فوج اور عدلیہ سے سامنے بات ہوتی ہے ، تمام اداروں کا مقصد ملکی بہتری ، کسی سے سی پیک ڈور بات چیت اسلام آباد نہیں ہو رہی عجیب فیصلے ہیں کسی کو ایک دن ، کسی کو پوری زندگی کیلئے نا اہل قرار دیا گیا شہباز شریف کی بطور وزیر اعظم نامزدگی پارٹی فورم پر نہیں : وزیر اعظم

فوج اور عدلیہ سے سامنے بات ہوتی ہے ، تمام اداروں کا مقصد ملکی بہتری ، کسی سے ...

(مانیٹرنگ ڈیسک ،آئی این پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ فوج اور عدلیہ ملک کے ادارے ہیں، سب کا مقصد ملک کی بہتری ہے، فوج اور عدلیہ کے ساتھ بیک ڈور بات چیت نہیں ہو رہی، رشتے آئین نے بنا دیئے ہیں، بات چیت سامنے ہوتی ہے،شہباز شریف کی بطور وزیراعظم نامزدگی پارٹی فورم پر نہیں ہوئی،سینٹ الیکشن میں پارٹی امیدوار سے ہٹ کر ووٹ دینے والے کا احتساب عوام کریں گے،عوام جس جماعت کے حق میں فیصلہ کریں گے وہ حکومت بنا لے گی،نوازشریف کو پہلے بھی سزا ہوئی تھی پھر بھی وزیراعظم بنے، کسی کو ایک دن، کسی کو پوری زندگی کیلئے نااہل قراردیا گیا، عجیب فیصلے ہیں، نگران وزیراعظم کیلئے اچھے نام ذہن میں موجود ہیں، اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے ایک ماہ قبل اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کریں گے، کوئی ادارہ کسی امیدوار کے حق میں دھاندلی کیوں کرے گا، الیکشن میں ہر امیدوار کامیابی کیلئے اپنا اپناز ور لگائے گاآپ میں اتحاد نہیں پھر بھی ہم ویج ایوارڈکا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں گے،چودہری نثار اور پرویز رشید پارٹی کے اہم رہنما، بیانات کوئی مسئلہ نہیں، اختلافات گھرمیں بھی ہو جاتے ہیں، مسئلہ حل ہو جائے گا، جرنلسٹ تنظیمیں اتحاد پیدا کریں تا کہ صحافیوں کے مسائل حل کرنے میں آسانی ہو،ویج ایوارڈ کا مسئلہ حل کریں گے،صحافیوں اور میڈیا مالکان کے تحفظات دور کرنے کیلئے مریم اورنگزیب کو ذمہ داری سونپ دی ہے،مسلم لیگ (ن) کے علاوہ باقی لیگی دھڑے تانگہ پارٹیاں ہیں۔ منگل کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (دستور)کے وفد نے حاجی نواز رضا کی قیادت میں ملاقات کی، جس میں صحافیوں کی تنخواہوں اور دیگر صحافتی مسائل پر گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ تمام صحافتی تنظیمیں آپس میں اتحاد پیدا کریں تا کہ صحافیوں کے مسائل حل کرنے میں آسانی ہو،انہوں نے سی پی این اور اے پی این ایس کے وفد کی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان سے ملاقات میں میڈیا مالکان نے کچھ تحفظات ظاہر کئے تھے، جن کے حل کیلئے وزیرمملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کو ذمہ داری سونپ دی ہے،جلدمسائل حل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے مسائل مل بیٹھ کر حل کریں گے،ویج ایوارڈ ، انشورنس اور صحافیوں کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا مسئلہ بھی یقینی حل کریں گے، جس طرح شوگر ملز کے مسائل حل کئے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے شہباز شریف کو آئندہ وزیراعظم نامزد کیا لیکن کچھ لوگ ابہام پیدا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ہی واحد جماعت ہے جسے عوام میں پزیرائی حاصل ہے، باقی لیگی دھڑے تانگہ پارٹیاں ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن کا کام بیان بازی کرنا ہے جبکہ ہمارا کام عوام کی خدمت کرنا ہے،الیکشن میں نتائج سب کے سامنے آ جائیں گے اور پتہ چل جائے گا کہ کس نے کام کیا اور کس نے تنقید کی۔ الیکشن میں دھاندلی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ ہر امیدوار الیکشن جیتنے کیلئے زور لگاتا ہے کوئی ادارہ دھاندلی نہیں کرنے دیتا۔ 2013کی نگران حکومت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس حکومت کا کام قوم کے سامنے آ چکا ہے،اب ہم چاہتے ہیں کہ ایسا نگران سیٹ اپ ہو جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے، میرے ذہن میں کچھ نام ہیں جن کا فی الحال میں ذکر نہیں کروں گا،ان ناموں پرمشاورت کے بعد ہی بات چیت کی جا سکتی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 62ون ایف پر بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ نا اہلی معاہدے کی مدت عدلیہ نے طے کرنی ہے وہ کسی کو ایک ماہ، کسی کو دو ماہ اور کسی کو ایک سال کی نااہلی معاملات عدلیہ ہی حل کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کو اسمبلی رکنیت سے نا اہل قرار دیا تھا لیکن پارٹی صدارت سے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو ہائی جیکر بنا کر باہر بھیج دیا گیا تھا، وہ پھر واپس آ گئے، اب پانامہ سے فیصلہ شروع ہو کراقامہ پر آ گیا ہے،اب عوام کارکردگی پر فیصلہ کرے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں صوبوں میں ایم پی ایز اور وفاق میں ایم این ایز نے ووٹ دینے ہیں جو اپنا ضمیر بیچے گااسے بعد میں دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں احتساب صرف سیاستدانوں کا ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ نواز شریف کی تصویر پر ہی ووٹ ملے گا، میری یا شہباز شریف کی تصویر لگانے سے ووٹ نہیں ملے گا، جس طرح جہانگیریا شاہ محمود قریشی کی تصویر لگانے سے تحریک انصاف کو ووٹ نہیں مل سکتا، اسی طرح نواز شریف کی تصویر پر ہی مسلم لیگ (ن) کو ووٹ ملے گا۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے چوہدری نثار علی خان اور پرویز رشید کے درمیان اختلافات پر کہا کہ گھر میں بھی اختلاف رائے ہوتا ہے دونوں اہم رکن ہیں مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فوج اور عدلیہ ملکی ادارے ہیں ان سے بیک چینل نہیں سامنے بات چیت ہوتی ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پی ایف یو کے صدر کو ویج ایوارڈ، صحافیوں کی انشورنس اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی جیسے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک میں کئی نظاموں کا تجربہ کیا گیا صرف پارلیمانی نظام ہی کامیاب رہا، ترقیاتی کاموں کا انحصار محصولات پر ہوتا ہے، تعلیم ترقی کا زینہ ہے، تعلیم سے آراستہ کئے بغیر کوئی بھی قوم ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتیں۔منگل کو گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ کے طلباء کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملکی معیشت کو بہتر بنا کر ہی روزگار کے وسیع مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں، افراد کی استعداد کار میں اضافے سے ہی ملک مستحکم انداز میں ترقی کرتے ہیں، تعلیم ترقی کا زینہ ہے، تعلیم سے آراستہ کئے بغیر کوئی بھی قوم ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے طلباء کو جمہوریت، پارلیمانی نظام اور حکومتی ڈھانچے کے کام کرنے کے طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کئی نظاموں کا تجربہ کیا گیا تاہم صرف پارلیمانی نظام ہی کامیاب رہاہے، ترقیاتی کاموں کا انحصار محصولات پر ہوتا ہے، ملک کی کل آبادی کا صرف اعشاریہ 8فیصد حصہ ٹیکس ادا کرتا ہے، تمام شعبوں سے آگاہی کیلئے نصاب میں شامل تمام مضامین کا مطالعہ کیا جانا چاہیے۔(اح)

وزیر اعظم عباسی

مزید : صفحہ اول


loading...