کوفہ میں ریشمی کپڑے کے وہ مشہور تاجر جنہیں ایک روز بازار میں روک کر ایسی بات کہہ دی گئی کہ جس نے انہیں فقیہہ اعظم بننے پر مجبور کردیا

کوفہ میں ریشمی کپڑے کے وہ مشہور تاجر جنہیں ایک روز بازار میں روک کر ایسی بات ...
کوفہ میں ریشمی کپڑے کے وہ مشہور تاجر جنہیں ایک روز بازار میں روک کر ایسی بات کہہ دی گئی کہ جس نے انہیں فقیہہ اعظم بننے پر مجبور کردیا

  


یہ خلافت عباسیہ کا دور تھا ،کوفہ کے ایک بڑے گھرانے کے چشم و چراغ نعمان بن ثابت نے بچپن میں عام دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد والد کے کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانا شروع کردیا اور بہت جلد مال دار تاجربن گئے ۔جامع مسجد کے قریب واقع دار عمرو بن حریث میں ان کی اپنی دکان اور کارخانہ تھاجس میں ریشمی کپڑا بناتے اور فروخت کرتے تھے۔اس وقت ولید بن عبدالملک کی خلافت اور حجاج بن یوسف کی گورنری کا دوردورہ تھا۔ حجاج کے مظالم کی وجہ سے افراتفری پائی جاتی تھی لیکن جب ولید کے بھائی سلیمان بن عبد الملک کی حکومت آئی،امن و امان ہوا تو تعلیم کا چرچا ہوا۔ اپنے معمول کے مطابق ایک دن نعمان بن ثابت مشہور عالم شَعبی کے پاس سے گزرے۔انھوں نے بلاکر پوچھا ’’نوجوان تم روز کہاں جاتے ہو؟‘‘

بتایا’’بازار جاتا ہوں جہاں میرا کارخانہ اور دکان ہے ‘‘

انھوں نے کہا،’’ میں تو چاہتا ہوں کہ تم علما کے پاس آیا جایاکرو‘‘

نوجوان نے کہا’’ میں کم ہی ان کے پاس جاتا ہوں‘‘

شعبی نے نصیحت کی’’اے نوجوان غفلت نہ کرو ،علم کو مطمح نظر بنا لو اور علما سے چپک جاؤ،تم مجھے بیدار مغز اور محنتی لگتے ہو‘‘

شعبی کی بات ان کے دل میں گھر کر گئی، انھوں نے اعلیٰ دینی علوم سیکھنے شروع کیے کہ بہت جلدان کا چرچا ایک عالم دین،فقیہ،محدث کے طور پر ہونے لگا اور دنیا انہیں امام ابو حنیفہؒ کے نام سے یاد کرنے لگی۔

مزید : روشن کرنیں


loading...