پنجاب یونیورسٹی نے پہلی بار تمام طلبہ کا ڈیٹا جمع کر لیا

پنجاب یونیورسٹی نے پہلی بار تمام طلبہ کا ڈیٹا جمع کر لیا

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)سیکورٹی وجوہات اور آئے روز طلبہ تنظیموں کے آپس میں تصادم سے بچنے کے لئے پنجاب یونیورسٹی نے تاریخ میں پہلی بار طلبہ کا ڈیٹا اکٹھا کر لیا۔طلبہ کا ڈیٹا اکٹھا کر کے اسے کمپیوٹرائزڈ کر نے کا فیصلہ یونیورسٹی میں حالیہ طلبہ تنظیموں کے تصادم کے بعد کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی میں پچھلے کچھ عرصہ سے طلبہ تنظیموں کے باہمی لڑائی جھگڑوں سے یونیورسٹی میں تدریسی امور اور امن وامان کے شدید ترین مسائل پیدا ہو گئے تھے جس کو مد نظر رکھتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ نے بالآخر یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبا و طالبات کی تفصیلات اکھٹا کر کے اسے کمپیوٹرائزڈ کرنے کا فیصلہ کیا اوریونیورسٹی ترجمان کے مطابق پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کا 91فیصد سے زائد ڈیٹا کمپیوٹرائزڈ کر لیا ہے۔ اس وقت یونیورسٹی کے 83شعبہ جات کے 177 سے زائد پروگرامز میں 45 ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے وائس چانسلر نے یونیورسٹی میں زیر تعلیم تمام طلبہ کا ڈیٹا کمپیوٹرائزڈ کنے کے احکامات جاری کئے جس کے بعد یونیورسٹی کے شعبہ آئی ٹی نے اب تک 42 ہزار طلبہ کا کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا جمع کر لیاہے ۔پنجاب یونیورسٹی کے کل 28 ہاسٹلز ہیں جن میں 7 ہزار طلبہ رہائش پذیر ہیں۔یونیورسٹی میں6 ہزار ملازمین اور11 ہزاراساتذہ ہیں ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...