ضیا اللہ آفریدی نااہلی کیس، الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا

ضیا اللہ آفریدی نااہلی کیس، الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا
ضیا اللہ آفریدی نااہلی کیس، الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے منحرف رکن اسمبلی ضیا اللہ آفریدی کیخلاف فیصلہ محفوظ کر لیا جو 8 فروری کو سنایا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر سردار رضا حیات کی سربراہی میں ضیا اللہ آفریدی کیخلاف عمران خان کے ریفرنس کی سماعت ہوئی ، دوران سماعت ضیااللہ آفریدی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ اور پی ٹی آئی کے وکیل الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت چیف الیکشن کمشنر نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ کسی کو پارٹی سے نکالنے کا کیا قانون ہے،وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ ضیاءاللہ آفریدی کو پارٹی سے نکالا نہیں گیابلکہ دوسری پارٹی میں شمولیت پرشوکازجاری کیا گیا ۔

چیف الیکشن کمشنر نے سوال کیا کہ منتخب رکن کو پارٹی سے نکالا جائے تووہ کیا کرسکتا ہے؟، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ اگرکسی رکن کوپارٹی سے نکالا جائے تواسے ڈی سیٹ نہیں کرسکتے،لیکن ضیاءاللہ آفریدی نے سوشل میڈیا پرپی پی میں شمولیت کی پوسٹ لگائی،منحرف رکن اسمبلی نے سوشل میڈیااکاو¿نٹ سے ابھی تک لاتعلقی ظاہر نہیں کی،

چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کسی کوپارٹی سے نکال دیں اوروہ استعفانہ دے توقانون کیاکہتاہے؟،عمران کے وکیل نے کہا کہ استعفا نہ دینے والے کو پارٹی ڈسپلن کی پیروی کرنا پڑےگی،اس پر سردار رضا حیات نے کہا کہ اگرپارٹی سے نکال دیں تووہ کیوں پارٹی ڈسپلن فالوکرے،کیاکسی بھی رکن کوآپ پارٹی سے نکال سکتے ہیں؟کسی رکن کوپارٹی سے نکالنے پرآپ کاپارٹی آئین کیاکہتاہے؟۔انہوں نے استفسار کیا کہ کسی بھی رکن کوپارٹی سے نکالنے کاقانونی جوازکیاہے؟،ممبرکہہ سکتاہے پارلیمانی پارٹی کارکن ہوں آپ کیوں نکال رہے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے ضیا اللہ آفریدی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ سے استفسار کیا کہ آپکی پارٹی کامنتخب شخص دوسری پارٹی سربراہ کیساتھ بیٹھاہوتوآپ کیاکرینگے،اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ آصف زرداری سے ہاتھ ملانے کامطلب نہیں کہ ضیا ءاللہ آفریدی پارٹی میں شامل ہو گئے،کسی پارٹی سربراہ سے ملنا کوئی جرم نہیں ،لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگرکوئی رکن استعفا دیتا ہے تو تصدیق کیلئے سپیکر کے سامنے پیش ہونا پڑتا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے لطیف کھوسہ سے استفسارکیا کہ پارٹی سے نکالے جانے پر آپ کا کیا موقف ہے؟، اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ تحریک انصاف نے ضیاءاللہ آفریدی کو 2015 میں نکال دیا تھا،ضیاءاللہ آفریدی کو وزیراعلیٰ کے پی سے اختلافات پر پارٹی سے نکالا گیا تھا۔

ممبر کمیشن ارشاد قیصر نے سوال کیا کہ کیا پارٹی کے خلاف بولنے پرضیاءاللہ آفریدی کو نکالا گیا؟،پارٹی سے نکالنے کےلئے کوئی طریقہ کار ہوتا ہو گا۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ پی ٹی آئی میں جہانگیرترین،علیم خان،پرویز خٹک کی مخالفت پرنکال دیا جاتا ہے،تحریک انصاف نے عائشہ گلالئی کے خلاف بھی جھوٹا ریفرنس بھیجا تھا۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پارٹی کے معاملات کے خلاف بولنا تو جمہوریت کا حصہ ہے،وکیل ضیا اللہ آفریدی نے کہا کہ پیپلزپارٹی میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا جو 8 فروری کو سنایا جائے گا۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...