کون بنے گا وزیراعظم ؟

کون بنے گا وزیراعظم ؟
 کون بنے گا وزیراعظم ؟

  


روزنامہ پاکستان کے منجم شیخ طارق اقبال میرے سامنے بیٹھے تھے ، انہوں نے تمام برجوں کے حوالے سے ایک خصوصی اشاعت میں بتایا تھا کہ یہ برس کیسا گزرے گا مگر اس میں ایک تشنگی تھی۔ میں پاکستانی سیاست کے بارے جاننا چاہتا تھا کہ ان کے ستاروں اور اعداد کا علم کیا بتاتا ہے۔

میں نے انہیں بتایا کہ ایک ستارہ شناس خاتون نے پیشین گوئی کی تھی کہ تحریک انصاف کے قائد عمران خان وزیراعظم والی شیروانی پہنیں گے یا نہیں، وہ اس بارے تبصرہ نہیں کرتیں مگرسو فیصد یقین سے کہتی ہیں کہ عمران خان تیسری ( یا چوتھی) شادی کی شیروانی ضرور پہنیں گے۔ انہوں نے دسمبر کے آخری دنوں یہ پیشین گوئی کی اور جنوری کے پہلے دنوں میں ہی جناب عمران خان کی شادی کی خبریں سامنے آ گئیں۔

روزنامہ پاکستان کی بہت زیادہ مقبول ویب سائیٹ پر ایک فالو اپ سٹوری میں اس شادی کی تمام تر تفصیلات شائع کر دی گئی ہیں۔شیخ طارق اقبال مسکرائے اور بولے،اس خاتون نے جس بات پر نو کمنٹس کہہ دیا تھا وہ اس بارے مکمل یقین اور اعتماد کے ساتھ کہتے ہیں کہ عمران خان وزیراعظم نہیں بنیں گے۔ انہوں نے یہاں علم الاعداد کا بھی سہارا لیا اور کہا کہ اس برس کا عدد بھی دو ہے اور فوج کا عدد بھی دو ہے، یہ مماثلت فوج کو حاوی رکھے گی اور ایک لٹکتی ہوئی پارلیمان بنے گی اور کوئی ایسا شخص وزیراعظم بن جائے گا جس کے بارے ابھی سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

یہ گفتگو میں ا یک اہم موڑ تھا، شیخ طارق اقبال اگر علم الاعداد اورعلم نجوم کے ماہر ہیں تو مجھے بھی صحافت اور سیاست میں مہارت کا چھوٹا موٹا دعویٰ ہے۔ میں طویل عرصے سے کہتا چلا آ رہاہوں کہ سینٹ کے انتخابات کے بعد عام انتخابات بھی مقررہ وقت پر ہوں گے اور میرا یہ دعویٰ صرف صحافت اور سیاست کے ایک طالب علم کے طور پر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ نے جو کامیابیاں حاصل کرنا تھیں وہ نہ صرف نواز شریف کے وزارت عظمیٰ سے ہٹنے سے حاصل کر لی ہیں بلکہ وہ اس سے بھی دو قدم آگے بڑھ گئے ہیں، ایک قدم سینٹ کے انتخابات میں مسلم لیگ نون کی سیٹوں کو ایک حد میں رکھنا ہے اور دوسرا قدم جناب شہباز شریف کی وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر نامزدگی ہے۔شہباز شریف مسلم لیگ نون میں مزاحمت کی بجائے مفاہمت کی علامت ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ میاں نواز شریف نے بھی مقتدر قوتوں کے ساتھ سمجھوتے کی ہر ممکن کوشش کی ، انہوں نے دفاعی بجٹ پر کبھی مزاحمت نہیں کی اور اسحاق ڈار کو ہدایت کی کہ وہ خود جا کے معاملات طے کر کے آئیں ۔ انہوں نے ایک مشکل وقت میں آصف علی زرداری کو ہی ٹھینگا نہیں دکھایا بلکہ اپنے پرانے اور وفادار ترین ساتھیوں سے استعفے تک لئے ، انہوں نے ہندوستان بارے اپنی پالیسی بھی تبدیل کی مگر یہاں مسئلہ ان کا( اور ان کے ساتھ ساتھ اسحاق ڈار کا) رویہ( یعنی ایچی ٹیوڈ) بنا اور پھر اٹھائیس جولائی کا فیصلہ آ گیا۔میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اگر میاں نواز شریف لچک کا مظاہرہ کرتے تو آج سے اٹھارہ برس پہلے لگنے والے مارشل لاء سے بھی بچا جا سکتا تھا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ اپنی عادت تبدیل کر سکتے ہیں مگر فطرت کو تبدیل کرنا کسی کے لئے ممکن نہیں۔ اس کے باوجود کہ نواز شریف اس وقت آئین کی بالادستی، جمہوریت کے تسلسل اور عوامی حاکمیت کی ایک بڑی علامت بن کے ہمارے سامنے موجود ہیں مگر اس کے باوجود ابھی تک وہ تنظیمی اور اجتماعی نہیں بلکہ ابھی ذات کی سیاست کر رہے ہیں۔ وہ اپنے ساتھ مریم نواز شریف کو تاریخ ساز جلسوں میں خطاب کروا رہے ہیں جس کے اگرچہ کچھ فوائد بھی ہیں مگر اس پر تنقید کرنا بھی چنداں دشوار نہیں ہے۔

مجھے شیخ طارق اقبال کی اس پیشین گوئی سے انکار نہیں کہ ایک لٹکتی ہوئی یعنی ہنگ پارلیمنٹ وجود میں آ سکتی ہے جس میں کسی کے پاس بھی اکثریت نہیں ہو گی ۔ اس وقت پیپلزپارٹی کنگزپارٹی کے طور پر سامنے آ رہی ہے جسے بلوچستان کی حکومت پلیٹ میں ر کھ کے پیش کر دی گئی ہے ۔ سینیٹ کے انتخابات کا شیڈول آ چکا ہے اور یہ امر واضح ہو چکا ہے کہ مسلم لیگ نون اب مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکے گی مگر جو بات شیخ طارق اقبال کہہ رہے ہیں وہ اس تجزئیے سے آگے کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جہاں ابھی پانچ سے سات برس مریم نواز شریف کسی اہم عہدے پر آنے کے بارے میں سوچے بھی نہیں وہاں انہیں شہباز شریف بھی وزیراعظم بنتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہے جبکہ میرے خیال میں اگر انتخابات کا انعقاد آزادانہ اور منصفانہ ہوجاتا ہے تو شہباز شریف کا راستہ نہیں روکا جا سکتا مگر شیخ طارق اقبال عمران خان کے ساتھ ساتھ شہباز شریف کے نام پر بھی کراس لگا رہے ہیں۔ یہاں میں پاکستانی سیاست کے طالب علم کے طور پر سمجھتا ہوں کہ ابھی ملک میں ایسے حکمرانوں کی ضرورت ہے جو عوامی مسائل کے حل اور ایک جدید پاکستان کی تعمیر میں اپنا نام پیدا کر یں۔ سیاستدانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہے کہ عوام کی بڑی تعداد ان پر اعتماد نہیں رکھتی۔ اگر کچھ وقت ہمارے سیاستدانوں کو سرجھکا کے قوم کی خدمت کرتے ہوئے گزارنا پڑے تو اس سے آنے والے دنوں میں جمہوریت مضبوط ہو گی۔ اس وقت نواز شریف اپنا عوامی مقدمہ مضبو ط سے مضبوط تر کرتے چلے جار ہے ہیں مگر میں اس کے نتیجے میں یہ ہرگز نہیں سمجھتا کہ وہ اگر بلاواسطہ یا بالواسطہ اقتدا ر میں آ گئے تو عوامی حاکمیت کے تصور کے حوالے سے کوئی انقلاب برپا کر دیں گے، ہمیں ابھی حقیقی جمہوری نظام کے قیام کے لئے طویل اور محتاط سفر طے کرنا ہو گا۔

شیخ طارق اقبال نے میرے ساتھ اتفاق کیا کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ تین الف ہی سب کچھ کرتے ہیں تو ان میں سے صرف ایک الف ہی ایسا ہے جس کے بارے میں مکمل یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ جو کہتا ہے وہ ہوجاتاہے اور وہ الف ہمارے اور آپ کے رب کے نام کاہے۔کہتے ہیں کہ جب تدبیر کی جا رہی ہوتی ہے تو اس وقت تقدیر مسکرا رہی ہوتی ہے۔سیاست اور صحافت ہی نہیں بلکہ علم نجوم کے تمام تر ماہرین بھی اس وقت ناکام ہوجاتے ہیں جب ان کا مقابلہ قدرت سے ہوتا ہے۔مجھے ایک الف اس وقت اس حد تک کامیاب نظر آ رہا ہے کہ اس نے نواز شریف کو ہٹوانے کے بعد سینٹ کے انتخابات میں مسلم لیگ نون کے چھتیس نشستوں کے حصول کو ناممکن بنا دیا ہے مگر عام انتخابات میں وہ الف مسلم لیگ نون کا ووٹ بنک بہت سارے حوالوں سے کاٹنے کے باوجود کامیاب نظر نہیں آ رہا۔ مجھے کہنے دیجئے کہ اس وقت اگر کوئی شے مسلم لیگ نون کے لئے خطرہ بن سکتی ہے تو وہ اس کے تاریخ ساز جلسے ہیں جو ہر شہر میں منعقد ہو رہے ہیں اور اس کے مقابلے پر نواز شریف کے بغض میں مبتلا تمام جماعتیں اپنی ہی لگائی ہوئی کرسیاں بھرنے میں ناکام نظر آ رہی ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...