نواز شریف پیش نہ ہوئے تو یکطرفہ فیصلہ دینگے : چیف جسٹس

نواز شریف پیش نہ ہوئے تو یکطرفہ فیصلہ دینگے : چیف جسٹس

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک ،آئی این پی ) چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اگر کیس کے سلسلے میں نوازشریف پیش نہ ہوئے تو یکطرفہ فیصلہ دیں گے۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کے لیے 13 درخواستوں کی سماعت کی۔ گزشتہ روزسماعت کے سلسلے میں نوازشریف عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس پر سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم کو کل پیش ہونے کے لیے دوبارہ نوٹس جاری کردیا، نوازشریف کو عدالت میں اپنے وکیل کے ذریعے بھی حاضری یقینی بنانے کا کہا گیا ہے۔عدالت عظمیٰ نے منیر اے ملک ایڈووکیٹ اور بیرسٹر علی ظفر کو عدالتی معاون مقرر کیا ہے۔سپریم کورٹ نے نااہلی مدت کیس میں عدم پیشی پر نواز شریف کو دوبارہ نوٹس جاری کردیا۔ منگل کو سپریم کورٹ میں نااہلی کی مدت کے تعین کے کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف عدالت میں پیش نہیں ہوئے جب کہ پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین پیش ہوگئے۔14 ارکان اسمبلی نے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح اور نااہلی کی مدت کے تعین کیلئے درخواستیں دائر کررکھی ہیں اور عدالت نے تمام درخواستوں کو یکجا کرتے ہوئے پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا ۔ بینچ کے ممبران میں جسٹس عظمت سعید، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ شامل ہیں۔چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس میں کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ کسی کو موقف پیش کرنے کا موقع نہ ملے، دو نام ذہن میں آئے ایک نواز شریف دوسرا جہانگیر ترین، ہم نے ان کو بھی نوٹس جاری کئے جو فریق نہیں تھے، جہانگیر ترین عدالت میں موجود ہیں، جو لوگ اس آرٹیکل کے متاثر ہیں وہ عدالت سے رجوع کریں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پارلیمنٹ نے آرٹیکل 62 میں تبدیلی نہیں کی اس کا مطلب ہے وہ اس پر رضامند ہے‘ اگر نااہلی تاحیات نہیں تو الیکشن لڑنا امیدوار کا حق ہے‘ آئین میں کوئی چیز موجود نہیں تو ہم تشریح کرسکتے ہیں یا پارلیمنٹ کو دیکھنا ہوگا‘ پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے اور آئین کا پابند ہے‘ نواز شریف اور جہانگیر ترین کو نوٹس جاری کیا تاکہ بعد میں کوئی شکایت نہ کرے‘ کیا نظریہ پاکستان کی مخالفت کرنے والے بھی نااہل ہوسکتے ہیں؟ جسٹس عظمت سعید نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پارلیمنٹ کو اچھا نہ لگتا تو آرٹیکل 62 کو آ ئین سے نکال دیتے‘ یہ کہنے سے کاغزات نامزدگی مسترد نہیں ہوں گے کہ امیدوار کی شہرت اچھی نہیں تھی۔ منگل کو سپریم کورٹ میں آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کی۔ عدالت نے درخواست گزاروں سمیت جہانگیر ترین اور نواز شریف کو نوٹسز جاری کئے تھے۔ جہانگیر ترین عدالت میں پیش ہوئے جبکہ نوز شریف کی جانب سے نہ کوئی وکیل عدالت میں پیش ہوا اور نہ نواز شریف خود پیش ہوئے۔ اس پر سپریم کورٹ نے نواز شریف کو ایک بار پھر (آج) بدھ کیلئے نوٹس جاری کردیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ نہیں چاہتے کہ کسی کو موقف پیش کرنے کا موقع نہ ملے۔ درخواست گزار سنی بلوچ کے وکیل بابر اعوان نے اپنے دلائل دیئے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ نااہل ہونے والوں کی دو قسمیں ہیں ایک قسم قانون‘ دوسری آئین کے تحت نااہل ہونے والوں کی ہے۔ آئین کے بنے قوانین سے نااہل ہونے کی تیسری قسم ہے۔ بابر اعوان نے اپنے دلائل میں کہا کہ عدالت کو حدیبیہ فیصلے کا بھی جائزہ لینا ہوگا حدیبیہ فیصلے میں کہا گیا کہ طویل عرصہ تک سزا نہ ہونا بری ہونے کے مترادف ہے۔ حدیبیہ فیصلہ کچھ اور قانون کچھ اور کہتا ہے۔ برے کردار پر بھی نااہلی ہوسکتی ہے۔ اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ امیدوار کی ا ہلیت مخالف امیدوار چیلنج کرے گا ریٹرننگ افسر کردار کا تعین کیسے کرے گا؟ آر او کے پاس تعین کیلئے عدالتی فیصلہ یا مواد ہونا چاہئے۔ بابر اعوان نے کہا کہ کسی قانون میں اچھے برے کردار کی تعریف نہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نظریہ پاکستان کی مخالفت کرنے والے بھی نااہل ہوسکتے ہیں۔ بابر اعوان نے جواب دیا کہ نظریہ پاکستان کی مخالفت کرنے والے نااہل ہونے چاہئیں کوئی کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ فاٹا آزاد کیوں نہیں ہوتا‘ کوئی کہہ رہا ہے کہ کے پی کے پاکستان کا حصہ نہیں ہے ایسے لوگ نااہلی کے مستحق ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ پارلیمنٹ سپریم ادارہ اور آئین کا پابند ہے۔ بالادستی صرف آئین کی ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا صادق اور امین ہونا غیر مسلموں کے لئے بھی شرط ہے؟ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ صادق و امین کے الفاظ کو ملا کر پڑھا جائے یا الگ الگ؟ وکیل بابر اعوان نے کہا کہ اقلیتی امیدوار کا بھی اچھے کردار کا ہونا ضروری ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ نے آرٹیکل 62 میں تبدیلی نہیں کی اس کا مطلب ہے وہ اس پر رضامند ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ پارلیمنٹ کو اچھا نہ لگتا تو اس آرٹیکل کو آئین سے نکال دیتے۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ عدالت کے سامنے نااہلی کا سوال ہے کیا یہ ایک بار ہوگی یا تاحیات؟ اگر نااہلی تاحیات ہوتی تو سیاسی کیریئر ختم ہوجائے گا اور اگر نااہلی تاحیات نہیں تو الیکشن لڑ سکتے ہیں۔ دوبارہ نوٹس جاری کررہے ہیں اگر دوبارہ نوٹس پر بھی کوئی پیش نہ ہوا تو یک طرفہ فیصلہ سنا دیں گے۔ یک طرفہ فیصلہ بھی میرٹ کا ہوتا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کو اپنے ریمارکس میں کہا کہ امیدوار کی نااہلی کیلئے ڈیکلیریشن کی شرط 18ویں ترمیم میں شامل ہوئی چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ امیدواروں کی اہلیت و نااہلی سے متعلق عدالتی فیصلے موجود ہیں۔ چاہتے ہیں جو متاثرین ہیں وہ عدالت آکر پارٹی بنیں۔ نواز شریف اور جہانگیر ترین کو نوٹس جاری کیا تاکہ بعد میں کوئی شکایت نہ کرے۔ کوئی عدالت آئے نہ آئے اس کی مرضی ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کی ڈیکلریشن پر آر او فیصلہ کرسکتا ہے اگر ڈکلیریشن نہ ہو تو ریٹرننگ افسر کاغذات پر فیصلہ کیسے کرے گا۔ اس کے لئے پھر ارتیکل 4 اور آرٹیکل 10 اے کو دیکھنا پڑے گا یہ کہنے سے کاغذات مسترد نہیں ہوں گے کہ امیدوار کی شہرت اچھی نہیں۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آئین میں کوئی چیز موجود نہیں تو ہم تشریح کرسکتے ہیں یا پارلیمنٹ کو دیکھنا ہوگا۔ بابر اعوان صاحب آپ کتنا وقت لیں گے؟ وکیل بابر اعوان نے التجا کی کہ مجھے کل تک کے لئے مہلت دے دیں چیف جسٹس نے کہا کہ ہم 7بجے تک کیس سنیں گے۔ بابر اعوان نے کہا کہ بابا رحمت سے ملاقات کروا دیں کچھ وقت مانگ لوں گا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس پر کہا کہ بابا رحمت اصل میں ماں ہیں یہ ماں ہے جو ہمارے لئے دعا کرتی ہے۔ والدہ دنیا میں بھی دعا دیتی ہے اور دنیا سے جا کر بھی۔ بابر اعوان نے کہا کہ میری درخواست ہے اس کیس میں فل کورٹ بنائی جائے عدالتی فیصلے نے آئندہ کے الیکشن پر اثر انداز ہونا ہے کیس کی مزید سماعت کچھ دیر کے لئے ملتوی کردی گئی۔ ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے وکیل کے ذریعے نااہلی کیس مدت کیس کے سلسلے میں(آج) بدھ کو پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے ،اس سلسلے میں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ایڈووکیٹ اعظم تارڑ کو سپریم کورٹ میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے وکیل آج بدھ کو سپریم کورٹ میں پیش ہو کر عدالت سے وقت مانگیں گے۔

نااہلی مدت کیس

مزید : صفحہ اول


loading...