ڈپٹی کمشنر ٹانک کی یونین کونسل سرنگزونہ میں کھلی کچہری کا انعقاد

ڈپٹی کمشنر ٹانک کی یونین کونسل سرنگزونہ میں کھلی کچہری کا انعقاد

ٹانک(نمائندہ خصوصی) ڈپٹی کمشنر ٹانک کی یونین کونسل سرنگزونہ میں کھلی کچہری کا انعقاد شہریوں نے مسائل کے انبار لگا دئیے ڈپٹی کمشنر راجہ فضل خالق نے مسائل کے حل کے لئے موقع پر احکامات جاری کر دئیے کھلی کچہری میں تمام محکمہ جات کے افسران نے شرکت کی کھلی کچہری میں علاقہ مکینیوں نے شکایات پیش کیں،علاقہ مکیں نے واپڈا کیخلاف شکایت کرتے ہوئے کہا کہ واپڈا حکام چوبیس گھنٹوں میں بجلی بالکل فراہم نہیں کرتے جبکہ بلوں کی ادائیگی کیلئے لاکھوں روپے مانگتے ہیں، جو علاقے والے ادا کر دیتے ہیں، انکا کہنا تھا کہ یونین کونسل سرنگزونہ میں بی ایچ یو نہ ہونے کے باعث خواتین مریضوں سمیت بچوں، بوڑھوں کو شدیدمشکلات کا سامنا ہے، بی ایچ یو قائم کی جائے تاکہ علاقے میں صحت کی بنیادی سہولیات میسر ہوسکیں، انہوں نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ گومل زام بیراج اور نہرپر کام شروع ہوتے وقت ہم اہلیان چک گومل زام ڈیم کے متعلقہ حکام کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا کہ گومل زام ریورعلاقہ گومل 1982 سے تاحال گومل ریور کے پرنیل واٹر کے حقدار ہیں، جسمیں فصل ربی اور خریف کے دونوں فصلیں ہوتی ہیں، اور کمانڈ ایریاہے ،جس پر واپڈا والوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ علاقہ گومل کے اراضی کو 120 فیصد پانی دیا جائے گا، لیکن واپڈ گومل زام ڈیم پراجیکٹ والوں نے ڈیزائین اور تقسیم اپنی مرضی کی جس سے علاقہ گومل کے زمینداروں کو اس تقسیم سے بے خبر رکھا ، مکینیوں نے چار موضع ، سرنگزانہ، غوری زائی، غاشہ اور گومل کیلئے 58483 ایکڑ زمین کا رقبہ دیا گیا جسمیں 26591 ایکڑ زمین کو پانی دیا جبکہ 31892 ایکڑ زمین پانی سے محروم رہی،انکا کہنا تھا کہ علاقہ گومل کے 31892 کو پانی سے محروم رکھا گیا جبکہ یہ رقبہ مکمل طور پر آباد اور آبی ہے علاقہ گومل جوکہ سالانہ 60 لاکھ سے زیادہ زرعی ٹیکس ادا کرتے ہیں جنکا ریکارڈ محکمہ مال میں موجود ہے،انکا کہنا تھا کہ سابق صدر پرویز مشرف نے گومل زام ڈیم کے افتتاح کے دوران علاقہ گومل ضلع ٹانک بھر کے عمائدین کو یقین دہانی کرائی تھی، علاقہ گومل کمانڈ ایریا ہے اور سروبی ہے اسلئے پہلا حق علاقہ گومل کو دیا جائیگاگومل زام سے پیدا کی جانے والی بجلی مفت ہوگی،گومل زام بیراج اور مین کنال پر کلاس فور نوکریاں علاقہ گومل اور ٹانک کی لوکل عوام کو دیا جائیگا، انکا کہنا تھا کہ موضع سرنگزونہ میں 11500کنال رقبہ پر تعمیر کیاگیا ہے جو کہ گورنمنٹ نے انتقال بھی کرالی ، جسکا تقریباں 77 لاکھ روپے معاوضہ بھی مظور ہو گیا لیکن ابھی تک ہم زمینداروں کو معاوضہ نہیں دیا گیا، انکا کہنا تھا کہ گومل نہر کے ارد گرد جنگلہ لگایا جائے تاکہ جانور پانی میں گر کر ہلاک ہو جاتے ہیں اب تک ہمارے تیس سے زائد جانور پانی کی نذر ہو گئے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارے علاقے میں بہت سے خاندانوں نے شناختی کارڈ بلاک ہوگئے اپ سے التماس ہے کہ جلد از جلد ، تصدیق کے بعد بلاک شناختی کارڈ ز کو کھول دیے جائیں گے، انہوں نے علاقہ میں تین ٹیوب ویلز کا بتایا جو بجلی نہ ہونے کے باعث بند رہتے ہیں جس کی وجہ سے علاقہ بھر میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی، علاقہ مکیں جوہڑوں کا گندا پانی پینے پر مجبور ہیں، انہوں نے گلیوں کی مرمت کی بھی استدعا کی، جس پر ڈپٹی کمشنر راجہ فضل خالق نے مسائل کوترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے بروقت متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کردیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...