کرنل شیر خان انٹر چینج کے نزدیک معدنیات کی غیر قانونی کان کنی سے متعلق شائع شدہ خبر کی تردید

کرنل شیر خان انٹر چینج کے نزدیک معدنیات کی غیر قانونی کان کنی سے متعلق شائع ...

پشاور( سٹاف رپورٹر)سیکرٹری محکمہ معدنیات حکومتِ خیبر پختونخوا نے ضلع نوشہرہ میں میاں عیسیٰ، نندرک اور کرنل شیر خان انٹر چینج کے نزدیک معدنیات کی غیر قانونی کان کنی سے متعلق شائع اور نشر شدہ خبر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے حقائق کے برعکس قرار دیا ہے۔ انھوں نے بتا یا ہے کہ مذکورہ رپورٹ کا تعلقہ FWO کی سوات ایکسپرس وے کی تعمیر کے لئے کھدائی کے حوالے سے ہے جو کہ ایک میگا پراجیکٹ ہے ۔ محکمہ معدنیات نے مذکورہ کھدائی کا تخمینہ لگایا ہے جسکی ریکوری پر کام جاری ہے۔سیکرٹری معدنیات نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ معدنیات نے نوشہرہ میں تعینا ت اہلکاروں کو غیر قانونی معدنی نکاسی پر ضلعی انتظامیہ کی مدد سے کڑی نظر رکھنے کی ہد ا یات جاری کی گئی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نوشہرہ نے غیر قانونی معدنی نکاسی پر دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے۔ مزید یہ کہ وزیر اعلیٰ اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کی خصوصی ہدایات پر ڈپٹی کمشنر نوشہر ہ ہمراہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نوشہرہ، اسسٹنٹ کمشنر جہانگیرہ، ڈپٹی کمشنر ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر معدنیات نوشہرہ ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر مانیٹرنگ ، معدنیات انسپکٹر اور منرل گارڈ نے گذشتہ روز گاؤں میاں عیسیٰ ، تورہ تیگا، ماسم ڈھیری، مغلکھی، جلارونہ ، نندرک اور ناصر تالاؤکا دورہ کیا جسکی رپورٹ کے مطابق مذکورہ بالا جگہوں پر کوئی بھی غیر قانونی کان کنی نہیں ہو رہی ہے۔اس کے علاوہ دو چیک پوسٹیں ایک کرنل شیر خان انٹر چینج کے نزدیک اور دوسری ناصر تلاؤ نزد موٹروے پربنائی جائیں گی ، جہاں پر ڈسٹرکٹ پولیس، FWO ، محکمہ اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکارچوبیس گھنٹے موجود ہوں گے جو کہ معدنیات لے جانے والی تمام گاڑیوں کو چیک کریں گے۔انھوں نے کہا کہ میڈیا رپورٹس حقائق پر مبنی نہیں تاہم ایسی خبروں کی اشاعت سے قبل محکمہ ہذا سے اصل صورتحال معلوم کرنا ذمہ دارانہ صحافت کے لیے ضروری ہے ۔حکومت مثبت تنقید کا خیر مقدم کرتی ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...