پنجاب لینڈ ریکارڈ میں رجسٹریاں، انتقالات تاخیر کا شکار، بے جا اعتراض پر عوام پریشان

پنجاب لینڈ ریکارڈ میں رجسٹریاں، انتقالات تاخیر کا شکار، بے جا اعتراض پر عوام ...

لاہور(عامر بٹ سے)پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کا رجسٹریوں اور انتقالات کی رجسٹریشن اور کمپیوٹرائزیشن کو 56دن کی بجائے 18دن میں ممکن بنانے کا دعوی دھرا رہ گیا، ادارہ کی جانب سے بیشتر رجسٹریاں اور انتقال کو تاحال بھی کمپوٹرائزڈ نہ کیا جا سکااعلیٰ افسران کو سب اچھا کی رپورٹ ، بینک آف پنجاب میں فیس جمع کروانے کے بعد 1دن میں ای سٹیمپ پیپرز کا حصول ،وثیقہ نویس اور وکیل کی جانب سے رجسٹری دستاویزات کی تیاری اور تحریر بھی ایک دن میں مکمل کرنے جیسے اعلانات پر عمل درآمد نہ ہو سکا، ذرائع کی جانب سے انکشاف کیا گیاکہ اے ڈی ایل آرز کی جانب سے کھیوٹ ، کھتونیوں کے بلاک ہونے کی وجہ سے چند رجسٹری دستاویزات پر قانونی اعتراضات لگائے جارہے ہیں ، پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے اسٹنٹ ڈائریکٹرز لینڈ ریکارڈ ’’ اے ڈی ایل آر ‘‘ کی جانب سے اپنے مفادات کے حصول کیلئے دستاویزات پر بے جا اعتراضات کامیاب منصوبے کی راہ میں رکاوٹ بن گئے، شہریوں اور ماتحت افسران بھی معمولی نوعیت کے اعتراضات سے ذہنی کشمکش میں مبتلاہوگئے اعلیٰ افسران سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب میں میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے پنجاب کی عوام کو پٹوار کلچر کے خاتمے کے بعد رجسٹری دستایزات کی رجسٹریشن اور کمپیوٹرائزڈ انتقالات کی فراہمی کو پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی انتظامیہ کی جانب سے صرف دعووں کی حد تک محدود کرکے ایک خواب کی شکل دے گئی ہے جس کی تعبیر بظاہر بہت مشکل دیکھائی دیتی ہے،پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے یہ دعوی کیا تھا کہ مالک اراضی اصل فرد یا ملکیت کا ثبوت،اصل شناختی کارڈ اور رسید کے ساتھ ای سٹیمپ پیپرز دکھاکر چار آسان مراحل جن میں 1دن میں فرد کا اجراء ، بینک آف پنجاب میں فیس جمع کروانے کے بعد 1دن میں ای سٹیمپ پیپرز کا حصول ،وثیقہ نویس اور وکیل کی جانب سے رجسٹری دستاویزات کی تیاری اور تحریر بھی کے بعد دستاویز کی رجسٹریشن اور کمپیوٹرائزڈ انتقال 56دن کی بجائے 15دن میں مالک اراضی کو فراہم کرنے کا دعوی کیا تھا جس کی تشہیر بھی پوری شدو مد کے ساتھ کی گئی تھی لیکن تاحال عملی طور پر دیکھا جائے تو ان پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے زیر انتظام کام کرنے والے اے ڈی ایل آرز کی جانب سائل کو مفاداتی اعتراضات لگا کر ان چار مراحل کے اندر ہی اتنا الجھا دیا جاتا ہے کہ دستاویز کی رجسٹریشن کے عمل تک پہنچنا ہی ناممکن دیکھائی دیتا ہے ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...