نواز،شہبازکی سیاست!

نواز،شہبازکی سیاست!
نواز،شہبازکی سیاست!

  


اس للکار کا مخالفین کے پاس کوئی جواب نہیں کہ مسلم لیگ (ن) نے پنجاب کو سنوار دیا مگر عمران خان نے کے پی کے اور آصف علی زرداری نے سندھ کے لئے کیا کیا؟

گزشتہ روز خواجہ سعد رفیق ڈنکے کی چوٹ پر کہہ رہے تھے کہ لاہور، کراچی سے بہت پیچھے تھا ، آج کہیں آگے چلا گیا ، پشاور کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔بیشک خواجہ سعد رفیق کا کہا سچ ہے،مسلم لیگ (ن)کا بڑے سے بڑا مخالف بھی اس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو عوامی خدمت کا جنون ہے اور یہ جنون انہیں مجبور کیے رکھتا ہے کہ خود ٹِک کر بیٹھنا ہے اور نہ سرکاری مشینری کو بیٹھنے دینا ہے ، کام کرنا ہے اور دن رات کرنا ہے۔

میاں نوازشریف کا کردار اس سے بھی بڑا ہے، بطور وزیراعظم وہ صرف چار سال میں پاکستان کو دنیا کی بڑی معیشتوں کی پہلی قطار میں لے آئے ہیں،مگر افسوس کہ یہاں ہر اُڑنے والے کے پر کاٹنے کا پرانا رواج ہے ،آج نوازشریف وزیراعظم نہیں لیکن ان کا نام اور کام ہرجگہ گونجتا ہے ،ثبوت یہ ہے کہ پی ٹی آئی ، پی پی پی ،مسلم لیگ (ق)اور عوامی تحریک لاہور جیسے بڑے تاریخی شہر میں مشترکہ جلسہ کرتی ہیں تو کرسیاں خالی نظر آتی ہیں ،پوری دنیا کا میڈیا ہنستا ہے جبکہ دوسری جانب نوازشریف اور مریم نوازجڑانوالہ جیسے پسماندہ علاقہ میں جلسہ کرتے ہیں تو عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ان کے ساتھ ہوتا ہے ،یقیناًعوامی خدمت کا جذبہ جن دلوں میں ہو ،عوام ان دلوں کو اپنے دل میں بسا لیتے ہیں اور جو سیاستدان صرف بڑھک بازی سے کام لیتے ہیں،عوام انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں ،یہ سب ’’جی نوں جی‘‘ کا قصہ ہے ،جبکہ نوازشریف اور شہباز شریف کی مقبولیت دیکھ کر ہمیں اپناپنجابی شعربہت یاد آتا ہے ۔

جھلیا ! جی نوں جی ہوندی اے

ہور محبت کیہ ہوندی اے

یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ مخالفین سابق وزیراعظم نوازشریف کو سزا دلوانے کی بات ایسے کرتے ہیں جیسے عدلیہ کے ’’پی آر او‘‘ ہوں،بے شک لیڈر وہ نہیں ہوتا جو اقتدار کے محلات میں بیٹھ کر مخالفین کے لئے سازشوں کا جال بنتا رہے ،اصل ہیرو وہ ہوتے ہیں جو اقتدار کو عوام کی دہلیز پر لے آئیں ۔

موٹر ویز ،ایکسپریس ویز ،میٹرو بس سروس ،اورنج ٹرین اور سی پیک جیسا تاریخی منصوبہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جو لیڈر کام کرنا جانتے ہیں وہ دن رات ایک کرکے عوام کے خوابوں کو تعبیر دیتے ہیں ،دوسری جانب کراچی میں لیاری ایکسپریس کا منصوبہ دس سالوں میں مکمل ہونا سندھ حکومت کی سستی ،کاہلی ،کام چوری ،کرپشن اور عوامی خدمت کے جذبے سے ناآشنائی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

ہم بدبختی اور خوش بختی کے بیچ سفر کرنے والے مسافر ہیں ،ایک طرف جذبہ جنون سے سرشار لیڈر ہیں جن کے آگے بڑھتے قدم روکنے کے لئے انہیں ’’نااہلی‘‘ کی زنجیر پہنائی جاتی ہے اور دوسری جانب بیہودہ، بدتمیزسیاسی لیڈر شپ ہے جسے پارلیمنٹ پر لعنتیں بھیجنے ،بڑھک بازی سے لبریز تقریریں کرنے اور دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے کیلئے کھلا چھوڑ دیا گیا ہے ، افسوس ہے تو اس بات کا کہ میاں شہبازشریف دنوں میں زینب جیسی معصوم ننھی کلی کے قاتل تک پہنچ جاتے ہیں مگر کوئی زرداری اپنے راؤ انواروں کا پیچھا کرتا ہے اور نہ کوئی خان، مردان کی معصومیت کا گلا کاٹنے والے بدمعاشوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اعلان کیا ہے کہ جنرل الیکشن رواں سال جولائی میں ہونگے ،وزیراعظم نے اس عزم کا بھی اظہار کیا ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ کی مدت پوری ہونے سے پہلے اسمبلیوں کو برخاست نہیں کیا جائے گا ،وزیراعظم کا گلہ یہ بھی ہے کہ یہاں عدلیہ اور میڈیا آزاد نہیں ،جناب شاہد خاقان عباسی کو شکوہ یہ بھی ہے کہ یہاں پارلیمنٹ کا تقدس نہیں ،کوئی اسے توڑ نے کے خواب دیکھ کر اس کی تذلیل کر رہا ہے اور کوئی اس پر لعنت بھیج کر اس کے ادب و احترام اورعظمت کو زیر کرنا چاہتا ہے،بیشک جنرل الیکشن میں ایک بار پھر دودھ کا دوھ اور پانی کا پانی ہونے والا ہے ، نوازشریف نے عوام کی عدالت میں جانا ہے اور عوام نے انہیں ایک بار پھر بھاری اکثریت سے اہلیت کے درجہ پر فائز کرنا ہے،اقتدار کی مسند انہی کیلئے سجائی جانی ہے جو عوام کے دلوں پر راج کرتے ہیں ۔

عوامی خدمت میں دن رات ایک کرنے والے نواز،شہباز میں سے ہی کسی ایک نے وزارتِ عظمیٰ کی باگ ڈور سنبھالنی ہے، اب وہی ہوگا جو عوام کی خواہش ہے ،وہی سرخرو ہوگا جس کو عوامی پشت پناہی حاصل ہوگی ۔

آخر میں عرض ہے تو بس اتناکہ ملکی تاریخ میں پہلی بار عوامی شعور پر ایسا وقت آیا ہے کہ وہ نہ صرف اچھے اور برے کی تمیز کر سکے بلکہ اپنی بات پر پہرہ بھی دے سکے ،سوشل میڈیا ایسی طاقت ہے جو عوام کے اپنے ہاتھ میں ہے ،سوشل میڈیا سے وابستہ نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جولائی تک جاگتے رہیں ،عوامی بیداری کے پل پل گواہ رہیں اور جنرل الیکشن کے آخری بیلٹ بکس اور آخری ووٹ کی گنتی تک اپنے فیس بک ،ٹویٹر،انسٹاگرام اور یوٹیوب اکاؤنٹس کوسائن آؤٹ نہ کریں۔

مزید : رائے /کالم


loading...