تخت بھائی ،منشی کے قتل میں ملوث ملزمان کی ضمانت منظور

تخت بھائی ،منشی کے قتل میں ملوث ملزمان کی ضمانت منظور

تخت بھائی(نامہ نگار ) تخت بھائی فروٹ منڈی میں 6ماہ قبل قتل ہونے والے منشی کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزمان کو سپریم کورٹ نے عدم ثبوت کی بنا پردو لاکھ دو نفری کی ضمانت پر رہا کر دیا۔اطلاعات کے مطابق تخت بھائی فروٹ منڈی کے آفس میں 13جولائی 2017 ؁ء کو فروٹ منڈی کے منشی سوار خان ولد رحمت اللہ ساکن تخت بھائی مردہ پائے گئے تھے، پوسٹ مارٹم کے مطابق مقتول کی موت پستول کی گولی سے واقع ہوئی تھی جس پر تخت بھائی پولیس نے خودکشی کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی تھی کہ تین دن بعد 16جولائی 2017 ؁ء کو مقتول کے لواحقین نے تخت بھائی کے مقامی عدالت میں زیر دفعہ 164کے تحت فروٹ منڈی مالکان عالمزیب ولد حضرت علی اور ممریز ولد گل سلم ساکنان جان خان کلے پر قتل کی دعویداری کی تھی جنہیں پولیس نے اسی دن حراست میں لے لیا تھا۔ کیس کی سماعت کے بعد ایڈیشنل سیشن جج تخت بھائی اور بعد میں پشاور ہائیکورٹ نے بھی ملزمان کی ضمانت کی درخواست مسترد کی تھی ۔بعد میں انہوں نے سینئر قانون دان صاحب زادہ اسد اللہ ایڈوکیٹ کے ذریعے سپریم کورٹ میں ضمانت کی اپیل دائر کی تھی جسے سماعت کے بعد جسٹس منظور احمد ملک اور جسٹس سردار طارق مسعود پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے منظور کرتے ہوئے منگل کے روز عدم ثبوت کے بنا پر ملزمان کو دو لاکھ دو نفری کے ضمانت پر رہا کر دیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...