بی اے ایس ایف ورلڈ پلاسٹکس کونسل میں شامل

بی اے ایس ایف ورلڈ پلاسٹکس کونسل میں شامل

لاہور(پ ر)بی اے ایس ایف نے پلاسٹک انڈسٹری کی عالمی تنظیم ورلڈ پلاسٹکس کونسل(ڈبلیو پی سی) میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ڈبلیو پی سی،پلاسٹک کے ذمہ دارانہ استعمال،کچرے کو ٹھکانے لگانے کے موثر انتظام اور آ لودگی جیسے متعلقہ عالمی مسائل کے صنعتی موضوعات کو فروغ دیتی ہے۔پریذیڈنٹ پرفارمنس مٹیریلز بی اے ایس ایف،ریمر جان نے کہا کہ" پائیدار انداز میں بزنس کرنا بی اے ایس ایف کی حکمت عملی کا لازمی جزو ہے اور اس کے قیام سے ہی یہ مرکزی عزم رہا ہے۔مثال کے طور پر کسی ایک پلانٹ کی بائی پراڈکٹ کو کسی دوسرے کے لیے خام مال کے طور پر استعمال کرنا، فضلے کی پیداوار کو کم اور صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔اس کے علاوہ ہم ایسی کاوشوں میں مصروف ہیں جن سے عالمی چیلنجز حل ہوں گے اور آپریشن کلین سویپ 174جیسی پوری ویلیو چینز اس میں شامل ہوں گی۔ہم اس بین الاقوامی پروگرام پر عمل کر رہے ہیں جس کا مقصد پلاسٹک کے ذرات کو ماحول میں گم ہونے سے روکنا ہے" ۔انھوں نے یہ بات دبئی، متحدہ عرب امارات میں ڈبلیو پی سی کی جنرل اسمبلی2017 میں بی اے ایس ایف کی نمائندگی کرتے ہوئے کہی۔انھوں نے کہا کہ' ڈبلیو پی سی میں شامل ہونا ایک ایسی دنیا کی تخلیق میں مزید حصہ بننا ہو گا جو ہر کسی کے لیے ایک زیادہ بہتر معیار زندگی کے ساتھ پا ئیدار مستقبل فراہم کرتی ہے" ۔ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ ،پیٹرو کیمیکلز ایس اے بی آئی سی اور چےئرمین ڈبلیو پی سی،عبدالرحمان الفقیہ نے پلاسٹک انڈسٹری اور معاشرے کے لیے پائیدار نتائج دینے کی غرض سے ڈبلیو پی سی کی عالمی کوششوں میں مدد دینے کی خاطر ممبر کی حیثیت سے بی اے ایس ایف کا خیر مقدم کیا۔

انھوں نے کہا کہ "ہماری صنعت نے2011 سے آبی کثافت کے حل کے لیے گلوبل پلاسٹک ایسوسی ایشن کے اعلامیہ کے تحت دنیا میں آبی ملبہ کی روک تھام اور تحقیق کی متعدد کوششوں کا ساتھ دیا ہے۔دنیا کے 35 ملکوں میں70 پلاسٹک ایسوسی ایشنوں نے اس پر دستخط کیے ہیں۔تازہ ترین پراگریس رپورٹ میں 260 ایسے پراجیکٹس کا ذکر کیا گیا ہے جو دنیا کے مختلف ملکوں میں مکمل کیے جا چکے ہیں یا ان پر کام جاری ہے" ۔بی اے ایس ایف، امریکن کیمسٹری کونسل اور پلاسٹک یورپ کی بھی رکن ہے جو ڈبلیو پی سی کے ایسوسی ایٹ ممبر ہیں اور ایک زیادہ پائیدار ،گردشی اور وسائل کے اعتبار سے موثر معیشت کے لیے کام کر رہے ہیں۔ڈبلیو پی سی ،قومی اور علاقائی تنظیموں کا نعم البدل نہیں ہے بلکہ ایسے مسائل پر توجہ مرکوز کرتی ہے جنھیں عالمی یا کم سے کم علاقائی حل کی ضرورت ہوتی ہے۔بی اے ایس ایف جیسی کمپنی کے لیے جو تمام مارکیٹوں میں وجود رکھتی ہے ، ان وسیع مقاصد پر ایک گردشی معیشت اور شفاف تر کل کے لیے حصہ ادا کرنے کی غرض سے تمام علاقوں میں عمل درآمد کیا جا سکتا ہے۔

مزید : کامرس


loading...