مستحکم جمہوریت کی طرف پہلا قدم

مستحکم جمہوریت کی طرف پہلا قدم
مستحکم جمہوریت کی طرف پہلا قدم

  


سینٹ کے انتخابات کا شیڈول آگیا ہے، وقت آنے پر عام انتخابات کا شیڈول بھی آجائے گا، سب کام شیڈول کے مطابق ہوتے جائیں گے، جو ہلچل نظر آرہی ہے، وہ خود ساختہ ہے اور خود بخود ختم ہوتی چلی جائے گی۔

بہتر تو یہی ہوگا کہ سیاسی لوگ اور سیاسی قوتیں بے پر کی نہ اڑائیں اور نہ ہی کوئی ابہام پیدا کریں، اب کوئی انہونی نہیں ہونے والی، وہ دن ہوا ہوگئے جب تھوڑی سی ہلچل بھی جمہوریت کے لئے خطرہ بن جاتی تھی، اب چاہے جتنا بھی خطرہ بنتی جائے، کسی ادارے نے اپنی حدود سے باہرنہیں نکلنا۔

نہ تو اسمبلیاں وقت سے پہلے ٹوٹیں گی اور نہ نگران حکومتیں آئینی مدت سے زائد بنیں گی، یہ سارے کھیل تماشے وقت گذارنے کے لئے تھے، اپنے آپ کو سیاسی طور پر زندہ رکھنے کے لئے افواہیں بھی اڑائی جاتی رہیں اور غیر آئینی تبدیلی کے اشارے بھی تلاش کئے جاتے رہے،مگر ہوا کچھ بھی نہیں۔

اب صرف چند ماہ باقی رہ گئے ہیں، جس کے بعد جمہوریت نئے سرے سے پانچ سال کے لئے کمر باندھ لے گی۔

عوام کو بھی اب سمجھ آجانی چاہئے کہ انہیں بہکانے اور دل کے بہلانے کو یہ شوشے چھوڑے جاتے ہیں کہ حکومت جارہی ہے۔ اس بار جو ساڑھے چار سال گذرے ہیں، وہ اتنے ہوشر با تھے کہ کچھ بھی ہوسکتا تھا، مگر کچھ بھی نہیں ہوا، حتیٰ کہ درمیان میں وزیراعظم کی تبدیلی بھی جمہوریت کا کچھ نہیں بگاڑ سکی، اب اس سے زیادہ جمہوریت کا استحکام اور کیا ہے۔

اس دوران امپائر کے اشاروں کی بات ہوتی رہی، انگلی اٹھنے کا تذکرہ کیا گیا، جوڈیشل مارشل لاء کی بات ہوئی، مگر عملاً کچھ بھی نہیں ہوا۔ بظاہر کمزور نظر آنے والا نظام مزید مضبوط ہوگیا۔

وقت نے ثابت کیا کہ جن کی بابت شبہ تھا، یعنی فوج اور عدلیہ، انہوں نے ہی جمہوریت کو پہلے سے زیادہ مضبوط کردیا۔آج یہ بات محاورتاً نہیں، بلکہ حقیقتاً ایک بڑی سچائی ہے کہ کوئی جمہوریت کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔

یہ ایک مثبت فضا ہے، مگر اس میں نواز شریف کا بیانیہ بے وقت کی راگنی نظر آرہا ہے۔ وہ اپنے خلاف آنے والے فیصلے میں جمہوریت کے خلاف سازش تلاش کررہے ہیں، کیسی سازش؟

کیا ملک میں جمہوریت ختم ہوئی، کیا پارلیمنٹ کی بساط لپیٹ دی گئی، کیا ملک میں غیر آئینی حکومت قائم ہوگئی؟ ایک فیصلہ آیا اور اس میں آئین و قانون کی عملداری کو برقرار رکھا گیا، اس میں اپیل کا حق بھی استعمال کیا گیا اور تمام قانونی تقاضے بھی پورے کئے گئے، سب کچھ آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر کیا گیا، پھر اسے جمہوریت کے خلاف شب خون کیسے کہا جاسکتا ہے؟

پھر یہ کیوں کہا جارہا ہے کہ ایسے فیصلے عوام اٹھا کر باہر پھینک دیں گے؟ جمہوریت تو چل رہی ہے اور چلتی رہے گی۔ یہ جمہوریت ہی کی دین ہے کہ نواز شریف پر کوئی قدغن نہیں لگائی گئی، وگرنہ وہ خود جانتے ہیں کہ جب آمریت میں ان کے خلاف فیصلہ آیا تھا تو انہیں ملک بھی چھوڑنا پڑا تھا اور اپنا گھر بار بھی، سب کچھ چھین لیا گیاتھا اور چند بیگ دے کر ملک سے رخصت کردیا گیا تھا۔ اب اگر حالات بدل گئے ہیں، جمہوریت مضبوطی کے ساتھ چل رہی ہے تو اس کی تعریف کی جانی چاہئے۔

یہ انہی عدالتوں کی وجہ سے تو ہے، جنہوں نے یہ تہیہ کررکھا ہے کہ اب کسی غیر آئینی تبدیلی کو نظریہ ضرورت کا لبادہ نہیں پہنانا۔ نواز شریف اس صورت حال کو سپورٹ کرنے کی بجائے اس کے خلاف چل رہے ہیں، عدلیہ کو معتوب قرار دے رہے ہیں اور جمہوریت کی کمزوری کا نزلہ عدلیہ پر گرا رہے ہیں، جو موجودہ صورت حال میں بالکل غیر منطقی بات نظر آتی ہے۔

اب بھی کچھ سیاستدان ایسے ہیں جو بروقت انتخابات کے انعقاد کومشکوک قرار دے رہے ہیں۔ ابھی کل ہی شیخ رشید نے یہ بیان دیا کہ انہیں بروقت اتنخابات ہوتے نظر نہیں آرہے۔ ایسی بے پر کی اڑانا کسی سیاستدان کو زیب نہیں دیتا۔

سوال یہ ہے کہ انتخابات کیوں نہیں ہوں گے، کیا رکاوٹ ہے جو انہیں نظر آرہی ہے؟ حلقہ بندیاں ہورہی ہیں، ووٹر لسٹیں بن چکی ہیں، نئی مردم شماری کے تقاضے پورے کر لئے گئے ہیں، الیکشن کمیشن انتخابات کے لئے تیار ہے، سیاسی جماعتیں بھی چارج نظر آتی ہیں، فوج اور عدلیہ بھی شفاف انتخابات کے حق میں اپنی پوری حمایت وقف کئے ہوئے ہیں۔

یہ سب کچھ تو اس امر کا عہد ہے کہ حد درجہ سیاسی انتشار کے باوجود ہماری جمہوریت استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اب سیاستدانوں میں بھی میچورٹی آجانی چاہئے۔

مسلم لیگ (ن) کو بھی زمینی حقائق تسلیم کرکے جمہوریت کے سفر میں خود کو شامل رکھنا چاہئے۔ ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ نواز شریف کے خلاف نیب کیسوں کا کیا بنے گا؟

شہباز شریف کو آج کل نیب جو نوٹس پر نوٹس بھیج رہی ہے، وہ کیا گل کھلائیں گے، مریم نواز یا شہباز شریف میں سے کون پارٹی کی سربراہی کرے گا، اگلے وزیراعظم کے لئے دونوں میں سے کس کی لاٹری نکلے گی؟ یہ ایشوز زیادہ اہم ہیں، چہ جائیکہ صرف نواز شریف کی نا اہلی کے ایشو کو لے کر وہ بیانیہ اختیار کیا جائے جو بروقت انتخابات کے انعقاد کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ جو لوگ یہ کہتے تھے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو سینٹ انتخابات سے پہلے فارغ کردیا جائے گا، کیونکہ سینٹ میں مسلم لیگ (ن) کی اکثریت بعض طاقتوں کو منظور نہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے وزراء اسی نکتے کو اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کا منبع قرار دیتے تھے، مگر یہ سب مفروضے غلط ثابت ہوئے، انتخابات وقت اور شیڈول کے عین مطابق ہورہے ہیں اور آئین کے تحت پارلیمنٹ کا ایوان بالا نئے خون کے ساتھ میدان میں آنے والا ہے۔

انتخابات کا وقت پر تسلسل کے ساتھ انعقاد جہاں جمہوریت کو استحکام بخشتا ہے، وہیں کئی خرابیاں بھی دور کردیتا ہے۔ ماضی کے تجربات گواہ ہیں کہ ہم نے جب بھی نگران حکومتیں بنا کر انتخابات سے پہلے احتساب کا نعرہ لگا کر الٹی گنگا بہانے کی کوشش کی تو حاصل کچھ نہیں ہوا، البتہ ہم جمہوریت کو مزید کمزور ضرور کر بیٹھے۔

اب بھی ایسے کسی تجربے کی کوئی گنجائش موجود نہیں، جو کچھ ہونا ہے، آئین کے تحت ہونا ہے۔ سب سے زیادہ توجہ انتخابات کو شفاف بنانے پر دی جانی چاہئے، کیونکہ عوام کا فیصلہ کبھی غلط نہیں ہوتا۔ اس میں خرابیاں اس وقت آتی ہیں، جب دھاندلی یا نظریہ ضرورت کے تحت عوام کی رو کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اگر انتخابات شفاف اور غیر جانبدارانہ ہوں تو منتخب ہونے والے نمائندے بھی اچھے ہوتے ہیں، اگر وہ دھاندلی یا ریاستی اداروں کے جوڑ توڑ سے اسمبلی میں پہنچیں تو کبھی جمہوریت اور عوام دوست ثابت نہیں ہوسکتے۔

آنے والے انتخابات میں سماں باندھنے کے لئے ہر بڑی سیاسی جماعت کے پاس انتخابی مہم چلانے کے لئے بہت کچھ ہے۔ مسلم لیگ (ن) اگر چاہے تو صرف لوڈشیڈنگ کے خاتمے کو ہی اپنا بنیادی نکتہ بنا سکتی ہے، لیکن مجھے خطرہ ہے کہ اس کی بجائے نواز شریف کی نا اہلی کے ایشو پر انتخابی مہم چلائی جائے گی۔

ظاہر ہے اس نکتے پر انتخابی مہم چلائی گئی تو عدلیہ کو اسی طرح تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا۔ جیسے آج کل نواز شریف اور مریم نواز انتخابی جلسوں میں بنا رہے ہیں۔

اس کا بڑا نقصان یہ ہوگا کہ انتخابی مہم مثبت کی بجائے منفی نکات پر چلائی جائے گی، جس کے ہماری جمہوریت اور سیاست پر اچھے اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

تحریک انصاف کے پاس تو آئندہ انتخابات میں کرپشن کا ایک بڑا ایشو ہے۔ جسے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں کے خلاف استعمال کیا جاسکے گا، لیکن یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ عوام اب صرف الزامات ہی نہیں مانگتے اپنے مسائل کا حل بھی چاہتے ہیں۔

جب تک تحریک انصاف نئے پاکستان کے لئے ایک مربوط اور منظم منشور نہیں بناتی، عمران خان کی تقریریں کوئی بہت بڑا فکری انقلاب برپا نہیں کرسکتیں۔

جہاں تک پیپلز پارٹی کی بات ہے تو اس نے بھی اس بات پر توجہ دی ہوئی ہے کہ پیپلز پارٹی خاص طور پر پنجاب میں ایسے سیاسی لوگ اپنی صفوں میں شامل کرے جو انتخابات جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

آصف علی زرداری اس مشن پر نکلے ہوئے ہیں۔ بہرحال یہ بات طے ہے کہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف دونوں ہی بیک وقت پیپلز پارٹی کا ہدف ہوں گی اور یہ حضرات خود سیاسی حوالے سے ایک بہت اچھا ہدف ہیں کہ ان دونوں کا تعلق پنجاب سے ہے، جبکہ پیپلز پارٹی سندھ سے تعلق رکھتی ہے، اور جنوبی پنجاب میں بھی اس کا گہرا اثر ہے۔

میں اپنے اس رجائی نظریے کو بہت اہمیت دیتا ہوں کہ ہم ایک مستحکم جمہوریت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ مستحکم جمہوریت شاید اس حوالے سے تو اتنی بارآور نہیں کہ عوام کی امیدوں پر پورا اتر سکے، البتہ اس حوالے سے یقیناً استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے کہ ریاست کے کلیدی اداروں نے اسے ملک و قوم کے لئے ناگزیر قرار دے دیا ہے۔ پچھلے ستر برسوں سے ہم یہ پہلا قدم ہی نہیں اٹھا پا رہے تھے، اب بطور ریاست یہ پہلا قدم اٹھا کر ہم اس منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں، جسے اندیشہ زوال نہیں اور پاکستان کی خوشحالی سے عبارت ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...