سپریم کورٹ کی مہلت ختم ، راؤ انوار کو گرفتار نہ کیا جا سکا

سپریم کورٹ کی مہلت ختم ، راؤ انوار کو گرفتار نہ کیا جا سکا

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) نقیب اللہ قتل کیس میں نامزد معطل ایس ایس پی راؤ انوار کی گرفتاری کیلئے سپریم کورٹ کی تین ر و ز کی مہلت ختم ہوگئی لیکن پولیس ملزم کو گرفتار نہ کرسکی۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی نقیب اللہ کیس میں نامزد معطل ایس ایس پی راؤ انوار کے ٹھکانے سے لاعلم نکلے ، جبکہ سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انور کے خیبرپختونخوا میں نہ ہونے کے بارے میں رپورٹ سندھ حکومت کودیدی ہے۔ تفصیلات کے مطابق13 جنوری کو کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں ایک پولیس مقابلے کے دوران نقیب اللہ محسود کو ہلاک کیا گیا جس کے بعد اس وقت ایس ایس پی ملیر کے عہدے پر تعینات راؤ انوار نے نقیب اللہ کے دہشت گرد ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔نقیب اللہ کی ہلاکت پر اس کے اہلخانہ سامنے آگئے اور شدید احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا جس پر راؤ انوار نے مقابلے کا الزام ایس ایچ او شاہ لطیف ٹاؤن پر دھر دیا لیکن سندھ حکومت نے معاملے کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جس نے پولیس مقابلے کو جعلی قرار دیا۔سپریم کورٹ نے بھی نقیب اللہ قتل کیس کا از خود نوٹس لیا اور دبئی فرار ہونے کی کوشش کرنیوالے راؤ انوار کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیا جبکہ عدالت نے 27 جنوری کے روز راؤ انوار کو طلب کیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے، جبکہ راؤ انوار کیس کی تحقیقات بنائی جانیوالی کمیٹی کے سامنے بھی پیش نہیں ہوئے اور انہوں نے کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے صاف انکار کیا۔سپریم کورٹ نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو راؤ انوار کی گرفتاری کیلئے تین روز کی مہلت دی تھی جو آج ختم ہوچکی ہے۔آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے راؤ انوار کی گرفتاری کیلئے گزشتہ دنوں حسا س اداروں کو خط بھی لکھا اور ملزم کی گرفتاری کیلئے تکنیکی اور انٹیلی جنس معاونت کی درخواست کی لیکن ملزم اب تک گرفتار نہیں ہوسکا ہے۔ہفتے کے روز سپریم کورٹ میں پیشی کے دوران آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا اگر انہیں پتا ہوتا راؤ انوار کہا ں ہے تو پہلے ہی پکڑ کر لے آتے۔پولیس کی جانب سے راؤ انوار اور جعلی پولیس مقابلے میں شامل اہلکاروں کے موبائل فون کے فرا نز ک تجزیئے اور سی ڈی آر کیے گئے جس سے ثابت ہوا ہے راؤ انوار مقابلے کے وقت وقوعہ پر موجود تھے اور تمام اہلکار و افسران ایک دو سر ے سے لمحہ بہ لمحہ رابطے میں رہے۔ادھر میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی نقیب اللہ کیس میں نامزد معطل ایس ایس پی راؤ انوار کے ٹھکانے سے لاعلم نکلے اور کہا راؤ انوار کے معاملے پر فوری تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جس نے 48 گھنٹوں میں رپورٹ دی، کمیٹی نے جو سفارشات کیں ان پر عملدرآمد کیا گیا، ان کی گرفتاری کیلئے پولیس نے پورے ملک کے اداروں کو لکھ دیا ہے، امید ہے سب ادارے مل کر کام کریں گے۔راؤ انوار کو زمین کھاگئی یا آسمان نگل گیا؟ صحافی کے سوال پر مراد علی شاہ کا کہنا تھا اگر میڈیا کو معلوم ہے راؤ انور کہاں ہیں تو پولیس کو بتادے۔وزیراعلیٰ نے آصف زرداری اور راؤ انوار کی ملاقات کی خبرکو بھی غلط قرار دیا،ان کا کہنا تھا میں بھی کئی پولیس افسران کو جانتا ہوں جو اچھے بھی ہوتے ہیں اور برے بھی، راؤ انوار اس وقت ایک ملزم ہیں اور کوئی اتنا طاقتور ہے کہ پورے ملک کے ادارے چیف جسٹس کے حکم پر بھی اسے گرفتار نہ کرسکیں تو پتا نہیں اس میں کون ملوث ہے یہ دیکھ لیں گے لیکن کوئی اتنا طاقتور نہیں۔دوسری طرف سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انور کے خیبرپختونخوا میں نہ ہونے کے بارے میں رپورٹ سندھ حکومت کودیدی ہے، سندھ پولیس کی ایک ٹیم گزشتہ روزپشاور پہنچی ،محکمہ داخلہ سندھ اور سندھ پولیس نے نقیب اللہ وغیرہ کے مقابلے میں حکومت کو مطلوب سابق ایس ایس پی کی گرفتاری کیلئے خیبرپختونخوا حکومت ، پنجاب حکومت اور بلوچستان حکومتوں سے رابطہ کیاتھا جس پر صوبے بھر میں سابق ایس ایس پی راؤ انور کی ممکنہ موجودگی کے بارے میں رپورٹ طلب کی تھی کہ آیا وہ خیبر پختونخوا آیا ہے کہ نہیں تاہم صوبے کے کسی ضلع میں ان کی موجودگی کے بارے میں معلومات نہیں ہے جس پرذرائع کے مطابق خیبرپختونخواپولیس نے سندھ حکومت کو آگاہ کیا ہے خیبر پختونخواپولیس دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں فرنٹ لائن کاکردار ادا کر رہی ہے پنجاب ، سندھ ، بلوچستان کی نسبت خیبرپختونخوا پولیس کی کارکردگی بہتر بتائی گئی ہے ۔

راؤ انوار معاملہ

مزید : صفحہ اول


loading...