سست رفتار تر قیاتی منصوبوں کے فنڈز تیز رفتار پراجیکٹس پر لگانے کا انکشاف

سست رفتار تر قیاتی منصوبوں کے فنڈز تیز رفتار پراجیکٹس پر لگانے کا انکشاف

اسلام آباد (آئی این پی ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ترقی و منصوبہ بندی میں سیکرٹری وزارت ترقی و منصوبہ بندی شعیب صدیقی نے انکشا ف کیا ہے وزارت کی جانب سے ملک بھر کے سست رفتار تر قیاتی منصوبوں کے فنڈز تیز رفتار ترقیاتی منصوبوں پر لگادئیے گئے ۔ کمیٹی رکن عثمان کاکڑ نے کہا پسماندہ صوبے بلوچستان کے کئی منصوبوں پر ایکنک اور سی ڈی ڈبلیو پی سے منظوری کے باوجود پی سی ون بھی نہیں بنایا گیا ۔ روڈ کو دو رویہ کرنا تھا اس کیلئے اب تک زمین بھی نہیں خریدی گئی، 12سال پہلے کا منصوبہ تھا، کمیٹی نے معاملے پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی حکام کو اگلے اجلاس میں طلب کرلیا۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا 3سال کے منصوبے 15سال پر آ گئے ہیں، شوکت عزیز حکومت کے منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ نہ دیں، پنجاب کی طرف چلنے والے منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کیا جا رہا ہے، ژوب سے باجوڑ تک منصوبہ منظو ر ہوا ہے مگر ابھی تک اس پر کام شروع نہیں ہوا، فاٹا کی 7ایجنسیوں کو رابطہ فراہم کرنے کیلئے یہ سڑک تھی، ایک ارب روپے کا زیارت پیکج بھی پی ایس ڈی پی میں لایا ہی نہیں گیا۔کمیٹی نے اس معاملے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا منصوبوں کی منظوری کے بعد ان کی عدم تکمیل ادا ر وں کی نالائقی ہے، جہاں کام نہ ہو وہاں امن و امان کا مسئلہ آگے لایا جاتا ہے، ذاتی مفاد اور وزارتوں کے آپس میں تعاون کے فقدان کی و جہ سے منصوبے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچے، وزارتوں اور افسران اور سیاستدانوں کی بھی کوتاہی ہے، سیاستدان معاملے کو اٹھاتے ہی نہیں ۔منگل کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی وترقی کا اجلاس سید طاہر حسین مشہدی کی زیر صدارت ہوا ۔ا جلاس میں وزارت ترقی ومنصوبہ بندی کی طرف سے 213 سست روی کا شکار منصوبوں پر بریفنگ دی گئی ۔سیکرٹری وزارت ترقی و منصوبہ بندی شعیب صدیقی نے کمیٹی کو آگاہ کیا وزارت منصوبہ بندی میں باقاعدگی سے جاری ترقیاتی منصوبہ کا جائزہ لیا جاتاہے سست روی کا شکار منصوبوں سے 53ارب چالیس کروڑ روپے کی رقم تیزی سے چلنے والے منصوبوں کیلئے منتقل کی ہے ۔ 66منصوبے ہیں، ان کیلئے فنڈز رکھے گئے ہیں، منصوبوں پر عملدرآمد وزارتوں کی ذمہ داری ہے، جو منصوبے التواء کا شکار ہیں اس پر بریفنگ دینے کیلئے تیار ہیں، بلوچستان میں 100ڈیموں کے حوالے سے وزارت حکام نے بتایا کہ پیکج ایک میں 18اور پیکج 2میں 20 اور پیکج 3میں 26رکھے گئے ہیں، آزاد ڈیموں کے منصوبوں کے حوالے سے 18رکھے گئے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا بلوچستان کے منصوبوں کو فوقیت نہیں دی گئی، سیاسی عدم توجہی کے باعث منصوبے مکمل نہیں ہوئے، جن محکموں کو منصوبے دیئے گئے انہوں نے اپنا کام نہیں کیا۔

مزید : علاقائی


loading...