اثاثہ جات ریفرنس، پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ 8 فروری کو اسحاق ڈار کے خلاف بطور گواہ طلب

اثاثہ جات ریفرنس، پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ 8 فروری کو اسحاق ڈار کے خلاف بطور ...
اثاثہ جات ریفرنس، پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ 8 فروری کو اسحاق ڈار کے خلاف بطور گواہ طلب

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) احتساب عدالت نے پاناما سکینڈل کی تحقیقات کےلئے قائم ہونے والی جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کو 8 فروری کو سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کے سلسلے میں بطور گواہ طلب کرلیا۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت ہوئی،سماعت کے دوران سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی افسر سدرہ منصور نے اضافی دستاویزات جمع کرا دیں،سدرہ منصور نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار کی کمپنیوں سے متعلق 2 دستاویز رہ گئی تھیں، جو آج جمع کرائی گئی ہیں

ایس ای سی پی کے ایک اور گواہ سلمان سعید کو بھی گذشتہ روز طلب کیا گیا تھا، لیکن وہ پیش نہ ہوئے، آج کی سماعت میں سلمان سعید نے ریکارڈ پیش کرنے کےلئے کچھ دیر کی مہلت مانگی، جس کے بعد سماعت میں وقفہ کر دیا گیا،بعدازاں سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا اور گواہ سلمان سعید کا بیان ریکارڈ کرلیا گیا۔

سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر عمران شفیق نے کہا کہ عدالت جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءکی طلبی کے سمن جاری کرے، تاہم جج محمد بشیر نے ریمارکس دیئے کہ 'عدالت سمن کیوں جاری کرے، واجد ضیاءاستغاثہ کے گواہ ہیں، نیب انہیں خود پیش کرے'۔

بعدازاں احتساب عدالت نے جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءاور تفتیشی افسر کو 8 فروری کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...