ملازمت پیشہ خواتین سے شادی

ملازمت پیشہ خواتین سے شادی
ملازمت پیشہ خواتین سے شادی

  


لڑکیوں کے رشتے طے کرتے ہوئے یہ بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ دولہا کماؤ پوت ہو۔ ایک عرصے سے ایسا ہی چلا آرہا ہے، لیکن حقوق نسواں کے میدان میں آتے ہی خواتین نے بھی ’’کماؤ پوت‘‘ بننا شروع کردیا ہے۔ وہ بھی معاشی ترقی میں مردوں کے شانہ بشانہ نظر آنے لگی ہیں۔

اس تبدیلی کے بعد رشتوں ناتوں میں تبدیلیوں کا عمل شروع ہوا تھا، جو خوب سے خوب تر ہوتا جارہا ہے، رشتے طے کرتے ہوئے دیگر بہت سی خواہشات کے ساتھ یہ خواہش بھی جاگنے لگی اور کی جانے لگی کہ لڑکی برسرِ روزگار ہو۔

معاشیات کا دور ہے کون ہوگا، جو اس معاشی ترقی میں پیچھے رہنا چاہتا ہے، ہر فرد زیادہ سے زیادہ ترقی کرنا چاہتا ہے، بے حساب ترقی۔ ایسے میں اگر خاندان کی معاشی گاڑی کو محض ایک پہیے سے چلانے کی کوشش کی جائے تو لامحالہ وہ رفتار نہیں ہوسکتی جو دو پہیوں والی طاقت سے ہوگی، لہٰذا یہ خواہش نظر آنے لگی ہے کہ خواتین کوبھی کماؤ پوت ہونا چاہیے، اس کا اضافی فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ہر دو ایک دوسرے کے دکھ درد کو زیادہ بہتر محسوس کرسکتے ہیں اور نسبتاً زیادہ قریب ہوں گے۔ ذہنی ہم آہنگی دوسرے جوڑوں سے زیادہ ہوگی وغیرہ۔

ہمارے ہاں اس کے تمام ترتفکرات ظاہر ہے، دیسی نہیں ہیں، مغرب سے درآمد کئے گئے ہیں، اس درآمدگی کے بعد ہم نے پلٹ کر نہیں دیکھا کہ مغرب میں کیا ہورہا ہے اور وہاں کیا کہا جارہا ہے؟

معروف انگریزی جریدے کے شمارے میں دلچسپ مضمون پر نظر پڑی۔ اس مضمون کے لکھنے والے مائیکل نوئر ہیں، مضمون کا عنوان ہے ’’ملازمت پیشہ خواتین سے شادی مت کرو‘‘۔۔۔ مضمون کی ابتدا ہی وہ اس نصیحت سے کرتے ہیں کہ خوبصورت یا بدصورت لمبی یا چھوٹے قد والی، کالی یا گوری، موٹی یا دبلی غرض کسی بھی عورت سے شادی کرلینا، لیکن کبھی کسی ملازمت پیشہ خاتون سے شادی مت کرنا، کیوں؟

اس لئے کہ بہت سارے معاشرتی سائنس دان یہ سمجھتے ہیں کہ ملازمت پیشہ خواتین سے شادی کے بعد آپ کی شادی شدید قسم کے خطرات سے دو چار رہتی ہے۔

نوئر لکھتے ہیں کہ ہر فرد واقف ہے کہ شادی شدہ زندگی کے اپنے تناؤ ہیں، لیکن جدید مطالبات بتاتے ہیں کہ ملازمت پیشہ خواتین میں طلاق کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے۔

نہ صرف یہ کہ ان کی جانب سے طلاق کا مطالبہ ہونے کا زیادہ امکان ہے، بلکہ اس امر کا امکان بھی زیادہ ہے کہ وہ دھوکہ نہ دیں، انہیں بچوں کا ہونا زیادہ اچھا نہیں لگتا، اگر کسی طور پر بچے ہو بھی جائیں تو اس کا امکان ہے کہ وہ خوش نہیں رہتیں۔ یہ کوئی اچھا رزلٹ نہیں ہے، خاص طور پر مردوں کے لئے یا ان مردوں کے لئے جو کامیاب ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے، وہ ایسی ہی خواتین میں دلچسپی محسوس کریں گے جو ان کی طرح کے خیالات رکھتی ہوں اور کیوں نہ ہو، آخر آپ کی ملازمت پیشہ منگیتر ایک پڑھی لکھی، سمجھ دار جدید دنیا سے واقف ہے، ظاہر ہے یہ سب کچھ بہت عمدہ ہے، ٹھیک۔

لیکن صرف اس وقت تک جب تک آپ شادی نہیں کرلیتے۔ اب ذرا حقائق کی دنیا میں آجائیں، خاتون جتنی کامیاب ہوگی، وہ اتنا ہی آپ سے غیر مطمئن ہوگی، یہ جملہ بہت سے افراد کو حسب حال لگتا ہے، ایک کامیاب ازدواجی زندگی کے بہت سے عوامل ہوتے ہیں، یہاں تک کہ آپ کی نصف بہتر کے والدین کی ازدواجی زندگی بھی، اگر ان میں علیحدگی ہوچکی ہے تو اس کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے کہ ان کی بیٹی بھی ایسا کرسکتی ہے۔

بہت سی ملازمت پیشہ خواتین بہت عمدہ ملازمت کے ساتھ بہت عمدہ ازدواجی زندگی بھی گزار رہی ہیں، ان خواتین سے جو غیر ملازم پیشہ ہیں، جو صرف گھر چلاتی ہیں، گھر کے کام کاج میں مصروف رہتی ہیں۔

یہ خیال رہے کہ میں کسی ہائی سکول کی لڑکی یا ہائی سکول تک پڑھی ہوئی خاتون کی بات نہیں کررہا۔ ہماری ملازمت پیشہ لڑکی یونیورسٹی تک یا اس سے بھی زیادہ تعلیم یافتہ ہے، جو ایک ہفتے میں 40گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ ملازمت کرتی اور گھر سے باہر رہتی ہے، بے شمار واقعات یہ نتیجہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان سے شادی زیادہ بہتر نہیں ہوسکتی، اگر یہ ملازمت چھوڑ دیں، گھر میں رہ کر بچوں کی پرورش کریں تو ناخوش رہتی ہیں، اس وقت بھی خوش نہیں ہوتیں جب یہ آپ سے زیادہ پیسے کمانے لگ جائیں، نیز اگر یہ آپ سے زیادہ آمدنی کی حامل ہوجائے تو یہ بات آپ کو پسند نہیں آتی۔

اس کا زیادہ امکان ہے کہ خدانخواستہ آپ بیمار ہو جائیں، یہاں تک آپ کا گھر بھی گندہ رہتا ہے، کیوں ایسا کیوں ہوتا ہے، اس حقیقت کے ساتھ ملازمت، عورت اور شرح طلاق میں براہ راست تعلق ہے۔

یہ ایک پیچیدہ اور متنازعہ مسئلہ بھی ہے، زیادہ تر دلائل کا تعلق معاشی نظریات سے ہے اور تھوڑا بہت کامن سنس سے۔ کلاسیکل معیشتوں میں یا روائتی معاشروں میں عام طور پر گھر سے باہر کا کام مرد کیا کرتا ہے اور ذریعہ معاش اور آمدنی کے معاملات اس کی ذمہ داری ہوتے ہیں، جبکہ عورت باہر کی ذمہ داریوں سے علیحدہ ہوکر گھر اور بچوں کو دیکھتی ہے، جب شادی شدہ افراد اپنے اپنے دائروں اور کاموں سے باہر آنے لگیں یا ان میں کمی پیشی کے مرتکب ہوں یا مثال کے طور پر دونوں میاں بیوی ملازمت کرنے لگ جائیں تو ان کی شادی کی کل ویلیو دونوں کے لئے کم ہو جائے گی، کیونکہ جو کام کیا جانا تھا، دونوں اس میں کمی لائے، اس سے دونوں کی زندگی مشکل ہو جاتی ہے اور طلاق کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

سروے آف انکم اینڈ پروگرام پارٹی آپ نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ جنس، کام کے اوقات اور شرح طلاق پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے،جو خواتین بہت زیادہ وقت ملازمت کو دیتی ہیں، ان میں شرح طلاح اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے، مردوں کی ملازمت کے زیادہ ٹائم سے کوئی فرق نہیں پڑتا، شادی پر اثر انداز ہونے والا ایک امر یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنی بیوی کو یا منگیتر کو دفترکے کسی صاحب کے ساتھ دیکھ لیا اور غلط فہمی یا صحیح فہمی میں مبتلا ہوگئے یا خود خاتون کو ہی 12-8 گھنٹے کسی اور صاحب یا صاحبان کے ساتھ گزار کر اپنے شوہر سے زیادہ ذہنی ہم آہنگی والا کوئی فرد مل گیا، ان عوامل کی بنیاد پر بھی ملازمت پیشہ یا کارپوریٹ خواتین میں شرع طلاق بڑھ جاتی ہے۔ ہم عمومی طور پر دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں ملازمت پیشہ خواتین میں شرع طلاق مغرب کے مقابلے میں کم نظر آتی ہے۔

ہماری روایات اور اقدارمیں بہت کچھ باقی ہے، ان روایات کے سبب اگرچہ ہماری ملازمت پیشہ خواتین کو ملازمت کے بعد گھر کی اور بچوں کی تمام تر ذمہ داریاں انجام دینا پڑتی ہیں، لیکن وہ اس کو خوش دلی سے انجام دیتی ہیں۔

ایک مطالعے کے مطابق پاکستانی ملازمت پیشہ خواتین کی اکثریت88فیصد اپنی ملازمتوں کو مارے باندھے جاری رکھے ہوئی ہیں، ان خواتین میں اساتذہ شامل نہیں، انہیں باہر کی دنیا کا تجربہ کرلینے کے بعد گھر کی رانی بن کر رہنا زیادہ پسند ہوتا ہے، لیکن یہ بھی تجربہ ہے کہ ملازمت پیشہ خواتین کو مشرقی روایات کے عین مطابق دفتر میں بھی اور گھر میں بھی ایک خاص عزت، مقام، مان اور مرتبہ ملتا ہے، جس کا مغرب میں تصور محال ہے، ہمارے ہاں بھی تعلیم اور ملازمت شادیوں میں رکاوٹ اور شرع طلاق میں اضافے کا سبب ہے، لیکن صبر، عمل، تربیت، روایات، رشتے داریاں اور بچوں کا اٹوٹ رشتہ اس بندھن کو ایک مالا میں پروئے رکھتا ہے۔ ان تمام مشکلات کے باوجود یہ میرے معاشرے کی عظمتِ اسلام ہے، سلامتی ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...