مدثر کیس،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کا پولیس رپورٹ پر اظہار برہمی

مدثر کیس،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کا پولیس رپورٹ پر اظہار برہمی

قصور(بیورورپورٹ)پیرو والہ روڈ کے رہائشی مدثر نامی نوجوان جسے پولیس نے گزشتہ سال فرور ی17میں مقتولہ ایمان فاطمہ زیادتی و قتل کیس کا ملزم قرار دیکر جعلی پولیس مقابلہ میں ہلاک کر دیا تھا اور الٹا جھوٹی ایف آئی آر درج کر لی تھی پولیس کے اس جعلی مقابلہ کی قلعی اس وقت کھل گئی جب معصوم زینب ،ایمان فاطمہ سمیت آٹھ بچیوں کے دل خراش واقعات و قتلوں میں عمران علی نامی گرفتار ملزم کا ڈی این اے میچ کرگیا جس پر مقتول مدثر علی کی والدہ جمیلہ بی بی نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج قصور محمد ظفر اقبال چوہدری کی عدالت میں اس وقت کے ڈی پی او علی ناصر رضوی ،ڈی ایس پی صدر سرکل مرزا عارف رشید اور ایس ایچ او تھانہ صدر حاجی یونس ڈوگر و پولیس پارٹی اور سابق نائب ناظم ڈاکٹر رضوان مذکور کیخلاف اسکے بیٹے کو ناجائز و ناحق ظلم و بربریت کر تے ہوئے جعلی پولیس مقابلہ میں ہلاک کر نے کی بابت اندراج مقدمہ کیلئے رٹ دائر کی تھی جس پر گزشتہ روز سماعت پر فاضل جج نے پولیس رپورٹ کو نا کافی ،مہمل اور بغیر دستاویزات کے داخل کرنے پر اظہار برہمی کی اور پولیس کو حکم دیا کہ وہ مقدمہ سے متعلقہ ریکارڈ ،تفصیلی رپورٹ اور دستاویزات داخل کریں اس سلسلہ میں کوئی بہانہ بازی نہیں سنی جائیگی ۔فاضل عدالت نے رٹ پٹیشن میں آئندہ تاریخ پیشی یکم فروری 18مقرر کر دی اس موقع پر مقتول کی والدہ ،والد بھائی و دیگر ورثا ء بھی موجود تھے۔

مدثر کیس

مزید : علاقائی


loading...