سندھ ہائی کورٹ نے گنے کی قیمت 160 روپے فی من مقرر کر دی

سندھ ہائی کورٹ نے گنے کی قیمت 160 روپے فی من مقرر کر دی
سندھ ہائی کورٹ نے گنے کی قیمت 160 روپے فی من مقرر کر دی

  


کراچی (ویب ڈیسک) سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عقیل احمد عباسی کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے گنے کی قیمت سے متعلق کاشت کاروں کے حق میں نیا حکم امتناع جاری کرتے ہوئے فریقین کی باہمی مشاورت سے گنے کی قیمت فی من 160روپے مقرر کر دی ہے۔ منگل کو جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو گنے کی قیمت کے تعین سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت ہوئی۔

اس موقع پر چیف سیکریٹری سندھ، ایڈووکیٹ جنرل اورملز مالکان بھی کمرہ عدالت میں موجودتھے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی سندھ ہائی کورٹ نے شوگر ملز مالکان کو کاشت کاروں سے کم قیمت پر گنے کی خریداری سے روکتے ہوئے سندھ حکومت کو معاملہ حل کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم گنے کی فی من قیمت کم کرنے پرشوگرملز مالکان نے اپنی ملز بند کر دی تھیں، جس پر منگل کو جسٹس عقیل احمد عباسی نے آبزرویشن میں کہا کہ عدالت معاملے کاحل چاہتی ہے ،نہیں چاہتے کہ شوگرملز بند ہو جائیں یا کاشت کاروں کا مالی نقصان ہو۔ اس موقع پر چیف سیکریٹری نے بتایا کہ حکومت نے ملزمالکان سے مذاکرات کیے لیکن نتائج سے خوش نہیں ہے ۔

 ملز مالکان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پہلے سے ہی گنے کا اسٹاک موجودہے ، جب کہ سندھ حکومت بھی پہلے سے شوگرپرسبسڈی دے رہی ہے ، اس موقع پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس میں کہا کہ کاشت کاربھی اس ملک کے شہری اور محنت کش ہیں، ان کے حقوق کو بھی مدنظررکھاجائے ،حکومت سندھ مناسب حل تلاش کرے ، جس پرچیف سیکریٹری نے کہا کہ حکومت نے کاشت کاروں کے لیے بھی بہت سے مثبت اقدامات کیے ہیں۔

اب حکومت اس پوزیشن میں نہیں کہ مزید سبسڈی دے سکے ،تاہم عدالت عالیہ نے 140 روپے فی من گنے کی خریداری سے ملز مالکان کو روک دیااورحکم امتناع جاری کر دیا اورفریقین سے رائے شماری کرتے ہوئے 160 روپے فی من گنے کی قیمت مقررکر دی، اس دوران ملز مالکان کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل عبدالستارپیرزادہ ایڈووکیٹ نے بینچ کو بتایا کہ ہم زیادہ سے زیادہ 155 روپے فی من گنا خرید سکتے ہیں، جس پر کاشت کاروں نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ162 روپے فی من کی آفر ہمیں بورڈ کے اجلاس میں کر چکے اوراجلاس میں جو آفر دی گئی ہے اس پر ہی عمل کرا دیں۔

 اس دوران کمرہ عدالت میں شوگر ملز اور کاشت کاروں کے وکلا میں تکرار بھی ہوگئی، جس پرعدالت نے فریقین کو جذباتی ہونے سے روک دیااور جسٹس عقیل احمدعباسی نے ریمارکس میں کہا کہ شور شرابے سے معاملہ حل نہیں ہو سکتا، کاشت کاروں نے کہا کہ عدالت موقف سن کرمناسب فیصلہ کرے ، کاشت کارہرگزنہیں چاہتے کہ شوگر ملز بند ہو جائیں۔ عدالت عالیہ نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

مزید : کسان پاکستان /علاقائی /سندھ /کراچی


loading...