رویہ نہ بدلا تو موجودہ ایرانی نظام حکومت کا دھڑن تختہ ہوسکتاہے،احمدی نژاد

رویہ نہ بدلا تو موجودہ ایرانی نظام حکومت کا دھڑن تختہ ہوسکتاہے،احمدی نژاد

تہران(این این آئی)ایران کے سابق صدر محمود احمدی نڑاد نے خبردار کیا ہے کہ حکومت نے رویہ نہ بدلا تو عوامی احتجاج کے نتیجے میں موجودہ نظام حکومت کا دھڑن تختہ ہوسکتا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق سابق صدر نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کو ایک انتباہی مکتوب ارسال کیاجس میں ان سے کہا گیا کہ وہ عوام کے دیرینہ، جائز اور اصولی مطالبات پر عمل درآمد کے احکامات جاری کریں۔ عوام کا غم وغصہ ٹھنڈہ نہ ہوا تو اس کے نتیجے میں حکومت بھی ہاتھ سے جاسکتی ہے۔سابق صدر احمدی نڑاد کا اشارہ ملک میں حالیہ احتجاجی تحریک کی جانب تھا جس میں ریاست کی سیاسی اور اقتصادی پالیسیوں کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کی طرف سے عوام کے خلاف سیاسی اور اقتصادی دباؤ اب بھی برقرار ہے۔ انہوں نے خامنہ ای کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ عوام کن حالات میں زندگی گذار رہے ہیں۔ عوام سخت ترین نفسیاتی، اقتصادی اور سیاسی دباؤ کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں ایران کے دشمنوں کو اپنے عزائم کو عملی شکل دینے کا بہترین موقع مل سکتا ہے اور وہ ایرانی نظام کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔اپنے مکتوب میں احمدی نڑاد نے لاری جانی خاندان پر بھی تنقید کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت جانتی ہے کہ لاری جانی خاندان نے ہماری مزاحمت اور اقتصادی قوت کو کتنا نقصان پہنچایا ہے۔ پارلیمنٹ اور عدلیہ پر لاری جانی خاندان کی وجہ سے مصائب نازل ہوئے ہیں۔انہوں نے جوڈیشل کونسل کے چیئرمین آملی لاری جانی اور اس کے بھائیوں اسپیکر علی علی لاری جانی، جواد لاری جانی اور فاضل لاری جانی پر قومی املاک غصب کرنے اور قومی خزانے میں لوٹ مار کا الزام دہرایا۔

اسی طرح اپنی ایک دوسری 11 سالہ بیٹی خدیجہ کی شادی مدینہ منورہ سے تعلق رکھنے والے عبداللہ الحلبی سے کی۔ البتہ متعلقہ دستاویزات سے اسامہ کی بیٹیوں مریم، سمیہ اور ایمان کی شادیوں کے بارے میں معلومات نہیں ملتی ہیں۔ایبٹ آباد دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسامہ کا بیٹا خالد اپنے باپ کے ایک مقرب رہ نما ابو عبد الرحمن کی بیٹی سے شادی کا خواہش مند تھا تاہم سکیورٹی وجوہات کے سبب اس پر عمل نہیں ہو سکا اور 2011 میں ایبٹ آباد آپریشن میں جاں بحق ہو گیا۔وڈیو کلپوں میں بن لادن کے بچوں اور بچوں کے بچّے مختلف مناظر میں نظر آتے ہیں جو وزیرستان اور ایران کے درمیان تتر بتر ہو گئے تھے۔ ان میں بہت سے بچے ملیریا اور ٹائیفائیڈ میں مبتلا ہو کر مناسب علاج نہ ملنے کے سبب دنیا سے رخصت ہو گئے۔دستاویزات میں کارٹون فلموں اور بچوں کی عربی نظموں کے وڈیو کلپ بھی شامل ہیں جن کے ذریعے یہ بچّے اپنا طویل وقت گزارا کرتے تھے۔

مزید : عالمی منظر


loading...