سیمینارز کا انعقاد کیا جائے گا۔ کشمیری، برستی گولیوں میں پاکستانی پرچم اٹھائے ہوئے ہیں اس لئے قومی مجلس مشاورت میں شریک قائدین کی طرف سے متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان میں بھی ہم اپنے جماعتی تشخص کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملک گیر سطح پر ہونے والے پروگراموں میں صرف پاکستانی پرچم لہرائیں گے تاکہ کشمیریوں سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا جاسکے۔ اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ وزیر اعظم نواز شریف کو چاہیے کہ مسئلہ کشمیر حل کروانے کیلئے کابینہ سمیت اقوا م متحدہ میں دھرنے دیں۔مذہبی، سیاسی و کشمیری جماعتوں کے قائدین، ماہرین قانون اور دانشور حضرات نے تحریک آزادئ جموں و کشمیر کی قومی مجلس مشاورت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر پوری قوم ایک ہے‘ اس پر سیاست کی بجائے حقیقی اتحاد قائم کیا جائے۔جو کشمیریوں کی مدد کیلئے تیار نہیں، ان پر سیاست کے دروازے بند کردینے چاہئیں۔ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر بھارت سے مذاکرات اور تجارت تحریک آزادئ کشمیر سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ خون کے آخری قطرہ تک آزادئ کشمیر اور تکمیل پاکستان کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ سیاسی جماعتیں کشمیر کو اپنے منشور میں شامل کریں۔ چکوٹھی کے راستہ کشمیریوں کیلئے راشن کے ٹرک بھجوائے جائیں۔ وزیر اعظم نواز شریف بھی 2017ء کو کشمیر کا سال قرار دیں۔نریندر مودی کو کشمیریوں کی مدد کیلئے پیش کشیں کرنے کا کوئی حق نہیں‘ وزیر اعظم تو مقبوضہ کشمیر کے شہداء کیلئے فی کس پانچ لاکھ روپے امداد کا اعلان کریں۔ کشمیریوں کو دل سے پاکستانی تسلیم کیاجائے اور پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر قائد کے فرمان ’’کشمیر پاکستان کی شہ رگ‘‘ کو قومی موقف قرار دیاجائے۔۔اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ہونے والی قومی مجلس مشاورت بسلسلہ کشمیر سے دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق، پروفیسر حافظ محمد سعید، سینٹر سراج الحق،سردار عتیق احمد خاں، شاہ زین بگٹی، شیخ رشید احمد، مولانا عبدالعزیز علوی، غلام محمد صفی، اجمل خاں وزیر، سینٹر محمد علی درانی،یوسف نسیم، جمشید احمد دستی،مولانا فضل الرحمن خلیل، پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، علامہ ابتسام الہٰی ظہیر، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، عبداللہ گل،جے سالک، احمد رضا قصوری، مولانامحمد امجد خاں ، قاری یعقوب شیخ،سردار گوپال سنگھ چاولہ ودیگر نے خطاب کیا۔اس موقع پرکشمیر میں بھارتی مظالم کے حوالہ سے خصوصی ڈاکومینٹری دکھائی گئی جس میں پیش کئے جانے والے دردناک مناظر دیکھ کر شرکاء آبدیدہ نظر آئے۔ یہ ایک کامیاب پروگرام تھا جس میں چاروں صوبوں و آزادکشمیراور گلگت بلتستان سے قومی قائدین کی طرح علاقائی جماعتوں اور اقلیتوں کے نمائندگان بھی شریک ہوئے۔

سیاسی، مذہبی وکشمیری قیادت نے سال 2017ء کو کشمیر کے نام کرنے کاخیر مقدم کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ملک گیر سطح پر ہونے والے پروگراموں میں بھرپور انداز میں شرکت کی جائے گی۔ دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق نے کہاکہ اسلام سلامتی اور امن کا دین ہے‘ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اسلامی دہشت گردی کالفظ استعمال کرناناقابل برداشت ہے۔امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہاکہ جو دل آج کشمیر کیلئے نہیں دھڑکتا ہم سمجھتے ہیں کہ وہ اسلامی حمیت سے خالی ہے۔ہم نے 2017ء کو کشمیر کے نام کرنے کا اعلان کیا۔ہمیں صرف یہ بات ہی نہیں عملی طور پر حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف بھی اس سال کو کشمیر کا سال قرار دیں۔ کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ کشمیری مطمئن ہوں گے کہ ان کی وکالت کسی نے کی ہے۔آپ روایتی انداز چھوڑیں اور 2017ء کو کشمیر کا سال قرار دیں۔حافظ محمد سعید نے کہاکہ ہم 26جنوری سے پانچ فروری تک عشرہ کشمیر منارہے ہیں۔ پاکستان کے ہر شہر میں جاکر جلسے کریں۔ گلگت بلتستان اور کراچی سے پشاور تک احتجاجی پروگرام ہونے چاہئیں۔ حکومت بھی اس کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

مزید :

کالم -