فضائی آلودگی، غیر یقینی موسم، خشک سردی، انفلوائنزا وائرس پھیل رہا ہے

فضائی آلودگی، غیر یقینی موسم، خشک سردی، انفلوائنزا وائرس پھیل رہا ہے

چیف جسٹس مسٹر جسٹس ثاقب نثار نے اپنے وعدے کے مطابق چھٹی کے روز کام کرنے کی روائت بھی نبھائی ہے اور گزشتہ اتوار کو لاہور رجسٹری میں قصور کی معصوم کلی زینب کے قتل کیس کے سلسلے میں سماعت کی۔ ان کی طرف سے میڈیا سے تعلق رکھنے والے مالکان، ایڈیٹر حضرات اور سینئر کالمسٹوں اور اینکر حضرات کو بھی بلایا گیا تھا۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کو بھی طلب کیا گیا اور وہ آ گئے۔ فاضل جج نے ان سے ان کی خبر کے بارے میں دریافت کیاتو انہوں نے اصرار کیا کہ وہ درست کہتے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے ایک نئی جے آئی ٹی بنا دی جو ڈاکٹر موصوف کی خبر کے حقائق کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی بقول عدلیہ یوں معلوم ہو جائے گا کہ اس میں کتنا سچ ہے۔ بقول مسٹر جسٹس ثاقب نثار خبر کی درستگی پر ڈاکٹر شاہد مسعود انعام کے حق دار ہوں گے ورنہ ان کو خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ اس سلسلے میں مجیب الرحمن شامی، حامد میر، اور متعدد دوسرے سینئر میڈیا والوں کو بھی بلایا گیا اور ہر ایک سے فرداً فرداً بات کی۔ سب حضرات نے اپنے اپنے انداز میں بتایا کہ فاضل ڈاکٹر شاہد مسعود نے جو کچھ کہا قرین قیاس نہیں ڈاکٹر کو بھی تصدیق کر کے آگے بڑھنا چاہئے تھا ڈاکٹر شاہد مسعود کے مطابق انہوں نے تصدیق کر لی ہے اس پر عدالت نے کہا خبر سچ ہوئی تو ڈاکٹر شاہد مسعود کو پورا پورا صلہ اور عدالت کی طرف سے تعریفی و توصیفی سرٹیفکیٹ دیا جائے گا دوسری صورت میں ان کو سزا کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ فاضل عدالت نے ملزم بچی زینب کے والد اور ان کے وکیل کو میڈیا کے ساتھ بات کرنے سے روک دیا اور کہا کہ اگر شکایت ہو تو براہ راست ان کے روبرو پیش کر دی جائے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود کے اصرار نے صورت حال تبدیل کر دی اور جے آئی ٹی کا بھی کام رک گیا اب یہ سلسلہ بحال ہوا ہے تو پھر سے تفتیشی کام شروع ہو گیا۔ عدالت کو یقین دلایا گیا کہ دس روز سے پہلے ہی زینب قتل کیس کا چالان پیش کر دیا جائے گا۔ فاضل عدالت نے اس یقین دہانی کے بعد سماعت ملتوی کر دی۔

پنجاب ان دنوں دھند کی لپیٹ میں ہے۔ یہ شام کے بعد، شروع ہو کر دن چڑھے تک رہتی ہے اس سے حادثات بھی ہو رہے ہیں۔ سردی، بھی خشک ہے کہ دسمبر اور جنوری بارش کے بغیر گزر گیا۔ بالائی علاقوں میں برف باری کی وجہ سے سرد اور برفانی ہوائیں شمال سے جنوب کی طرف رخ کرتی ہیں اور یوں سردی کی شدت بڑھ جاتی ہے اس دھند کے علاوہ آلودگی میں بھی بہت اضافہ ہو چکا مٹی اور گرد فضا میں گھل کر سانس اور گلے کے امراض پیدا کر رہی ہے جبکہ دھوئیں کا سلسلہ بھی جاری، یہ بھی آلودگی میں اضافے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس صورت حال میں انفلوائنزا وائرس نے اور بھی پریشانی پیدا کر دی ہے۔ ملتان ڈویژن میں 38 اموات ہو چکیں جبکہ یہ وائرس اب لاہور تک آ چکا، ڈاکٹروں کے کلینکوں پر ہر دس میں سے چھ مریض وائرس سے متاثر ہو کر جا رہے ہیں اس حوالے سے کوئی حفاظتی اقدام نہیں کیا جا رہا الٹا ترقیاتی کاموں کے باعث اُڑنے والی گرد کو بھی سنبھالنے کا کوئی طریقہ اختیار نہیں کیا گیا۔ لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے پھر کہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کا اقتدار اسی سال مارچ میں ختم ہو جائے گا۔ ڈاکٹر موصوف نے پریس کانفرنس میں توقع چیف جسٹس آف پاکستان سے لگالی اور درخواست کی کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں انصاف کے لئے وہ خود پیش قدمی کریں کہ شہدا کے خون کا بدلہ دلائیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری تا حال لاہور میں ہیں اور نئے احتجاج پر غور کر رہے ہیں ان کے مطابق تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی ابھی تک ان کے ساتھ ہیں وہ قانونی اور آئینی تعاون اور انصاف پر یقین رکھتے ہیں اور منتظر ہیں۔ احتجاج کے لئے بھی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔

پیپلزپارٹی (پی) کے چیئرمین سابق صدر مملکت آصف علی زرداری لاہور میں قیام کے دوران مشاورت کے لئے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے اور پارٹی عہدیداروں سے یوم یکجہتی کشمیر (5 فروری) پر باغ بیرون موچی دروازے میں جلسے کی تشہیر اور انتظامات کا جائزہ لے رہے تھے۔ انہوں نے تنظیمی عہدیداروں کو یہ جلسہ کامیاب تر بنانے پر زور دیا، اس مقصد کے لئے مختلف کمیٹیاں بھی بنا دی گئی ہیں وہ خود بلوچستان کے نئے وزیر اعلیٰ عبدالقدوس کے استقبالیہ میں شرکت کے لئے کراچی گئے، وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو مدعو کیا تھا آصف علی زرداری بھی شریک ہوئے اور مبارک باد دی۔ وہ آج کل میں واپس آ رہے ہیں کہ جلسہ سے خطاب کریں گے۔

پیپلزپارٹی کے کارکن اور راہنما پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اس انٹرویو سے بہت خوش اور مطمئن ہیں جو ان سے ڈیوس (جینیوا) میں بھارتی چینل نے لیا اور نشر کیا۔ بلاول نے بہت اعتماد کے ساتھ سوالات کے جواب دیئے اور ملک کی قومی پالیسی سے رتی بھر انحراف نہیں کیا بلکہ موقف کو اصرار کے ساتھ واضح کیا۔ پارٹی والوں کے بقول بالکل نانا ذوالفقار علی بھٹو ہی نظر آئے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...