الحمد للہ پاکستان میں ہوں ،انصاف کیلئے چیف جسٹس کو خط لکھوں گا:راؤ انوار

الحمد للہ پاکستان میں ہوں ،انصاف کیلئے چیف جسٹس کو خط لکھوں گا:راؤ انوار

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معطل ایس ایس پی ملیر راؤ انوارنے اپنے بیرون ملک فرار ہونے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ الحمد للہ میں اس وقت پاکستان میں موجود ہوں اور موجود ہ حالات میں عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے، اسلام آباد میں جس گھر پرچھاپا مارا گیا وہ 25سال پہلے فروخت کر چکے ہیں اور سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر انہوں نے شناختی کارڈ پر گھر کا ایڈریس تبدیل نہیں کرایا۔ نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کراچی پولیس کی جانب سے اسلام آباد میں واقع ان کے گھر پر چھاپے کی خبروں کی تردید کی اور کہا جس گھرچھاپا مارا گیا ، وہ اسے25سال پہلے وقاص رفعت نامی شخص کو فروخت کرچکے ہیں ،راؤ انوار کا کہنا تھا کہا جا رہا ہے میں بلاول ہاؤس میں ہوں لیکن اس میں کوئی صداقت نہیں اور آصف زردار ی سے میرے اس قسم کے مراسم نہیں ہیں، 1995 میں اچھا کام کیا اس لیے آصف زرداری میری عزت کرتے ہیں۔ ملک ریاض کا جہاز دیکھا تک نہیں اور لوگ نہ جانے کیا کیا باتیں بنا رہے ہیں۔انصاف کیلئے چیف جسٹس کو خط لکھ رہا ہوں، پولیس مقابلے کی ایف آئی آر میں میرے پہنچنے کا وقت غلط ظاہر کیا گیا ہے، میری تنخواہ ایک لاکھ روپے ہے انکم ٹیکس کہاں سے دوں گا، میرے پاس تو اپنی سائیکل بھی نہیں ، فاروق دادا کو مارنے پر جو انعامی رقم ملی اس سے گھر خریدا۔میرا صرف ایک بینک اکاؤنٹ ہے جو سرکاری بینک میں ہے اور جس میں تنخواہ آتی ہے، ہر ماہ کی 9، 10 تاریخ کو تنخواہ نکال لیتا ہوں۔اس سے قبل سابق ایس ایس پی راؤ انوار نے میڈیا کو واٹس ایپ کے ذریعے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا تھا میں نے میڈیا کو اسلام آباد ایف ٹین کے مکان کے یوٹیلیٹی بلز بھی بھیج دئیے تھے۔ یوٹیلیٹی بلز اور پراپرٹی ٹیکس کے بل پر مالک مکان کا نام وقاص رفعت درج تھا۔ایف بی آر کے ریکارڈ کے مطابق راؤ انوار نے نیشنل ٹیکس نمبر 2011 میں حاصل کیا اور ایف بی آر کے ریکارڈ میں راؤ انوار کے گھر کا پتہ اسی مکان کا درج ہے جس پر پولیس نے چھاپہ مارا ہے ۔سابق ایس ایس پی نے اپنے گھر کے اسے ایڈریس پر اپنا شناختی کارڈ بھی حاصل کیا تھا۔واضح رہے راؤ انوارپر نقیب اللہ نامی نوجوان کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کرنے کا الزام ہے اور وزیر اعلیٰ سندھ نے انہیں معطل جبکہ سپریم کورٹ نے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کیا تھا، تاہم سپریم کورٹ کی مدت ختم ہونے کے باوجود معطل ایس ایس پی کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔

راؤ انوار

Ba

مزید : صفحہ اول


loading...