تحصیل کونسل لاہورکا مختلف محکموں کے سربراہان کے ساتھ مشترکہ اجلاس

تحصیل کونسل لاہورکا مختلف محکموں کے سربراہان کے ساتھ مشترکہ اجلاس

تورڈھیر(نمائندہ خصوصی)اراکین تحصیل کونسل لاہورکا مختلف محکموں کے سربراہان کے ساتھ مشترکہ اجلاس کاانعقاد منگل کے روزہوا جسمیں تحصیل ناظم سہیل خان، اے سی لاہور گوہرعلی، ڈی ایس پی افتخار خان،ٹی ایم او نورالامین اورٹی اوآرفرمائش گل کے علاوہ محکمہ کے پی ایچ اے، پبلک ہیلتھ، سی این ڈبلیو،صحت، ایری گیشن، واپڈا، فشریز، لائیوسٹاک وغیرہ جیسے محکموں کے سربراہان شریک ہوئے اجلاس زیر صدارت نائب ناظم شہاب علی منعقد ہوا تحصیل ناظم سہیل خان نے تمام محکموں کی نمائندگی ہونے پرشرکاء کاشکریہ اداکرتے ہوئے اراکین کونسل سے باری باری مختلف محکموں کی کارکردگی پر شکایات وتجاویزپیش کرنے کی دعوت دی چنانچہ تحصیل ممبران اسد زمان،مستجاب خان ایڈوکیٹ،شادعلی، جان محمد، ذوالفقار علی ،محمداسماعیل خان اوردیگرنے ملے جلے خیالات کااظہار کرتے ہوئے تقریباً تمام محکمہ جات کی کارکردگی کو سخت تنقید کانشانہ بنایا جنکا کہنا تھا کہ محکموں کی ناقص پلاننگ کے باعث لاہور اورمانکی فیڈرزکیلئے بجلی پولز مین جہانگیرہ صوابی روڈکے انتہائی کنارے پر گاڑدئیے گئے ہیں کل کلاں اگر سڑک کی مزید توسیع کرنی پڑے تویہی پولز ناقابل تلافی نقصانات کے مضمر ثابت ہونگے جس پر محکمہ کے پی ایچ اے کے سربراہ نے کہا کہ ہم نے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آر بھی کٹوائے ہیں اورانہیں نوٹس بھی جاری ہوئے ہیں تجاوزات کے خلاف کاروائی کرکے عوام کو لاکھوں روپے کے نقصانات تودئیے جاتے ہیں مگر کسی شہری کا کنسٹرکشن کراتے وقت کوئی محکمہ حرکت میں نہیں آتا کہ اسے سرکاری حدود کی نشاندہی کرکے تو بتلائے جہانگیرہ میں سپیڈبریکرزہٹادئیے گئے تاہم کسی اورجگہ یہی کاروائی کہیں نظر نہیں آرہی چنانچہ اے سی لاہور ،ٹی ایم او اورٹی اوآر نے بتایا کہ ہر محکمہ اپنے حدود سے انکروچمنٹ ختم کرانے کا خودذمہ دارہے کہیں پر سرکاری اراضی کے پاس آبادی کرنے والے کو متعلقہ ڈیپارٹمنٹ سے این اوسی لینا لازمی قراردیا گیا ہے جبکہ سپیڈبریکرز کے خلاف پورے صوبے میں کاروائیاں جاری ہیں جسکے تحت تحصیل لاہور اوررزڑمیں70 فیصد بریکرز ختم کرائے گئے ہیں شکایت کنندگان کایہ بھی کہنا تھا کہ تحصیل ہیڈکوارٹرہسپتال لاہورمیں دن کے بارہ بجے تک لیڈی ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود نہیں ہوتی جس پر محکمہ صحت کے نمائندے نے وضاحت کی کہ موصوفہ کے خلاف شکایات کے تحت کاغذی کاروائی عمل میں لائی جاچکی ہے بہت جلد اسکے خلاف ڈیپارٹمنٹل فیصلہ ہونے والاہے مختلف یونین کونسلوں میں پینے کے صاف پانی کی پائپ لائنیں گندے پانی کی نالیوں میں سے گزری ہوئی ہیں اوراکثرمقامات پر یہی پائپ لائن پٹھی ہوئی ہیں جسکی وجہ سے مضرصحت پانی عوام پینے پر مجبور ہیں جبکہ جلسئی میں پبلک ہیلتھ کی پائپ لیک ہونے سے ساراپانی روڈکے اوپر سے گزر رہا ہے جسکے سبب وہاں پر سڑک سال بھر کھنڈرنما رہتی ہے جس پر متعلقہ سربراہ نے ایک ہفتہ کے اندر مسئلہ حل کرانے کی یقین دہانی کرائی تورڈھیرکے بازاروں میں دن کے وقت بڑی گاڑیوں کاداخلہ روکنے کیلئے بنائے گئے بیرئیر کو بھی سخت تنقید کانشانہ بنایا گیا اوراس پر آنے والے اخراجات کو قومی دولت کا ضیاع قرار دیتے ہوئے کہاگیا کہ ہر ٹرک کیلئے دن کے وقت بھی بیریئر کھولاجاتا ہے لہٰذااسکا کوئی فائدہ ثابت نہیں ہوا جس پرٹی ایم او کاکہنا تھا کہ کبھی کوئی ممبر توکبھی کوئی تاجر سفارشی بن کر بیرئیر کھولنے پر مجبور کرتے ہیں اگر یہی مداخلت ختم ہوئی تو بیرئیر مقررہ اوقات میں مکمل طور پر بند رکھے جاسکتے ہیں اجلاس میں بھی انکشاف کیا گیاکہ بعض پولیس والے لائسنس یافتہ اسلحہ لیکر چلنے پر بھی شہری کاچالان کرتے ہیں یاتو لائسنس اشونہ کیا جائے اورجب لائسنس اشوکرتے ہیں تو پھر اسے لیکر گھومنے کاحق بھی دیا جائے اورشہریوں کو بے جا تنگ کرنے سے گریز کیاجائے جس پر پولیس سب انسپکٹرنے دفعہ 144 کوجواز بناکر بات ٹال دی جبکہ تحصیل ناظم سہیل خان نے خود بھی تورڈھیر کے قصائیوں کیلئے عارضی مذبح خانہ کے قیام کے حوالے سے شکایت کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں لائیوسٹاک کے ڈاکٹر کے بجائے کلاس فورکومحکمہ کا مہر تھماکے بھیجا جاتا ہے اورایک کلاس فور ہی مہرلگاکر ساری گوشت کو صحت افزاقراردیکر چلا جاتا ہے جسکے خلاف ایکشن لینی چاہیے اسکے علاوہ اجلاس میں نیا بجلی کنکشن کیلئے ڈیمانڈ نوٹس میں جان بوجھ کر غلط اکاونٹ نمبر کے اندراج سے صارفین کو ذہنی ،جسمانی اورمالی طورپریشان کرنے، انصاف صحت کارڈ، دریاؤں میں کرنٹ یاڈائنامیٹ کیذریعے مچھلیوں کاشکار، تحصیل جوڈیشل کمپلیکس کی اندر سے نہایت خستہ حالی ،میل اورفی میل کیلئے پبلک واش رومز کی عدم دستیابی اوربارش کی صورت میں جوہڑنماکارپارکنگ جبکہ مختلف یونین کونسلوں میں 2016-17 سے چلے زیر التواء منصوبوں پر بھی سخت ناراضگی کااظہار کیاگیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...