دہشتگردی عالمی مسلہ بن چکا، صرف پاکستان کیساتھ نہ جوڑا جائے ، ناصر جنجوعہ

دہشتگردی عالمی مسلہ بن چکا، صرف پاکستان کیساتھ نہ جوڑا جائے ، ناصر جنجوعہ

اسلام آباد(آئی این پی)مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے ‘ اسے صرف پاکستان کے ساتھ نہ جوڑا جائے ۔1979ء کے بعد مدرسوں کا ایک منفی تاثر بنا ‘ پاکستان کے 44 فیصد بچے سکولوں میں نہیں جانتے ‘ ملک کے 38 ہزار مدارس میں 35 لاکھ بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں لیکن حکومت مدارس پر کچھ خرچ نہیں کرتی ‘ مدرسے کے طلبہ کو مساوی مواقع دینے کی ضرورت ہے ‘ ہر سکول ‘ کالج اور یونیورسٹیز میں بھی اصلاحات ہونی چاہئیں‘ افغانستان میں قیام امن کیلئے سب کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔ منگل کو ناصر جنجوعہ نے مدرسہ اصلاحات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغان جنگ میں ہمارا کوئی حصہ نہیں تھا ‘ نائن الیون کی جنگ میں بھی ہمارا کوئی حصہ نہیں تھا۔ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے ‘ اسے صرف پاکستان کے ساتھ نہ جوڑا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ 1979ء کے بعد مدرسوں کا ایک منفی تاثر بنا مدارس کا تعلق جہاد کے ساتھ رہا۔ جہاد کو منفی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 2 کروڑ 185 سکولز ہیں آپ کے 44 فیصد بچے سکولوں میں نہیں جاتے ہیں۔ سکولوں میں جانے والوں میں سے 30 فیصد بچے ایف اے ‘ ایف ایس سی کر پاتے ہیں۔ ملک کے 38 ہزار مدارس میں 35 لاکھ بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں لیکن حکومت مدارس پر کچھ خرچ نہیں کرتی۔ اصلاحات کی ضرورت ہر جگ پر ہے۔ ایسا کام نہیں کرنا چاہتے جس سے میرٹ متا ثر ہو۔ مدرسے کے طلبہ کو مساوی مواقع دینے کی ضرورت ہے۔ سکول ‘ کالج اور یونیورسٹیز میں بھی ریفارمز ہونی چاہئیں۔ 5 سے 16 سال کے بچھوں کی تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے۔ وفاقی اور صوبائی وزارتیں اس معاملے پر کام کریں۔ افغانستان میں قیام امن کیلئے سب کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔

ناصر جنجوعہ

مزید : صفحہ اول


loading...