طلباء روز مرہ کے معاملات میں انصاف اور ایمانداری کے رویہ کو ترجیح دیں:اسد قیصر

طلباء روز مرہ کے معاملات میں انصاف اور ایمانداری کے رویہ کو ترجیح دیں:اسد ...

پشاور( سٹاف رپورٹر)سپیکر خیبر پختونخوااسمبلی اسدقیصر نے آج قرطبہ یونیورسٹی پشاور کے سالانہ کانوکیشن کے موقع پر فارغ التحصیل طلباء میں ڈگریاں تقسیم کی ۔اس موقع پر مہمان خصوصی سپیکر اسد قیصر نے طلباء اور دیگر مہمانان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ گذشتہ تیس سالوں سے درس وتدریس جیسے مقدس پیشے سے وابستہ رہے ہیں ،اس لئے بطور استاد وہ قوم کے معماروں کو یہ نصیحت کرینگے کہ مہذب قوم اور بہترین معاشرہ تب بنے گا جب ہم انفرادیت کی بجائے اجتماعیت کو فوقیت دیں ،دین سے دوری کو روش کو ترکریں ،اپنے روزمرہ کے معاملات میں انصاف اور ایمانداری کے رویے کو ترجیح دیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا معاشرہ دن بدن روبہ زوال ہے ،ہماری قوم کو بے تحاشہ چلینجز کا سامنا ہے ،مگر یا د رکھیں کہ قومیں مصیبتوں اور چلینجز سے ختم نہیں بلکہ اپنی روش اورحالات کو نہ بدلنے سے ختم ہو جاتی ہیں ۔ہم ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا ہے مگرہم یہ بالکل نہیں سوچتے کہ ہم نے پاکستان کو کیا دیا ۔انہوں نے فارغ التحصیل طلباء کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے حاصل کردہ علم کو کام میں لاکر اس سے استفادہ حاصل کریں ،اپنی سوچ کے اندازکو بدلے اور اس بات کو ہمیشہ کے لئے اپنے ذہن سے نکال دے کہ وہ کچھ نہیں کرسکتے ۔تب ہی جاکے وہ اس قوم کے محمد علی جناح ، قدیر خان ،ستارایدھی بن سکتے ہیں ،کیونکہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اس سوچ کے ساتھ زندگی گزاری کہ وہ اپنی قوم کو کچھ دے اور آج ان عظیم ہستیوں کے نام درخشاں ستاروں کی مانند تاریخ کے صفحات پر روشن ہیں ۔ہمارے ان نئے فارغ التحصیل طلباء کو اپنا مشن بناناہوگا کہ وہ پاکستان کی معیشت کو ایک کامیاب بینکر،استاد ،ماہر معاشیات ،سیاستدان ،کھلاڑی اور سائنس دان بن کر افق کی بلندیوں پر لے جائیں اور پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایشین ٹائیگر بنادے ۔انہوں نے کہا کہ وہ ان فارغ التحصیل طلباء کو یہ نوید سنانا چاہتے ہیں کہ انشاء اللہ آنے والے وقتوں میں اس ملک کی تقدیر بدلنے والی ہے ۔سی پیک میں شامل نئے اکنامک زونز سے بے روزگاری کے خاتمے میں مدد ملے گی اور ملک کی معیشت کو ایک بہترین سہارا ملے گا ۔خیبر پختونخواحکومت کی تعلیمی ایمرجنسی سے اس قوم کی شرح خواندگی میں اضافہ ہو ا۔اس حکومت نے بین الاقومی معیار کے قوانین پاس کئے ،پولیس کو سیاسی دباؤسے آزاد کرکے صحیح معنوں میں عوام کی جان ومال کی حفاظت جیسے اہم فریضے پر مامور کیا ۔حقیقی معنوں میں اسلامی قوانین کے نفاذ کو عملی جامہ پہنایا ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...