عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد

عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد
عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد

  


پاکستان میں واقعی کافی کچھ بدل چکا ہے لیکن کیا یہ تبدیلی مثبت پہلوؤں کی ذیل میں آئی ہے یا اس میں منفی اثرات نمایاں ہو کر سامنے آئے ہیں، اس سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

میڈیا پر ہر روز عدالتیں لگتی ہیں، شہادتیں اور گواہان پیش ہوتے ہیں،جرح ہوتی ہے اور ایسی ہوتی ہے کہ اللہ دے اور بندہ لے۔ لیکن بات وہی ہوتی ہے جو میری والدۂ مرحومہ نے پہلی اور آخری فلم دیکھنے کے بعد کہی تھی۔

سکول کے زمانے میں ہم بھائی چوری چھپے فلمیں دیکھا کرتے تھے، والدین سے جھڑکیاں اور گالیاں کھاتے تھے مگر باز نہیں آتے تھے۔ پھر جب کالج میں گئے اور کچھ کچھ وافر عقل و شعور کا دعویٰ کرنے لگے تو ایک بار گھر آکر والدہ کو عرض کیا کہ ہماری خاطر ایک بار آپ کوئی فلم دیکھ تو لیں۔

خدا پر اگرچہ بغیر دیکھے ایمان لانا پڑتا ہے لیکن اس قسم کی کوئی پابندی فلمی خداؤں پر نہیں۔ ان کو دیکھیں تو سہی۔ چنانچہ ایک دن بہلا پھسلا کر ہم ان کو سنیما ہاؤس میں لے گئے۔ وہ سفید ٹوپی والا خیمہ نما برقعہ پہنتی تھیں۔

بڑی مشکل سے ان کا ہاتھ پکڑ کر سنیما کی سیڑھیاں عبور کروائیں اور ایک باکس میں جا بیٹھے۔ فلم کا نام بھی اب یاد نہیں رہا اور کاسٹ بھی۔ لیکن وہ بلیک اینڈ وائٹ فلموں کا دور تھا۔ ہیروئن خوبصورت اور ہیرو خوبرو ہوا کرتے تھے۔

سٹوری میں چاروں مغز شامل ہوتے تھے یعنی جذبات کے اتار چڑھاؤ کے لئے غم، خوشی، غصے، لڑائی اور مارکٹائی کے مناظر، ہر 15منٹ کے بعد ایک گیت جس میں مختلف جذبوں کا اظہار ہوتا ۔

یہ سارے مناظر اس قدر حقیقی نظر آتے کہ سنیما ہال میں بیٹھے تماشائیوں پر ان کے اثرات بچشم و گوشِ خود دیکھے اور سنے جا سکتے تھے۔ جو فلم اس دن دیکھی اس کے آخری سین میں ہیروئن فوت ہو جاتی ہے اور ہیرو بھی اس کی جدائی میں کسی کنویں میں چھلانگ لگا کر اپنے آ پ کو ختم کر لیتا ہے۔ سکرین پر The End کے الفاظ لکھے نظر آتے ہیں اور اچانک سارا ہال بجلی کے قمقموں سے منور ہو جاتا ہے۔

ہم جب تانگے میں بیٹھ کر واپس آئے تو والدہ کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں۔ہم نے ان کو بتایا کہ وہ دونوں کم بخت زندہ ہیں، آپ غم نہ کریں۔ اگلی کسی فلم میں جلوہ گر ہوں گے تو آپ کو دکھانے لے چلیں گے۔

والدہ نے یہ سن کر فلم پر جو تبصرہ کیا، وہ آج تک نہیں بھولتا۔ فرمانے لگیں: ’’جیلانی! یہ کیسی فلم تھی جس کی تو نے اتنی ’’کھپ‘‘ ڈالی ہوئی تھی، جب باہر نکلے تو کچھ بھی نہیں تھا۔

رونا دھونا، ہنسا مسکرانا وغیرہ صرف اندھیرے ہال کے اندر ہی تھا۔ باہر آنے کے بعد وہی دنیا، وہی سیڑھیاں، وہی تانگے اور وہی سڑکیں!۔۔۔ فلم دیکھنے یا نہ دیکھنے میں آخر کیا فرق ہے؟ کیا اتنے پیسے خرچ کرنا اور اتنا وقت ضائع کرنا اور ویسے کا ویسا ہی باہر آجانا کیا کوئی ایسی خاص چیز ہے جس پر آپ لوگ مرمر جاتے ہیں؟۔۔۔ میں نہ کہتی تھی کہ فلم ایک شیطانی تماشا ہے اور بس!۔۔۔‘‘

سچ پوچھئے تو آج کل کے میڈیا ٹاک شو بھی میری والدہ مرحومہ کے مطابق شیطانی تماشے ہیں۔۔۔ نہ حاصل نہ حصول، نہ فائدہ، نہ وصول ۔۔۔ رات گئے جب ٹی وی آف کرتے ہیں تو ذہن پر ایک منحوس سی پراگندگی چھائی ہوتی ہے اور جب صبح اٹھتے ہیں اور اپنے معمولات پر نگاہ ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کوئی تبدیلی نہیں آئی، قوم وہیں کی وہیں کھڑی ہے، کسی دکھ درد کا مداوا نہیں ہوا، بلکہ درد اور دکھ دونوں پہلے سے سِوا ہو گئے ہیں۔

کیا یہی تبدیلی ہے؟ کیا یہی وہ صبح ہے جس کی نوید ہمارے حکمران دن رات سناتے رہتے ہیں اور ہم بھیڑ بکریوں کی طرح چپ چاپ سن کر خاموشی سے اسی تنخواہ پر کام کرنے لگ جاتے ہیں۔۔۔ گویا دیوانے اور لڑکے بالے اپنی اپنی راہوں پر چلے جا رہے ہیں۔۔۔ سڑکیں اور راستے شیشے اور بلور کے بن چکے ہیں۔۔۔ نہ پتھر، نہ کنکر، نہ ڈھیلے، نہ سنگریزے!۔۔۔

اگر کوئی نئی تبدیلی آئی بھی ہے تو وہ یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ کے فاضل چیف جسٹس نے ایک بڑی جست لگا کر عوام کے بعض دکھوں کا براہِ راست نوٹس لے لیا ہے۔ یہ سووموٹو نوٹس ان کی ذات کے ساتھ مجسم ہو کر دیکھنے میں آ رہا ہے۔

وہ خود ہسپتالوں کا دورہ کررہے ہیں، غریب مریضوں کی حالت زار دیکھ رہے ہیں، ان کو تشفی دے رہے ہیں، میڈیکل ٹیسٹوں والی کئی ناکارہ مشینوں کو تبدیل کرنے کے احکامات جاری کر رہے ہیں۔ کراچی میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی طرف توجہ فرما رہے ہیں۔

بوگس اور جعلی بوتل بند پانیوں کو ناقابلِ نوشیدنی قرار دے رہے ہیں اور اس طرح خلقِ خدا کی صحت کی دیکھ بھال کی سہولتوں کو بہتر بنانے کی تگ و دو میں مصروف نظر آتے ہیں۔۔۔ یہ ساری مصروفیات اور کاوشیں، لائقِ صد ستائش ہیں لیکن پاکستانی قوم کے مفلس اور غریب طبقے کو کہ جو آبادی کی اکثریت پر مشتمل ہے کیا یہی دو عوارض لاحق ہیں؟ اور کیا ان کا نوٹس لینا پاکستان کے چیف جسٹس کا دردِ سر بننے کا سزاوار ہے؟

اگر فاضل چیف جسٹس غور فرماویں تو شائد مجھ سے اتفاق کریں کہ یہ جسمانی عوارض ہیں۔ صحت اور آب نوشیدنی کے مسائل حل ہو بھی گئے تو اس سے کیا فرق پڑے گا؟۔۔۔ یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔۔۔ دل ہمہ داغ داغ شد، پنبہ کجا کجا نہم ۔۔۔ والی بات ہے۔

اصل علاج یہ نہیں کہ لاہور کے ہسپتالوں میں صفائی ستھرائی کی حالت کو بہتر بنایا جائے یا کراچی کے شہریوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کیا جائے۔ اصل علاج یہ ہے کہ ان وجوہات کی ٹوہ لگائی جائے جو ان عوارض کا سبب بنتی ہیں۔ علاماتِ مرض کا علاج ایک عارضی علاج ضرور ہے لیکن دائمی علاج نہیں۔

دائمی علاج کا بندوبست کرنا ہے تو وجوہات کا ’’بندوبست‘‘ کرنا ہوگا۔۔۔ اور یہ ’’بندوبست‘‘ اتنا بڑا کام ہے جس کو،میری ناقص رائے میں، عدلیہ سرانجام نہیں دے سکتی۔ دیکھیں ناں عدلیہ تو احکام جاری کر دے گی۔

تکمیلِ کار کے لئے 72گھنٹوں کی مہلت دے دی گی، یا اس کے لئے کوئی حتمی لمحہ یا لمحوں کا شیڈول بھی جاری کر دے گی۔ لیکن یہ سب احکامات صرف اقوال کے زمرے میں آئیں گے، اعمال و افعال کے زمرے میں نہیں جبکہ ہمارے معاشرے کو اعمال و افعال کی ضرورت ہے۔

اب ذرا اس جانب بھی نگاہ ڈالیں کہ فاضل عدالت نے فیصلہ دے دیا تھا کہ وزیراعظم اس عہدے کے لئے نااہل ہیں۔ ان کو یہ عہدہ چھور کر گھر چلے جانا چاہیے۔ وزیراعظم نے اسی وقت عہدہ چھوڑ دیا۔

یہ احکامات کی من و عن اور فوری تعمیل تھی۔ لیکن افعال کا وقت آیا تو نہ صرف احکامات کی روح گھائل ہو کر سسکنے لگی بلکہ احکامات کو چیلنج کرنے کی ایک لامتناہی اور مسلسل مہم کا آغاز ہو گیا۔ دیکھتے ہیں اب فاضل چیف جسٹس اس کا کیا توڑ کریں گے؟۔۔۔ کہتے ہیں کہ قوتِ حاکمہ اور قوتِ نافذہ میں اگر مقابلہ ٹھن جائے تو نافذہ جیت جاتی ہے اور حاکمہ اگر نہیں بھی جیتتی تو قوم میں خلفشار کی وباء پیدا ہو کر بغاوت کا روپ دھار سکتی ہے۔

کسی بھی مریض کو جب کوئی مرض لاحق ہوتا ہے تو ڈاکٹر صاحب نسخہ لکھ دیتے ہیں۔ میڈیکل سٹور سے دوائی خود مریض نے خریدنی ہوتی ہے اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل بھی کرنا ہوتا ہے۔

اگر مریض دوا تو خریدلے لیکن اس کو استعمال نہ کرے تو کیا اس کا مرض جاتا رہے گا؟ عدالت عظمیٰ کے فاضل جج صاحبان پاکستانی قوم کے مسیحا ضرور ہوں گے لیکن یہ مسیحائی وہ نہیں جو حضرت عیسیٰ کو عطا کی گئی تھی کہ وہ مریض کے جسم پر ہاتھ پھیر کر جذام زدہ حصوں کو شفایاب کر دیا کرتے تھے یا بعض روایات کے مطابق مُردوں کو زندہ کر دیا کرتے تھے لیکن عہدِ حاضر کا مریض تو زیادہ بیمار ہو چکا ہے۔ آج ہماری عدالتوں کے مسیحاؤں کو کسی ایک آدھ مریض کا سامنا نہیں بلکہ پوری قوم مریض بن چکی ہے اور مرض اتنی شدت اختیار کر چکا ہے کہ مسیحاؤں کو علاج کرنے میں ان گنت مسائل و مشکلات کا سامنا ہے:

مشکلے نیست کہ اعجازِ مسیحا داری

مشکل این است کہ بیمارِ تو بیمار تراست

[اس دورکی مشکل یہ نہیں کہ اس میں اعجازِ مسیحائی بڑھ گیا ہے، بلکہ مشکل یہ ہے کہ آج کا بیمار زیادہ بیمار ہو گیا ہے۔]

عدالتیں چھوٹی ہوں یا بڑی وہ اسی وقت کامیابی سے فنکشن کر سکتی ہیں جب ان کے احکامات تسلیم کرکے ان پر عملدرآمد کروانے کی مشینری آمادۂ عمل کر دی جائے۔ اور اگر وہ مشینری ہی کام کرنے سے معذور کر دی جائے تو پھر عدالتیں اپنے فرائض انجام نہیں دے سکتیں۔

آج ہمیں یہی معمہ درپیش ہے۔ دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میں سیاست اور عدالت کے پہلوان آمنے سامنے نہیں ہوتے اور اگر ہوتے بھی ہیں تو سیاست، عدالت کے تابع ہوتی ہے اور ہار مان لیتی ہے۔ لیکن پاکستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔۔۔ ہمارے ہاں سیاستدان ایک طرف ہیں جن کی پشت پر ایک خدائی ہے اور عدالت عظمیٰ دوسری طرف ہے جس کی پشت پر اگر کوئی خدائی ہے بھی تو اس کے پاس قوتِ نافذہ نہیں۔۔۔ جب تک موسیٰ کے ہاتھ میں عصا نہیں ہوگا، وہ کلیمی نہیں کرسکیں گے۔ فاضل عدلیہ کو اقبال کے اس شعر کی روح میں اتر کر سوچنا چاہیے:

رشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کا طلسم

عصانہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد

مزید : رائے /کالم


loading...