فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر346

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر346
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر346

  


ہسپتال میں ہمیں ہر طرح کا سکون میّسر تھا۔ ڈرائیور گھر سے کھانا اور ناشتہ لے آ تا تھا۔ ملاقاتیوں پر بھی کوئی پابندی نہیں تھی۔ گھر والے دوست احباب فلم والے سبھی جب دیکھو منہ اٹھائے چلے آتے تھے اور کوئی روک ٹوک نہ تھی۔ اس سے یہ فائدہ تھا کہ سٹوڈیو اور فلمی دنیا سے دور رہنے کے باوجود ہم تازہ ترین فلمی خبروں‘ سکینڈلز اور ہنگاموں سے پوری طرح باخبر رہتے تھے۔ آپ ان کے سامنے دوسری ہیروئن کی تعریف کر دیں یا اس سے منسوب کر کے کوئی ریمارک بتا دیں۔ بس اس کے بعد تو اللہ دے اور بندہ لے۔ وہ الفاظ کی مشین گن لے کر کھڑی ہو جاتی ہیں اور چُن چُن کر نشانے لگاتی ہیں۔

ایک دن بہار تشریف لائیں۔ وہ تعلیم یافتہ اور اچھّی انگریزی بولنے والی ہیروئن تھیں۔ ہم سے تو خیر وہ اردو یا پنجابی ہی میں بولا کرتی تھیں مگر جب بھی موقع ملتا تو خالص کانونیٹ کے انداز میں انگریزی کا دریا بہا دیتی تھیں۔ انہوں نے چند ہی منٹوں میں معاملات کو بھانپ لیا ۔اپنے مخصوص انداز میں مسکراتی اور کھلکھلاتی رہیں پھر جاتے جاتے یہ فرمایا ’’آفاقی صاحب! ہسپتال آنے سے آپ کو ایک فائدہ تو ہو ہی گیا۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر345 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’وہ کیا؟‘‘ ہم نے پوچھا

کہنے لگیں ’’اب آپ کے ہاتھ پیلے ہو جائیں گے۔‘‘

ہم نے حیران ہو کر انہیں دیکھا۔

وہ بولیں ’’میں صرف رائٹر کے لکھے ہوئے مکالمے ہی نہیں بولتی۔ آس پاس کی چیزوں کا مشاہدہ بھی کر سکتی ہوں۔‘‘

ایک دن ساقی صاحب آئے ۔کچھ دیر بعد دلجیت مرزا بھی پہنچ گئے۔ اسلم پرویز بھی موجود تھے۔ انہیں یہ بھی علم تھا کہ سبھی اداکار اور ایکٹریس ہماری مزاج پرسی کے لئے آتے رہتے ہیں۔

ساقی صاحب نے بہت مفید مشورہ دیا بولے ’’آفاقی صاحب! موقع اچھّا ہے۔ آپ نئی فلم کی شوٹنگ شروع کر دیں آسانی سے بن جائیگی۔‘‘

ہم نے پوچھا ’’یہاں؟ ہسپتال میں؟‘‘

’’اس میں کیا مشکل ہے‘‘ وہ بولے بھئی آپ تو رائٹر ہیں ۔ہسپتال کے پس منظر میں کوئی کہانی بنا لیجئے۔ اصلی نرسیں اور ڈاکٹر بھی مل جائیں گے۔ ماحول بھی اصلی ہوگا۔‘‘

اس قسم کے مشورے ہمیں اکثر ملتے رہتے تھے۔ سنتوش کہتے تھے کہ آفاقی صاحب شادی کئے بغیر ہسپتال سے نہیں جائیں گے غرضیکہ جتنے منہ اتنی باتیں۔

اس ماحول میں ہماری ذہنی کیفیت بہت جلد ٹھیک ہوگئی اور ڈپریشن بھی دور ہوگیا۔ جتنے دن ہم ہسپتال میں رہے ایک بار بھی خواب آور یا مسکّن گولی کھانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ صحت بھی قدرے بہتر ہوگئی۔ بقول لہری صاحب کے ہمارا دو چھٹانک وزن بڑھ گیا تھا۔

ہسپتال سے گھرگئے تو پھر وہی پرہیز ، آرام او ر پریشان کر دینے والے کاموں سے گریز جاری رہا مگر اب ہم شام کے وقت گاڑی لے کر قریب کے دوستوں اور ملاقاتیوں کے پاس چلے جاتے تھے۔ فلمیں دیکھنے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ چائنیز ریستوران کے چکّر بھی لگنے لگے۔ اگر کوئی فلم والا ہمیں وہاں دیکھ کر اظہار حیرت کرتا تھا تو ہم نہایت صفائی سے یہ جھوٹ بول دیا کرتے تھے کہ یہ کھانا ہم ڈاکٹر کے مشورے پر کھا رہے ہیں۔ السر کے مریض کے لئے چینی کھانا بہت مفید ہوتا ہے۔

چھ مہینے مزید گزر گئے ہمارا وزن بڑھ گیا۔ چہرے پر رونق آگئی اور سُرخی جھلکنے لگی۔ کبھی کبھی ہمیں یہ شبہ بھی گزرنے لگا کہ شاید ہماری دیرینہ آروز پوری ہونے کا وقت آگیا ہے کیونکہ ہماری چھوٹی سی توند بھی نکل آئی تھی یا شاید محض ہمارا وہم تھا۔

طارق صاحب ان دنوں باقاعدگی سے رابطہ رکھتے تھے اور اب انہوں نے سنجیدگی سے اصرار کرنا شروع کر دیا تھا کہ ہمیں کم سے کم کہانی تو بنا ہی لینی چاہیے تاکہ دو چار مہینے بعد فلم کا آغاز کر دیا جائے۔ ہم نے ایک دو کہانیوں کا ون لائین سکرین پلے بھی بنانا شروع کر دیا تھا۔

ہم تو اپنی دانست میں بالکل تندرست ہوگئے تھے اور کام کا آغاز کرنے کے لئے پرتول رہے تھے مگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ ان دنوں ہماری بڑی بہن امینہ آپا یو سی ایچ میں زیر علاج تھیں۔ ہم ایک شام ان کی مزاج پرسی کیلئے ہسپتال گئے ۔وہ ٹھیک ہو چکی تھیں اور اگلے دن ہسپتال سے رخصت ہونے والی تھیں۔ اچانک ہماری طبیعت خراب ہوگئی۔ جی متلانے لگا چکّر سے آنے لگے اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ ہم نے فوراً نرس کو طلب کیا اور ڈاکٹر ولیم کو بلانے کیلئے کہا۔

چند منٹ بعد ڈاکٹر و لیم تشریف لے آئے انہوں نے ہمارا معائنہ کیا اور بولے آپ کو اسی وقت ہسپتال میں داخل ہو جانا چاہیے۔

ہم نے کہا ’’مگر ڈاکٹر ہمارے پاس تو سامان بھی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ٹوتھ برش تک نہیں ہے۔‘‘

وہ بولے ’’یہ سب چیزیں سامنے گلبرگ میں مل جاتی ہیں ایک کمرہ بھی اتفاق سے خالی ہے۔‘‘

پوچھا’’ کون سا نمبر!‘‘

بولے ’’یہی جہاں آپ بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپ کی سسٹر کل کے بجائے آج ہی ڈسچارج ہو جائیں گی۔ یہ گھر جا کر آپ کا سامان وغیرہ بھی لے آئیں گی۔‘‘

آمینہ آپا نے آؤ دیکھا نہ تاؤ فوراً اپنا بیگ اور پرس لے کر اٹھ کھڑی ہوئیں، اس طرح ڈاکٹر ولیم نے ہمیں اسی وقت ہسپتال میں داخل کر لیا۔ ابھی وہ ہمارے لئے مختلف ٹیسٹ کرانے کی ہدایات تحریر کر ہی رہے تھے کہ ہمیں خون کی ایک الٹی ہوئی اور اس کے بعد تو تانتا بندھ گیا۔ تھوڑے وقفے سے خون کی پانچ الٹیاں ہوئیں اور ہم بے جان ہو کر وہیں لیٹ گئے۔ فوری طور پر انجکشن لگائے گئے اور انسدادی تدابیر پر عمل شروع کر دیا گیا۔

اسی رات ہمیں خون کی دو الٹیاں اورہوئیں۔ اچانک اس قدر کمزوری طاری ہوئی کہ ہم قریب قریب بے ہوش گئے۔ ہمار ے گھر خبر کر دی گئی تھی اور امّاں گھبرائی ہوئی ہسپتال پہنچ کر ڈاکٹروں کو بُرا بھلا کہنے میں مصروف ہو چکی تھیں۔ ان کے خیال میں نہ ہم ہسپتال آتے اور نہ بیمار ہوتے۔

ان سے ہماری خون کی الٹیوں کی تعداد پوشیدہ رکھی گئی تھی مگر پھر بھی وہ کچھ بھانپ گئی تھیں اور کسی صورت ہسپتال سے رخصت ہونے کے لئے تیّار نہیں تھیں۔ بڑی مشکل سے انہیں سمجھا بجھا کر روانہ کیا گیا۔ انہوں نے گھر پہنچتے ہی ہر طرف ٹیلی فون اور تار کھڑکا دئیے۔ رات کے بارہ ایک بجے تک کرۂ ارض پر بسنے والے ہمار ے سارے رشتے دار ہماری بیماری سے با خبر ہو چکے تھے اور سب کا رُخ لاہور کی جانب تھا۔ (جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر347 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ


loading...