بجلی کی پیداوار کو 21ہزار میگاواٹ گرمیوں تک شامل ہو جائیگی : عابد شیر علی

بجلی کی پیداوار کو 21ہزار میگاواٹ گرمیوں تک شامل ہو جائیگی : عابد شیر علی

لاہور(کامرس رپورٹر) وزیر مملکت برائے توانائی عابد شیر علی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے بجلی کی پیداوار کو 13000میگاواٹ سے 21000میگاواٹ تک پہنچادیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ آنیوالے موسم گرما تک مزید 5000میگا واٹ بجلی سسٹم میں داخل کردی جائے گی جبکہ رواں سال اپریل تک نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ مکمل کرلیا جائے گا۔گزشتہ روز واپڈا کمپلیکس قصور میں منعقدہ کھلی کچہری میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے عابد شیر علی کا کہنا تھا کہ میں اور میری لیسکو کی ٹیم چیف ایگزیکٹو سید واجد علی کاظمی کی سربراہی میں آ پ کی عدالت میں آئے ہیں اور ہفتہ اور اتوار کی چھٹی کے دوران بھی کام کیا جائے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ کسی سائل کا مسئلہ باقی نہ رہے۔اس موقعے پر اووربلنگ کی شکایت پر نورپور سب ڈویثرن کے میٹر ریڈراور کیسرگڑھ کے میٹر انسپکٹر کو فوری طور معطل کردیا گیا۔ وفاقی مملکت برائے توانائی عابد شیر علی نے وصول کردہ شکایات کے حل کے چیف انجنئیر محمد علی ڈوگر کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی کمیٹی بنا دی ۔

عابد شیرعلی

Asad iqbal 30_Jan { 3 }

لاہور(کامرس رپورٹر)پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی (پیپکو) کے زیراہتمام بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی دسمبر 2017ء کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے ایک میٹنگ 27جنوری 2018منعقد ہوئی۔ جس میں Sustainable Development Goals کے پہلے مرحلے کے تحت ترقیاتی سکیموں کے نفاذکی کارکردگی اطمینان بخش رہی ۔میپکو،فیسکو نے تعداد میں بہت زیادہ ہونے کے باوجود بھی بالترتیب 3646 اور 1595 ترقیاتی سکیموں پر دیئے گئے اہداف مقررہ وقت پر حاصل کئے۔ پیسکو، سیپکو اور کیسکو کے علاوہ باقی تمام تقسیم کار کمپنیوں نے گھریلو اور کمرشل صارفین کی تصویری میٹر ریڈنگ (Picture Based) کے اہداف پورے کئے۔ اسی طرح صارفین کے موبائل نمبر کے حصول میں میپکو، آئیسکو اور فیسکو نے 90 فیصدصارفین کے موبائل فون نمبر حاصل کر کے پہلی تین پوزیشنوں میں رہیں جبکہ اس سلسلے میں حیسکو اور سیپکو کی کارکردگی اس سلسلے میں غیرتسلی بخش رہی۔ جنہوں نے دسمبر 2017ء تک صرف 24 فیصد صارفین کے موبائل فون نمبر حاصل کئے جبکہ پیسکو اور کیسکو نے اپنے تمام صارفین میں سے صرف 2 فیصدکے موبائل فون نمبر حاصل کئے جو کہ بدترین کارکردگی ہے۔ صارفین سے موبائل فون نمبر کے حصول کا مقصد ان کو ایس ایم ایس کے ذریعے رئیل ٹائم میٹر ریڈنگ کی فراہمی اور ان کے فیڈرز پر نقائص کے متعلق معلومات فراہم کرنا ہے۔بلنگ شیڈول کے بروقت نفاذ میں فیسکو تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں سرفہرست رہی۔ میپکو دوسرے نمبر پر رہی جبکہ پیسکو اور کیسکو نے اپنے بیچز (Batches) میں بالترتیب 11 دن اور 7 دن کی تاخیر کے ساتھ بُری کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔درست میٹر ریڈنگ میں فیسکو اور میپکو بالترتیب 0.96 فیصد اور 5.94 فیصد غلطیوں کے ساتھ بہترین قرار پائیں۔ اسی طرح گیپکو اور حیسکو نے بھی اچھی کارکردگی دکھائی۔ تاہم پیسکو 29.42 نے فیصد اور لیسکو نے 26.6 فیصد غلط میٹر ریڈنگ کی بدولت بُری کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اجلاس میں ڈسٹری بیوشن کمپنیز کے (AT&C Losses) کی مد میں مالی نقصانات کی خطرناک صورتحال اور سنگین اعدادوشمار سامنے آئے۔ پی آئی ٹی سی کی جانب سے دسمبر 2017ء کیلئے فراہم کئے گئے مالی نقصانات کے اعدادو شمار کے مطابق تمام 10 تقسیم کار کمپنیوں میں سے چیف ایگزیکٹو آفیسر شبیر احمد گیلانی کے ماتحت پیسکو نے 5.828 ارب روپے جبکہ چیف ایگزیکٹو آفیسر رحمت اللہ بلوچ کے ماتحت کیسکو نے 5.829 ارب روپے کا نقصان اُٹھایا۔ پیسکو میں ایس ای نوراللہ خان کے ماتحت بنوں سرکل میں لاسز کی مد میں 1.641 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ اسی طرح ایکسیئن فضل ربی کے ماتحت کرک ڈویژن میں 230 ملین روپے اور ایکسیئن زمان خان کے ماتحت بنوں I- ڈویژن میں 158 ملین روپے کا خسارہ ہوا۔ سب ڈویژن کے لیول پر ایس ڈی او فضلِ ملک کے ماتحت مٹانی سب ڈویژن نے 133.12 ملین روپے، ساجد بہادر کی سب ڈویژن دوآبہ میں 87.28 ملین روپے اور ایس ڈی او محمد عاطف اور مُراد علی کی بنوں رورل سب ڈویژن I- کو 64.26 ملین روپے کے خسارے کا سامنا رہا۔کیسکو میں ایس ای اقبال بلوچ کے ماتحت مکران سرکل میں 456.69 ملین روپے کا نقصان ہوا۔ ایکسیئن عزیزاللہ رند کی سبی ڈویژن میں 254.6 ملین روپے جبکہ ایکسیئن بنگل خان مَریکے ماتحت تربت ڈویژن میں 250.34 ملین روپے کا نقصان ہوا۔ سب ڈویژن کی سطح پر ایس ڈی او عبدالحمید بُگٹی کی سب ڈویژن سوئی میں 87 ملین روپے، ایس ڈی او حسین بخش کی سب ڈویژن لہڑی میں 71.56 ملین روپے اور ایس ڈی او داؤد خان کی سب ڈویژن ہرنائی میں 60.9 ملین روپے کا نقصان ہوا۔پنجاب میں چیف ایگزیکٹو آفیسر واجد کاظمی کے ماتحت لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے دسمبر 2017ء میں 2.136 ارب روپے مالی نقصان کے ساتھ بُری کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ایس ای مشتاق علی قمر اور ایس ای رُستم علی کے ماتحت قصور سرکل 364.569 روپے مالی نقصان کی مد میں بدترین سرکل قرار دیا گیا۔ دو بدترین ڈویژنز میں ایکسیئن محمد مشتاق کے ماتحت قصور رورل اور امان اللہ کی ماتحت کوٹ رادھاکشن بالترتیب 95.3 ملین روپے اور 34.3 ملین روپے مالی نقصان کا سامنا کیا۔ نچلی سطح پر قائمقام ایس ڈی او امجد حسین کے ماتحت رورل ایریا قصور 30.5 ملین روپے، قائمقام ایس ڈی او عبدالرشید وٹو کے ماتحت الہٰ آباد ویسٹ سب ڈویژن نے 23.45 ملین روپے جبکہ قائمقام ایس ڈی او محمد حامد رضا کے ماتحت ہلہ روڈ سب ڈویژن نے 16.55 ملین روپے کا مالی نقصان اُٹھایا۔ بدترین کارکردگی کے حامل چیف ایگزیکٹو آفیسرز اور سپرنٹنڈنٹ انجینئرز (ایس ایز) ، ایکسئینز اور ایس ڈی اوز کے خلاف تادیبی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے انE&D رولز کے تحت وضاحتی خط جاری کرکے 14 ایام کے اندر اندر وضاحت پیش کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئیں۔ اسی طرح ہر ڈسٹری بیوشن کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اپنے ماتحت ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی کریں تاکہ مالی نقصان پر قابو پا کر سرکلر ڈیٹ میں اضافے کو روکا جائے۔

مزید : صفحہ اول


loading...