’’ یوگا کے نا م پر مسلمانوں کا مذہبی ا ستحصال‘‘

’’ یوگا کے نا م پر مسلمانوں کا مذہبی ا ستحصال‘‘
’’ یوگا کے نا م پر مسلمانوں کا مذہبی ا ستحصال‘‘

  


فرقہ پرست بی جے پی حکومت نے وندے ماترم‘ سوریہ نمسکار اور’’یوگا‘‘ کے نام پر مسلمانوں کا مذہبی استحصال شروع کر رکھا ہے ۔ دوسری جانب بی جے پی کے لیڈروں نے مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔ یہاں تک کہا گیا کہ جو سوریہ نمسکار نہیں کرتا اسے ہندوستان چھوڑ کر چلے جانا چاہئے۔

کچھ فرقہ پرست لیڈروں کے مطابق یوگا کرنے سے اسلام منع نہیں کرتا کیونکہ یوگا ایک قسم کی ورزش ہے جس سے صحت کو فائدہ ملتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کئی مسلمان ملکوں میں یوگا کیا جاتا ہے تو پھر بھارتی مسلمانوں کو یوگا پر کیوں اعتراض ہے؟

مسلمان یوگا کے پروگراموں میں کیوں نہیں جاتے؟ لیکن یوگا کی حمایت میں بات کرنے والے فرقہ پرست مسلم دشمنوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ کچھ مسلمان ملکوں میں یوگا کیا جاتا ہے لیکن وہاں یوگا کے دوران منتروں کا جاپ اور سوریہ نمسکار نہیں کیا جاتا‘ ان ملکوں میں صرف ورزش کے طور پر یوگا کیا جاتا ہے مگر بھارت میں یوگا کے نام پر مسلمانوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ سوریہ نمسکار کریں‘ اوم کا جاپ کریں۔

اس مذموم پروگرام میں بلاتفریق سارے ہندوستانیوں بشمول مسلم اقلیت کی شرکت پر حکومتی اصرار غیر جمہوری‘ غیر اخلاقی اور اسلام مخالف طرز عمل ہے۔

ایک سال قبل ’’سب کاوکاس‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے مودی حکومت نے مسندِ اقتدار سنبھالا تھا مگر اس دور حکومت میں فرقہ پرستی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔جبکہ یوگا میں شامل سوریہ نمسکار اور اشلوکوں پر مبنی منتر پڑھنے کا عمل بھارتی سیکولر آئین کی روشنی میں ملنے والے بنیادی مذہبی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

مودی حکومت کے نمائندے غیر جمہوری بیانات دینے اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور گائے کا گوشت کھانے والوں کو پاکستان بھیجنے کی دھمکی دینا‘ گھر واپسی‘ چار شادیوں کا تمسخر اُڑانا معمول بن چکا ہے لیکن وزیراعظم مودی اپنی زبان پر خاموشی کا قفل ڈالے ہوئے ہیں اور بھارت جو سیکولر ہونے کا دعوی کرتا ہے وہاں مسلمانوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے اتنی سفاکی اور بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے کہ انسان کی روح تک کانپ جاتی ہے بھارت میں رہنے والے مسلمان باڈی بلڈر نوید پٹھان کا اذیت ناک قتل اس کی زندہ مثال ہے۔

یوگا کے آسنوں میں اشلوک پڑھے جاتے ہیں۔ شری کرشن نے ارجن کو یوگا کی تعلیم دی تھی اس کا براہ راست تعلق ہندو مذہب سے ہے۔ یوگا صرف ورزش نہیں ہے ۔یوگا میں سورج کی پہلی کرن کو پرنام کیا جاتا ہے‘ مختلف مرحلوں میں اشلوک پڑھے جاتے ہیں۔

یوگا اصل میں گیان اور دھیان کا ایک طریقہ ہے جس کا مقصد بھگوان کے آگے خود سپردگی ہے۔ سوریہ نمسکار یعنی سورج کی پرستش یوگا کا ایک اہم عنصر ہے۔ یوگا بنیادی طور پر یوگ سے نکلا ہوا ایک لفظ ہے جس کے معنی جوڑ کے ہیں۔

یوگ کی تاریخ اور پس منظر سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ درحقیقت ہندوؤں میں عبادت کا ایک طریقہ ہے۔ بنیادی طور پر ہندو ازم کا بنیادی فلسفہ ہے جس میں آتما (روح) ‘ پرماتما (بھگوان) اور شریر (جسم) کو مراقبے کے ذریعے ایک ساتھ مربوط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

یوگ کا پہلا طریقہ ہندوؤں کے مطابق اُن کے بھگوان شنکر نے ایجاد کیا تھا اور دوسرا طریقہ پتا نجلی نام کے یوگ گرو نے شروع کیا تھا۔ یوگ ہندوؤں کے علاوہ بدھ مت کے ماننے والوں میں بھی رائج ہے۔

یہ محض ایک ورزش نہیں کیونکہ اس کی مذہبی حیثیت ہے۔ یوگ کے دوران مذہبی اشلوک کی ادائیگی بھی اس کا حصہ ہے۔ ہندوستان کے مختلف حصوں میں ہزاروں کی تعداد میں آشرم قائم ہیں اور حکومت کی طرف سے انہیں سرکاری امداد دی جاتی ہے جبکہ مودی حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والے بابا رام دیو ’’یوگا‘‘ کے سب سے بڑے پیروکار ہیں اور انہی کی کوششوں سے اقوام متحدہ میں یوگا کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا گیاتھا۔

جس میں بھارتی فرقہ پرست وزیراعظم اور آر ایس ایس کے پرچارک نریندر مودی نے اہم کردار ادا کیا۔ مودی حکومت بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور یوگا کا عالمی دن منانے کے پیچھے بھی حکومت کا یہی مقصد کارفرما رہا۔

وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے اقتدار کے پہلے سال میں 27 ستمبر 2014ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 69ویں سیشن میں خطاب کیا جس میں انہوں نے بین الاقوامی برادری سے عالمی یوگا کے انعقاد کی اپیل کی تھی۔ 11 دسمبر کو جنرل اسمبلی نے اس تجویز کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا جبکہ 21 جون کو عالمی یوگا ڈے منانے کی تجویز کو تسلیم کیا۔

بھارت کی موجودہ سرکار چانکیہ کے نقش قدم پر چل رہی ہے اس کی دو واضح پالیسیاں ہیں اول تو یہ کہ ان تمام جھوٹے وعدوں کو بھارتی عوام کے ذہنوں سے صاف کر دے جو مودی نے الیکشن کے دوران کئے تھے تاکہ ہندوستانی خود کو ٹھگا ہوا محسوس نہ کریں اور مودی مودی کرتے رہیں۔

دوسرا یہ کہ ہندو اکثریتی طبقہ کے ذہنوں میں ’’ہندوتوا‘‘ کے مفروضے کا اس طرح پرچار کیا جائے کہ ان کو لگے کہ اب وہ ایک ’’ہندو دیش‘‘ کے شہری ہیں اور ہندو سنسکرتی دنیا میں سب سے اعلیٰ ہے اور ہندو عوام کو یہ فضیلت سنگھ پریوار اور مودی کے طفیل ہی سے مل سکی ہے۔

ان دونوں مذکورہ پالیسیوں کو ہندوستانیوں کے دل و دماغ میں متواتر پختہ کیا جا رہا ہے۔ ویدک کال میں جنگی جہازوں کا استعمال اس قدیم دور میں جدید میڈیکل سائنس کی کرشماتی سرجری سے بھی زیادہ پیچیدہ آپریشن اور اب یوگا کی اچانک اس قدر تبلیغ۔ الیکشن کے دوران نریندر مودی باقاعدہ اعلان کیا کرتے تھے کہ ’’انہیں خود بھگوان نے بھیجا ہے اس دیش کا کلیان کرنے کے لئے۔‘‘

پچاس سال قبل امریکہ اور یورپ سے سیاح کثیر تعداد میں بھارت آنے شروع ہوئے‘ وہ سادھوؤں‘ کو کسی اور دنیا کی مخلوق سمجھتے تھے اور ان کو سمجھنے کے لئے ان کے آشرموں میں قیام کرتے تھے۔

ان سادھوؤں‘ کی سیوا کرتے اور بدلے میں تین چیزیں ساتھ لے جاتے بھنگ‘ گانجا اور یوگا۔ ان سیاحوں کے رشی کیش‘ ہری دوار کے آشرم ہی ٹھکانے تھے جہاں ہندو یوگی اور سادھو چلم کے کش کے ساتھ روان تقسیم کرتے تھے۔

ان لوگوں نے امریکہ اور یورپ میں بھی آشرم قائم کئے اور لوگوں کو یوگا کی تعلیم دینے لگے جن سے کروڑوں ڈالر کی کمائی ہوتی ہے۔ہندو دھرم میں تمام علوم کا سرچشمہ وید ہیں اور ویدوں کے عالم اور تخلیق کاروں نے یہ سسٹم ایجاد کیا ۔

اس لئے مختلف آسنوں کے دوران مختلف دیوتاؤں سے شکتی اور صحت کی پرارتھنا کی جاتی ہے‘ ان کی تعریف کی جاتی ہے۔ سوریہ آسن میں سورج کے سامنے ڈنڈدت کیا جاتا ہے۔ منتر اور اشلوک پڑھ کر ان سے مدد کی درخواست کی جاتی ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...