کوہاٹ ،عاصمہ قتل کیس ،نامزد ملزمان میں سے ایک گرفتار

کوہاٹ ،عاصمہ قتل کیس ،نامزد ملزمان میں سے ایک گرفتار

کوہاٹ(بیورورپورٹ) کوہاٹ ،عاصمہ رانی قتل کیس میں چوبیس گھنٹوں کے اندر اہم پیش رفت ہوئی ہے اور پولیس نے مقدمے میں نامزد دو ملزمان میں سے ایک ملزم صادق اللہ آفریدی کو گرفتار کرلیا ہے ۔میڈیکل طالبہ کے قتل کیس میں ملوث ملزم صادق اللہ آفریدی کوگزشتہ شب کامیاب کاروائی کے دوران حراست میں لیا گیا ہے۔ واردات کے فوراً بعد بیرون ملک فرار ملزم مجاہد اللہ آفریدی کی گرفتاری کیلئے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے سے رابطہ کرلیا گیا ہے جسے انٹر پول کے ذریعے گرفتار کرکے وطن واپس لایا جائے گا۔یہ بات کوہاٹ کے ضلعی پولیس سربراہ عباس مجید خان مروت نے ایس پی آپریشنز کوہاٹ جمیل اختر ،ایس پی انوسٹی گیشن جہانزیب خان ،ڈی ایس پی سٹی رضا محمد اور ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر پشم گل کے ہمراہ پولیس کلب کوہاٹ میں میڈیکل کی طالبہ عاصمہ رانی قتل کیس کے حوالے سے پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ضلعی پولیس سربراہ عباس مجیدخان مرت نے بتایا کہ 27جنوری کے روز چار بجے کے قریب کوہاٹ کے علاقہ کے ڈی اے میں میڈیکل کالج ایبٹ آباد کی طالبہ عاصمہ رانی کو گھر کے قریب فائرنگ کرکے زخمی کردیا گیا ۔واقعہ کی ایف آئی آر انکے بھائی محمد عرفان ولد غلام دستگیر کی مدعیت میں رشتے کا تنازعہ قرار دیکر دو نامزد ملزمان بھائیوں مجاہد اللہ اور صادق اللہ پسران ولیم خان ساکنان اکبر آباد بہادر کوٹ کیخلاف درج کرلی گئی اور پولیس فوری طور پر ملزمان کی گرفتاری کیلئے متحرک ہوئی ۔ڈی پی او نے بتایا کہ مقدمے میں نامزد ایک ملزم مجاہد اللہ ارتکاب جرم کے فوراً بعدبیرون ملک سعودی عرب فرار ہوا جبکہ ایف آئی آر میں نامزد اسکا دوسرا بھائی صادق اللہ بھی روپوش ہوگیا ۔ضلعی پولیس سربراہ کا کہنا تھا کہ عاصمہ رانی قتل کے اس کیس میں چوبیس گھنٹوں کے اندر اہم پیش رفت ہوئی ہے اور پولیس نے کامیاب کاروائی کرتے ہوئے ایک ملزم صادق اللہ آفریدی کو گرفتار کرلیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کیس کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے شفاف تفتیشی عمل یقینی بنانے کیلئے انکی براہ راست نگرانی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے جبکہ فرار ملزم مجاہد آفریدی کی گرفتاری کیلئے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے سے رابطہ کرلیا گیا ہے اور ملزم کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کے اقدامات مکمل کرلئے گئے ہیں ۔ڈی پی او عباس مجید خان مروت نے مزید بتایا کہ مقدمے میں نامزد ایک ملزم صادق آفریدی کو کوہاٹ سے گرفتار کیا گیا ہے جبکہ بیرون ملک فرار ملزم مجاہد آفریدی کو انٹر پول کے ذریعے گرفتار کرکے وطن واپس لائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پولیس پر کسی قسم کا سیاسی دباؤ نہیں ہے اور قتل کیس کی جدید سائنسی خطوط پر غیر جانبدارانہ اور شفاف طریقے کے مطابق تفتیشی عمل جاری ہے جسمیں جائے وقوعہ سے اہم فارنزک شواہد قبضے میں لینے اور عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران مقدمے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم ثابت ہونیوالے تمام ثبوتوں کو محفوظ کرنے کے عوامل شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ قتل کے اس کیس کی نہایت باریک بینی سے جائزہ لیا جارہا ہے۔ضلعی پولیس سربراہ عباس مجید خان مروت کا مزید کہنا تھاکہ ہماری کوشش ہے کہ کسی بے گناہ کو سزا نہ ملے تاہم انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے قتل کیس میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔بعد ازاں گرفتار ملزم صادق اللہ آفریدی کو سول جج ون کوہاٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہیں تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...