لاشوں پر سیاست جائز نہیں ،شہری ہلاکتوں کا سلسلہ روکا جائے،عمر عبداللہ

لاشوں پر سیاست جائز نہیں ،شہری ہلاکتوں کا سلسلہ روکا جائے،عمر عبداللہ

جموں(اے این این ) مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیر اعلی عمر عبدللہ نے موجودہ وزیر اعلی محبوبہ مفتی پر لاشوں پر سیاست کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امن اور مذاکرات پر نیشنل کانفرنس حکومت کو ہر طرح کا تعاون دینے کیلئے تیار ہے ۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہلاکتوں کا سلسلہ روکنے کیلئے ٹھوس اقدمات کئے جائیں ۔قانون ساز اسمبلی میں شوپیاں میں ہوئی تازہ ہلاکتوں پر پیش کی گئی تحریک التو ا میں بحث کے دوران سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا کہ ہم کب تک شہری ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے رہیں گے ۔جب بھی کبھی ایسی خبر سننے کو ملتی ہے تو پہلے غصہ آتا ہے پھر ہم ہمدردی کرتے ہیں آخر یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا ۔کہیں نہ کہیں تو اس صورتحال کو روکنا ہو گا ۔انہوں نے ایوان میں موجود ریاست کی وزیر اعلی سے مخاطب ہو کر کہا آپ کچھ ایسا کریں جو ہم نہیں کر پائے ۔چاہئے مرکز میں ہماری حکومت کمزور تھی چاہئے یہاں، کچھ تو تھا کہ ہم اپنے دور میں پوری طرح سے اس کو روک نہیں پائے ،لیکن آج مرکز میں بھی اور یہاں پر بھی دونوں حکومتیں کمزور نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی پریشانی ہے تو پھر آپ کو اس کی روک تھام کیلئے سب کو ساتھ لے کرچلنا ہو گا ۔عمر عبداللہ نے کہا کہ آخر کب تک ہم تحریک التوا لاتے رہیں گے اور پھر اس مسئلہ پر بات کر کے گھر چلے جائیں گے ۔عمر نے کہا کہ ہم ان چیزوں پر سیاست نہیں کرنا چاہتے اور نہ کریں گے ۔ عمر نے اپنی تقریر میں حزب اقتدار سے کہا کہ میرا کسی کے اوپر انگی اٹھانے کا ارادہ نہیں ہے۔ جتنا ہمیں افسوس ہوتا ہو گا اتنا ہی آپ کو بھی ہو گا ۔انہوں نے محبوبہ مفتی سے کہا کہ یونیفائیڈ کمانڈ کی سربراہ آپ ہیں اور اس کو آپ ہی سنبھالتی ہیں ہر طرف سے بات آپ پر آکر رک جاتی ہے لیکن ہمیں پہلے ایک آواز میں بات کر کے طاقت لانی چاہئے ۔انہوں نے شوپیاں انکوائری پرمخلوط سرکار پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا آپ کنفیوژن سگنل بھیجتے ہیں ایک طرف سے مجسٹریٹ انکوائری آڈر کی گئی، چلو ٹھیک ہے ،اگر اس کاکوئی نتیجہ سامنے آتا ہے۔

، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایف آئی آر بھی درج ہوا اگر ایف آئی آر میں یہ درج ہوتا کہ UNKNOWNPERSONSتو ٹھیک بات تھی مجسٹریٹ انکواری کی، لیکن خبروں کے مطابق ہم نے سنا ہے کہ ایف آئی آر میں میجر اور دوسرے اہلکاروں کے نام درج ہوئے ہیں ،کیا سچ ہے کیا غلط وہ وزیر اعلی سے ہم سننا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا اگر ہمیں نام بھی پتا ہے اور یہ بھی پتا ہے کہ کس سکشن کے تحت ان کو چارج کیا جارہا ہے تو اس کے بعد مجسٹریٹ انکوائری کس کیلئے ۔فی الحال پولیس کو اپنی کارروائی کرنے دینی چاہئے اگر ایف آئی آر بھی درج ہوئے ہیں نام پتا بھی لکھا گیا ہے پھر مجسٹریٹ انکوائری کو چھوڑ دیجئے اور ایف آئی آر کو بنیاد بنیاد بنائے۔انہوں نے کہا کہ مخلوط سرکار کے اندر اس پر سیاست کی جا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم کبھی اس پر سیاست نہیں کرتے اور آپ کو بھی اس پر سیاست نہیں کرنی چاہئے بلکہ جودو قیمتیں جانیں چھینی گئیں اور جو کئی سارے زخمی ہوئے ہیں ہمیں فوری طور پر ان کو انصاف دلانا ہو گا اور پھر اس کے بعد ہمیں کچھ ایسے اقدمات اٹھانے ہوں گے جس سے یہ سلسلہ رک جائے ۔ عمر نے کہا کہ احتساب جو ہم پراسس میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں اس کو آہستہ آہستہ پیچھے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے ۔انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا جنہیں ایک پراسس کے تحت کوٹ مارشل کے ذریعے سزا دی جاتی ہے اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوتی جس کے بعد ہم کچھ بھی کریں اور کچھ کرنے کے بعد ہم گنا ہگار بھی پائے جائیں تب بھی ہمیں سزا نہیں دی جا سکتی ہے اسی لے آج چھاتی اور سر پر گولی ماری جا رہی ہے۔انہوں نے کہاجو مارے گئے وہ اس لئے نہیں ماریگئے کہ غلطی سے کہیں ٹانگ میں گولی لگی تو خون بہایا گیا جو مارے گے سیدھا چھاتی کے اوپر گولی ماری گئی یہ نہیں کیا گیا کہ لوگوں کو طریقے سے روکا جائے وہاں سوچ آئی کہ آپ پتھر مارو ہم گولی ماریں گے۔انہوں نے ریاستی وزیر اعلی سے کہا میں آپ کو اپنی پارٹی کی طرف سے یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ آپ کے زہن میں اگر کوئی ایسی سوچ ہے جس سے حالات ٹھیک ہو سکتے ہیں ہم کہیں پر بھی آپ کے ساتھ ملنے اور چلنے کیلئے تیار ہیں، غرض یہ کہ یہ سلسلہ ر ک جائے ۔دریں اثنا عمر عبداللہ نے اس وقت بھی وزیر اعلی کو روک کر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جب وہ ممبران کی جانب سے لائی گئی تحریت التوا پر ممبران کے سوالوں کا جواب دے رہی تھیں۔ ریاستی وزیر اعلی نے عمر عبداللہ کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک بار کہا کہ بینکروں پر پتھر مارنا خودکشی کو دعوت دینا ہے جس پر عمر عبداللہ اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور کہاجہاں لاشوں پر سیاست کرنا مجھے آتا نہیں ہے اور اللہ کرے کہ میں کبھی لاشوں پر سیاست نہ کرو، ہماری وزیر اعلی لاشوں پر صرف سیاست کر سکتی ہیں ۔ عمر نے کہامیں نے اس وقت اپنی بات نہیں کی ،میں نے ایک مثال کوٹ کی تھی کہ ایک نوجوان تھا سرینگر میں، جو بار بار ایک بینکر پر پتھر مارتا تھا جب پولیس والے اس کو پکڑ کر تھانے لے گے اور اس سے پوچھا کہ آپ کیوں روز آکر اس بینکر پر پتھر پھینکتے ہو ،تو اس نوجوان نے کہا کہ مجھے ایک لڑکی نے دھوکہ دیا اور میں خود کشی کرنے جا رہا تھا، مجھے میرے دوستوں نے کہا کہ خود کشی کرنا گناہ ہے جہنم جاؤ گے ،آپ اس بینکر پر پتھر مارو سی آر پی ایف والے آپ کو گولیاں ماریں گے شہادت ملے گئی آپ جنت میں جاؤ گے ۔ عمر نے کہا میں نے یہ مثال کوٹ کی تھی اور میں نے یہ خود نہیں کہا کہ بینکر پر پتھر پھینکنا خود کشی ہے یہ آپ اپنی بات کر رہی ہیں جنہوں نے پچھلی بار کہا تھا کہ یہ دودھ اور ٹافی لانے تو نہیں گئے تھے ۔ پی ڈی پی اور بی جے پی کو آپس میں اتفاق پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ممبر اسمبلی کنگن میاں الطاف احمد نے کہا کہ ان کے الگ الگ بیان بازیوں سے ریاست جموں وکشمیر میں آگ لگ سکتی ہے ۔قانون ساز اسمبلی میں شوپیاں ہلاکتوں پر پیش کی گئی تحریک التو پر بحث کرتے ہوئے میاں الطاف نے کہا کہ شوپیاں میں اگرچہ کچھ دن پہلے ہی ایک ہلاکت خیز واقعہ پیش آیا تھا تو اس کے بعد وہاں کی انتظامیہ کو متحرک رہنا تھا۔میاں الطاف نے کہا کہ اگر شوپیاں میں صوتحال ٹھیک نہیں تھی تو فوج کوآپریشن کرنے کی وہاں کوئی ضرورت نہیں تھی۔انہوں نے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے شوپیاں کی کشیدہ صورتحال کو بلکل سنجیدگی سے نہیں لیا ورنہ واقعہ کو ٹالا جا سکتا تھا ۔انہوں نے کہا کہ ہر ایک لیڈر یہ کہتا ہے کہ دلی بات نہیں کرتی ہے لیکن یہاں کی کشیدہ صوتحال کو ٹھیک کرنے کیلئے یہاں کی سرکار کو بھی کچھ اقدمات کرنے چاہئے تھے ۔میاں الطاف نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہاں سب کچھ پولیس ڈی جی ،چیف سکریٹری اور ڈویژنل کمشنر سے ٹھیک ہونے والا نہیں ہے بلکہ یہاں کی سرکار کو سیاسی طور پر لوگوں سے رابطہ کرنا چاہئے ۔ انہوں نے سرکار پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سرکار میں موجود لیڈران کا رابطہ لوگوں سے کٹا ہوا ہے ۔انہوں نے ریاستی وزیر اعلی کی طرف محاطب ہو کر کہا کہ شہری ہلاکتوں پر سب کو دکھ ہے ہم نہیں کہتے آ پ کو دکھ نہیں ہے آپ کو ہم سے زیادہ دکھ ہو سکتا ہے کیو نکہ اس کی ساری ذمہ داری آپ کی ہے ۔بھارتی فوج کو ریاست کے اندرونی معاملات سے دور رکھنے کی تجویز دیتے ہوئے سی پی آئی ایم کے سینئر رہنما و ممبر اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے کہاکہ فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے اور اس سے وہ کام نہ کرائے جائیں جو اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔کشمیر مسئلہ کا نام لئے بغیر انہوں نے کہاکہ ایسے مسئلہ کا ملٹری حل تلاش کیا جارہاہے جو حقیقی اور بنیادی طور پر سیاسی نوعیت کا ہے۔ شوپیاں ہلاکتوں پر اپنی تحریک التوا پر بولتے ہوئے تاریگامی نے کہاکہ حکومت پنچایتی چناؤ کروانے جارہی ہے اور اس بات کا دعوی کیا جارہاہے کہ ریاست میں امن ہے لیکن یہ بتایاجائے کہ فوج کی اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی ضرورت کیوں ہے اور کیوں پولیس پر بھروسہ کرتے ہوئے افسپا کو ہٹایا نہیں جارہا۔ ان کا کہنا تھافوج کو وہ کام مت دو جو اس کے دائرہ کے باہر ہے۔ یہ ایک ادارہ ہے جس کا دائرہ محدود ہے اور اس کا کام سرحدوں اور ایل او سی کی حفاظت کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج وزیر اعلی جرات کرکے یہ کہہ دیں کہ ہمیں افسپا کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہاکہ کمیشن بنانے اور ایف آئی آر درج کرنے سے نہ ہی ماضی میں کچھ حاصل ہوا اور نہ ہی مستقبل میں متاثرین کو انصاف مل سکے گا بلکہ مسئلہ کی جڑ کو سلجھانے کیلئے سیاسی حل ڈھونڈنے کی ضرورت ہے جس کی خاطر بدقسمتی سے ملٹری کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مژھل اور دیگر واقعات میں بھی کمیشن بنے لیکن کیا ملا اور کتنوں کو سزا ملی۔ مژھل کیس پر تو یہ کہاگیا کہ ان کی پوشاکیں وردی نما تھیں اور ملی ٹینٹ لگ رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے ہندو مسلمان سکھ سبھی ایک درد سے گزر رہے ہیں جس کا حل ایک سنجیدہ سیاسی حل اور بامعنی مذاکرات ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مذاکرات کار کے مینڈیٹ کا تعین ہونا چاہیے اور بجلی ٹرانسفارمر یا سڑک نہیں چاہیے بلکہ سیاسی علاج کی ضرورت ہے جس کیلئے ویسا ہی مینڈیٹ حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں بننے والے ورکنگ گروپس کی رپورٹ کہاں گئیں اور کیوں غریب کشمیری کو سزا دی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتدار سے اوپر اٹھ کر اس مسئلہ کو حل کیا جائے اور یہ ایوان ایک قرار داد پاس کرکے ایک پہل کرے۔تاریگامی نے کہاکہ غیر مسلح افراد مارے جارہے ہیں اور سرحد پر بسنے والا کسان بھی محفوظ نہیں۔اگر ان معاملات پر ایوان یا پارلیمنٹ میں بات نہ ہو تو پھر اس ایوان کا فائدہ کیا ہے۔ انہوں نے نیشنل کانفرنس کے علی محمد ساگر کو مخاطب کرتے ہوئے کہاساگر صاحب یہ میری اور آپ کی زمین سکڑنے کا سوال نہیں زمین سکڑ بھی جائے مگر دنیا اور سماج آگے بڑھے۔یہ خون آدم کا سوال ہے جو رکتا ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں ایسے واقعات پر مذمت کرنا اور پھر ایک دوسرے کو الزام دینا روایت ہے اور پھر دیکھتے ہیں کہ اخبار میں میرا نام بھی مذمت والے بیان میں آیا کہ نہیں لیکن انصاف کا انتظار کرنے والی ماں بہن کا کیا ہوا۔ انہوں نے کہاکہ اگر کشمیر جل رہا ہے یا دور جارہا ہے تو جموں کو بھی درد ہے کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر مسئلہ کا حل تلاش نہ کیا گیا تو ریاست اور ملک کو مزید نقصان اٹھانا پڑے گا اور اس ایوان کو مزید شرمناک ہونا پڑے گا۔

مزید : عالمی منظر


loading...