اسامہ کی بیویوں ، بہوؤں اور دامادوں کو عربی سے زیادہ اردواورپشتوپر عبورحاصل

اسامہ کی بیویوں ، بہوؤں اور دامادوں کو عربی سے زیادہ اردواورپشتوپر عبورحاصل

ریاض(این این آئی)القاعدہ تنظیم کے بانی اور سابق سربراہ اسامہ بن لادن کے اہل خانہ کی دوسری نسل میں اکثریت کو عربی زبان سے زیادہ اردو اور پشتو زبانیں بولنے پر زیادہ عبور حاصل ہے۔ یہ بچے روایتی افغان لباس کے عادی ہیں جب کہ اسامہ کی بیویوں نے روایتی سیاہ خلیجی برقعوں کو افغانی برقعوں سے تبدیل کر لیا۔عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسامہ نے اپنے بیٹے محمد کی شادی القاعدہ کے مصری شدت پسند رہ نما ابو حفص المصری کی بیٹی سے کی جب کہ اسامہ کے بیٹے سعد نے شادی کے لیے اپنے والد کے ایک سوڈانی ساتھی کی بیٹی کا انتخاب کیا۔ حمزہ بن لادن نے ابو محمد المصری کی بیٹی سے شادی کی جب کہ عثمان بن لادن نے تنظیم کے رہ نما سیف العدل کی بیٹی صفیہ کو اپنی دوسری بیوی بنانے کا فیصلہ کیا۔جہاں تک اسامہ کی بیٹیوں کا تعلق ہے تو ایسا لگتا ہے کہ اسامہ نے خلیج کے عرف کا خیال رکھتے ہوئے کوشش کی کہ دامادوں کا انتخاب سعودی یا خلیجی مردوں میں سے ہی کیا جائے۔ قندھار میں قیام کے دوران 1999 میں اسامہ نے اپنی 12 سالہ بیٹی فاطمہ کی شادی سلیمان ابو غیث الکویتی سے کی۔

اسی طرح اپنی ایک دوسری 11 سالہ بیٹی خدیجہ کی شادی مدینہ منورہ سے تعلق رکھنے والے عبداللہ الحلبی سے کی۔ البتہ متعلقہ دستاویزات سے اسامہ کی بیٹیوں مریم، سمیہ اور ایمان کی شادیوں کے بارے میں معلومات نہیں ملتی ہیں۔ایبٹ آباد دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسامہ کا بیٹا خالد اپنے باپ کے ایک مقرب رہ نما ابو عبد الرحمن کی بیٹی سے شادی کا خواہش مند تھا تاہم سکیورٹی وجوہات کے سبب اس پر عمل نہیں ہو سکا اور 2011 میں ایبٹ آباد آپریشن میں جاں بحق ہو گیا۔وڈیو کلپوں میں بن لادن کے بچوں اور بچوں کے بچّے مختلف مناظر میں نظر آتے ہیں جو وزیرستان اور ایران کے درمیان تتر بتر ہو گئے تھے۔ ان میں بہت سے بچے ملیریا اور ٹائیفائیڈ میں مبتلا ہو کر مناسب علاج نہ ملنے کے سبب دنیا سے رخصت ہو گئے۔دستاویزات میں کارٹون فلموں اور بچوں کی عربی نظموں کے وڈیو کلپ بھی شامل ہیں جن کے ذریعے یہ بچّے اپنا طویل وقت گزارا کرتے تھے۔

مزید : عالمی منظر


loading...