10سالوں میں توانائی ضروریات 70فیصد سے زائد بڑھ جائیں گی ، او آئی سی سی آئی

10سالوں میں توانائی ضروریات 70فیصد سے زائد بڑھ جائیں گی ، او آئی سی سی آئی

 کراچی(اکنامک رپورٹر) اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے دعوٰی کیا ہے کہ ملکی انرجی کی ضروریات 10سال میں 70فیصد سے زائد بڑھ جائیں گی جو حالیہ 11 ارب ڈالر سالانہ کی انرجی درآمدات بل میں بھی نمایاں اضافے کا باعث بنیں گی۔تفصیلات کے مطابق منگل کو صدر او آئی سی سی آئی خالد منصور، جنرل سیکریٹری عبدالعلیم اور انرجی سب کمیٹی کے چیئرمین جواد احمد چیمہ نے اسلام آباد میں او آئی سی سی آئی انرجی ریفارمز رپورٹ 2017 کی لانچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تھرکول پروجیکٹ اور پن بجلی کے منصوبوں میں درکار وقت کے سبب پاکستان فی الحال اپنی انرجی کی ضروریات کے لیے درآمدی کوئلے اور ایل این جی پر انحصار کرے گا جس کی وجہ سے عوام اور صنعتوں کو مہنگی انرجی اور سرکلر ڈیٹ جیسے مسائل کچھ سال مزید برداشت کرنا ہوں گے، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات بھی گردشی قرضوں کی موجودگی کا سبب رہیں گے،او آئی سی سی آئی کی انرجی رپورٹ میں تیل، گیس، کوئلے و متبادل انرجی، آئل اینڈ گیس کی تلاش و ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن پر جامع تجویز دی گئی ہیں اور پاور جنریشن، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کو بہتر بنانے کیلیے سفارشات پیش کی گئی ہیں۔صدر خالد منصور نے کہا کہ چیمبر نے یہ رپورٹ وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی، وزیر بجلی اویس احمد خان لغاری اور سینئر سرکاری عہدیداروں کو پیش کر دی گئی ہے،او آئی سی سی آئی کے ممبران کو احساس ہے کہ پاکستان کو انرجی سیکٹر میں کئی چیلنجز درپیش ہیں جن میں انرجی کی قیمت اہم چیلنج ہے جس سے برآمدی صنعتوں کو مسابقت کے مسائل جبکہ دوسری صنعتوں کو کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافے جیسے معاملات کا سامنا ہے، انرجی ریفارمز رپورٹ 2017 اور ممبرز کی جانب سے حکومت کو قابلِ عمل پالیسی تبدیلیاں تجویز کرنے کا مقصد دستیاب وسائل کا بہتر استعمال کرکے انرجی سیکٹر کو معاشی ترقی کی رفتار کے برابر لانا ہے۔

او آئی سی سی آئی نے حکومت کو تجویز دی کہ ملک میں تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عام صارفین کو سستی انرجی ذرائع فراہم کیے جاسکیں، وزارت پٹرولیم کے پالیسی اور ریگولیٹری معاملات کو علیحدہ کیا جائے، ملک میں تیل و گیس کی تلاش کے لائسنس جاری کرنے کے عمل کو تیز کرنے کے ساتھ ٹائٹ گیس، آف شور گیس کی تلاش اور مارجنل فیلڈ پالیسی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں پاور ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن پروجیکٹس کی بروقت تکمیل پر زور دیا گیاتاکہ اضافی بجلی کی بروقت ترسیل کی جا سکے۔اورسیزیز حکام کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ تھر کول بلاک (II)سے بجلی کی ترسیل کے منصوبے کو بھی بروقت مکمل کرنے پر زور دیا گیاکیونکہ تھر سے 2025تک تقریباً 4ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار متوقع ہے۔رپورٹ میں نئی آئل ریفائنریوں کی تعمیر، موجودہ ریفائننگ استعداد میں اضافے، فیول کوالٹی بڑھانے، درآمدی انفرااسٹرکچر کی تعمیر، نقل و حمل ویلیو چین، شفاف پرائسنگ طریقہ کار، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی کوالٹی میں بہتری لانے اور صرف سنجیدہ سرمایہ کاروں کو ڈاؤن اسٹریم سیکٹر میں کام کرنے کی اجازت دینے کی تجاویز دی گئی ہیں۔رپورٹ نے ایل این جی کی درآمدات کو تیز رفتار مگر عارضی حل قرار دیا اور حکومت پر زور دیاکہ وہ مقامی تیل، گیس، کوئلے، شمسی اور ہوا سے بجلی پیداکرنے جیسے ذرائع پر اپناانحصار بڑھائے جبکہ غیرموثر پیداواری صلاحیت والے تیل سے چلنے والے پاور پلانٹس پر سے بھی بتدریج انحصار کم کیا جائے۔ رپورٹ میں نیپرا پر بھی زور دیا گیا کہ وہ لاگت سے مطابقت رکھنے والے ٹیرف یقینی بنائے تاکہ ڈسٹری بیوشن سیکٹر میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے۔رپورٹ میں 2020تک ملک میں انرجی مکس میں بہتری آنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا گیاکہ ملک کاتیل پر سے انحصار کم ہوکر ایل این جی، کوئلے اور متبادل ذرائع پر زیادہ ہوگا، انرجی مکس کو مزید بہتر بنانے کے لیے او آئی سی سی آئی کی انرجی تجاویز پر عمل درآمد کرکے ملکی معاشی تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

مزید : کامرس


loading...