اسماء عاصمہ قتل کیسز ، فرانزک ٹیسٹ میں خیبر پختونخوا اہل نہیں ، ملزمان گرفتار نہ ہونا پولیس کی کوتاہی : چیف جسٹس

اسماء عاصمہ قتل کیسز ، فرانزک ٹیسٹ میں خیبر پختونخوا اہل نہیں ، ملزمان ...

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ میں مردان کی 4سالہ اسماء کے بداخلاقی کے بعد قتل اور کوہاٹ کی میڈیکل کی طالبہ عاصمہ رانی کے قتل کے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ملزمان کی عدم گرفتاری پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ملزمان گرفتار نہ کیا جانا خیبرپختونخوا پولیس کی کوتاہی ہے۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پاس لاہور کی طرح فرانزک لیب نہیں ہے؟ اس پر ڈی آئی جی نے بتایا کہ ہمارے پاس آلات ہیں مگر لیب نہیں ہے۔چیف جسٹس نے ڈی آئی جی اول خان سے استفسار کیا کہ آپکی اپنی لیب میں جو ہوا وہ ہمارے ساتھ شیئر کریں، اس پر ڈی آئی نے بتایا کہ کے پی میں اس حوالے سے ابھی کچھ نہیں ہوا۔جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے اس کامطلب ہے کے پی میں ابھی اس حوالے سے اہلیت ہی نہیں۔ڈی آئی جی نے عدالت کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اسمائکیس کے نمونے سیف کسٹڈی میں ہیں، اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نمونوں نے بھاگ جانا تھا؟ کتنے عرصے تک نمونے قابل استعمال رہتے ہیں؟ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ملزم گرفتار کیا گیا ہے؟ اس پر پولیس افسر نے بتایا کہ نہیں ابھی تک ملزم نہیں پکڑا گیا، ہم فرانزک رپورٹ کا انتظار کررہے ہیں، 350 افراد کو واقعے میں شامل تفتیش کیا ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کیاآپ کے پاس کوئی طریقہ کار نہیں ہے؟ محترم یہ آپ کی کوتاہی ہے۔چیف جسٹس نے عدالتی معاون کو ہدایت کی کہ رپورٹ مکمل کیوں نہیں ہوئی، پنجاب فرانزک لیب سے پوچھیں۔معزز چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں نے بہت سنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس بہت مستعد ہے، ملزم گرفتار نہ کیا جانا خیبرپختونخوا پولیس کی کوتاہی ہے، آئی جی کے پی کو یہاں ہونا چاہیے تھا،آئی جی کہاں ہیں؟ ابھی کل ہی ایک واقعہ ہوا جس میں میڈیکل کی طالبہ عاصمہ رانی کو رشتہ نہ دینے پر مجاہد اللہ آفریدی نامی شخص نے فائرنگ کوقتل کردیاگیاہے اس پر کیا پراگریس ہے؟ اس پر ڈی پی او کوہاٹ نے کہاکہ عاصمہ کے قتل میں نامزد ملزم صدیق آفریدی کو گرفتار کرلیا ہے جو مرکزی ملزم مجاہد گل آفریدی کا بھائی ہے جب کہ بیرون ملک فرار مرکزی ملزم کی گرفتاری کیلئے انٹرپول سے رابطہ کیا جارہا ہے۔اس دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سنا ہے پی ٹی آئی کے رہنما کا عزیز ملوث ہے؟ وہ لڑکا کس طرح ملک سے بھاگ گیا؟چیف جسٹس پاکستان نے آئی جی خبیر پختونخوا صلاح الدین محسود سے 24گھنٹوں میں رپورٹ طلب کرلی۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے کٹاس راج مندر کیس میں فیکٹریوں کی جانب سے پانی کے استعمال کی رپورٹ جمع نہ کرانے پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عصمہ حامد پر ایک ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا، سی پیک پاکستان کیلئے ایک انتہائی اہم منصوبہ ہے، جس سے متعلق کئی تنازعات سامنے آرہے ہیں جبکہ ہم سی پیک منصوبے سے متعلق تمام تنازعات کا حل چاہتے ہیں اور اس مقصد کیلئے تمام چیف جسٹس صاحبان کو بلا لیا ۔چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کٹاس راج مندر کی حالت زار سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ کیس کی سماعت کے دوران بینچ نے چیف سیکرٹری پنجاب زاہد سعید اور چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کمیشن کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا۔اس دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کٹاس راج مندر کے آس پاس قائم فیکٹریوں کی وجہ سے مندر کے تالاب کا پانی آلودہ ہو رہا ہے تو پھر فیکٹریوں کو اپنے لیے متبادل بندوبست کر لینا چاہیے۔چیف جسٹس نے کٹاس راج مندر کو اپنی اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ فیکٹریوں کی وجہ سے ماحول بھی بہت خراب ہو رہا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ مندر کے آس پاس قائم فیکٹریاں اپنے لیے متبادل پانی کا بندوبست کریں اور اس حوالے سے وقت کا تعین بھی کریں۔اس دوران چیف جسٹس نے متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین صدیق الفاروق کو بھی نوٹس کرتے ہوئے کہا کہ صدیق الفاروق کی ٹرم ختم ہوچکی،کیسے اب تک تعینات رہ سکتے ہیں؟ وزیراعظم کی نوازش پر یہ کب تک عہدے پر رہیں گے؟ صدیق الفاروق کتنی دیر مسلم لیگ(ن) کے دفترمیں کام کرتے رہے؟چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی وابستگی اور ذاتی پسند و ناپسند پر بھرتیاں نہیں ہونی چاہئیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ صدیق الفاروق کو 30 سال کی سیاسی وابستگی کی وجہ سے عہدے پر فائز کیا گیا، پارٹی دفتر میں اخبارات جمع کرنے والے کو انتہائی اہم عہدے پر فائز کر دیا گیا۔

کٹاس راج مندر کیس

مزید : صفحہ اول


loading...