ہم سے مطالبات کرنیوالا مغرب ہمارے حقوق کا مثبت جواب نہیں دیتا:رضا ربانی

ہم سے مطالبات کرنیوالا مغرب ہمارے حقوق کا مثبت جواب نہیں دیتا:رضا ربانی

اسلام آباد(آئی این پی) چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے کہا ہے موجودہ صدی میں ایشیائی خطے کو نسلی ،لسانی و قومی بنیادوں پر تقسیم اور غیر مستحکم بنانے کی سازشوں کا مرکز بنا ہوا ہے،خطے کے اہم ممالک متصادم اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ سرد جنگ کی ضر و ریات کو پورا کیا جا سکے، خطے کے ممالک اپنے مستقبل سے نظریں ہٹا چکے ہیں اور پورا خطہ نسلی اور دیگر بنیادوں پر تقسیم ہو چکا ، مغرب ہم سے مطالبات کرتا ہے لیکن ہمارے مطالبات کا مثبت جواب نہیں دیتا،پاکستان ایشیائی خطے کی ترقی اور لوگوں کی خوشحالی کیلئے باہمی ہم آہنگی و اتحا د کے ذریعے علاقائی خود انحصاری کے فلسفے پر عملدرآمد کیلئے سرگرم ہے۔منگل کو اسلام آباد میں مقامی ہوٹل میں تیسری ای سی او اٹا ر نیز / پر ا سیکیوٹرز جنرل کانفرنس2018سے خطاب میں انکا مزید کہنا تھا ایشیائی خطے کے ممالک اپنے مستقبل سے نظریں ہٹا چکے ہیں اور پورا خطہ نسلی اور دیگر بنیادوں پر تقسیم ہو چکا ہے جس سے ان کو تو کوئی فائدہ نہیں لیکن سرد جنگ میں شامل بڑے بڑے ممالک کے مقاصد پورے ہو رہے ہیں۔خطہ مجموعی طور پر عدم استحکام کی شدید لہروں سے گزرا ہے اور پاکستان اس پورے عمل میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ایشیا کے کسی ایک ملک کا عدم استحکام صرف اس ملک تک محدود نہیں بلکہ اس سے پورے خطے کی تقدیر جڑی ہوئی ہے اور یہ پورے خطے کیلئے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ پاکستان کئی بین الاقوامی کنونشنز ،جن کا تعلق انسانی سمگلنگ اور بین اغوا کے واقعات سے ہے ،کا فریق ہے اور ان کی توثیق کی ہے اور منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو مالی امداد روکنے کے سلسلے میں بڑے موثر اقدامات کئے ہیں،تاہم یہ کنونشن اور معاہدے قوانین یا کسی ریاست کی سلامتی کی خلاف ورزی کیلئے بنیاد نہیں بننے چاہئیں۔دوبل بعنوان ''ٹریفکنگ ان پر سنزبل اور سمگلنگ آف مائیگرینٹس بل ''سینیٹ میں دوسری ریڈنگ کے مرحلے میں ہیں۔ ان بلوں کا مقصد پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ دار یوں کو پورا کرنے کیلئے اندرونی طورپر قوانین بدلنا ہے ۔چیئرمین سینیٹ نے کہا انسانی اسمگلنگ کی تشریح کرنا ضروری ہے ۔ البتہ تارکین وطن مزدوروں کی اسمگلنگ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ان غریب مزدوروں کیساتھ غیرانسانی سلوک کیا جارہا ہے ، انہیں سمندر پار کرتے وقت کشتیوں اور سرحدوں پر گولیوں سے ہلاک کیاجاتاہے ۔بین الاقوامی کاروباری ادارے ہمارے ملک میں آتے ہیں، یہاں کارخانے لگاتے ہیں، یہاں کے قدرتی اور انسا نی وسائل سے مستفید ہوتے ہیں مگر ہمارے مزدوروں کو ان ممالک میں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ اقتصادیات کے شعبے میں مقا بلے کے اس رحجان نے مختلف خطوں کے مابین اقتصادی جنگ کی صورت پیدا کردی ہے جو انتہاپسندی میں اضافہ کی ایک بنیادی وجہ بن رہی ہے۔ ای سی او کی سطح پر ہونیوالی کوششوں کو مزید موثراو ر نتیجہ خیز بنانے کیلئے میری تجویز ہے کہ قانونی ماہرین کے اس پلیٹ فارم پر اسی طرح کی تقریبات پارلیمنٹرین(جوقانون سازی کرتے ہیں)اور ایگزیکٹوز (جو قوانین پر عملدرآمد کرواتے ہیں)کیلئے بھی منعقد کی جائیں تاکہ ہم خطے کے ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ کیلئے ایک جامع قانون اور طریقہ ہائے کار پر عمل پیرا ہوسکیں، ای سی او کو ایک نمونہ تنظیم بنا یا جاسکتا ہے۔ ہمیں اپنے خطے کی بہترین تنظیم بنانے کیلئے ریاست کے تینوں ستونوں بشمول مقننہ، عدلیہ اور ایگزیکٹو کو یکجا کرنیکی ضرورت ہے ۔

رضا ربانی

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...