سب ہی بیٹیاں قوم کی عزت ہیں۔۔۔!!

سب ہی بیٹیاں قوم کی عزت ہیں۔۔۔!!
سب ہی بیٹیاں قوم کی عزت ہیں۔۔۔!!

  


تحریر:فضہ شہباز

میں اس ملک کی ایک عام سی شہری ہوں ۔ اس ملک میں جہاں ہر شخص تجزیہ نگار اور دانشور بنا بیٹھا ہے،ان واقعات کی پیش رفت دیکھ کر ان تمام دانشور حضرات سے میں ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں کیا آج ان کو بھی کے پی کے کی عاصمہ کے اس واقعہ پر اسی طرح دکھ ہوا ہے جیسے قصور میں زینب کے واقعہ پر ہوا تھا ؟؟؟اسکا قاتل مثالی پولیس کی موجودگی میں ملک سے فرارہوگیا ہے ،کوئی اسکو روک نہ سکا۔

کیا عاصمہکے جنازے میں ڈاکٹر طاہر القادری نے شرکت کر کے اس طرح زور شور سے حکومت کو بد دعائیں دی؟

کیا آج بھی عوام کو اس طرح مشتعل کر کے حکومتی املاک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے؟

کیا آج بھی امیر جماعت اسلامی اپنے لاؤ لشکر سمیت کہیں خطاب کرتے ہوئے حکومت کو کوس رہے ہیں؟

کیا میڈیا نے کھلاڑیوں اور مشہور شخصیات کے پیغامات قوم کو اسی طرح سنا سنا کر آبدیدہ کیا؟

کیا میڈیا کی کوئی اینکر نے اپنی بیٹی کو ساتھ بٹھا کرپروگرام کیا؟

کیا میڈیا آج بھی چیخ چیخ کر دنیا کو بتا رہا ہے آج ایک بار پھر حکومت اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے ؟

کیا آج بھی ٹویٹر پرمختلف شخصیات ہیش ٹیگ کو ٹائپ کر کے حکومت وقت سے انصاف مانگ رہے ہیں؟

کیا عالمی میڈیا پر آج بھی اسی طرح خبریں لگوائی گئی ہیں؟

کیا آج بھی موم بتی مافیا ان بچیوں کی تصاویر کی ٹی شرٹس پہن کر احتجاج کر رہا ہے اور ان کے انصاف کی دوہائی دے رہا ہے؟

کیا آج بھی کسی ادکارہ یا ماڈل نے ان واقعات کے بعد اپنے ساتھ پیش آئے ایسے ہی قصے سنائے؟

کیا آج بھی نام نہاد این جی اوز نصاب میں تبدیلی کی خواہاں ہیں؟

اگر یہ سب نہیں ہو رہا تو میں ایک پاکستانی اور پنجاب میں رہنے والی ایک بیٹی کی حیثیت سے نام نہاد اہل قلم، سماجی شخصیات،سیاسی رہنماؤں اور ان کے کارکنان سے ایک ہی سوال کرنا چاہتی ہوں کہ کیا یہ سب منفی لوازمات صرف پنجاب کے لئے ہی مقرر ہیں ؟ تمام تر مشکلات ، تکالیف اور بدنامیاں صرف پنجاب کا نصیب کیوں ہیں؟ انصاف کے نام پر صرف پنجاب کی بیٹیوں کو ہی کیوں رسوا کیا جاتا ہے۔ شر پسند عوامل اپنی ایسی حرکات سے مجھ سمیت نہ جانے کتنی بہن بیٹیوں کے غیر محفوظ ہونے کے خوف کو محسوس کر سکتے ہیں؟ کیا ایسے شرمناک واقعات پر بھی اپنی بھدی سیاست کی بساط بچھائی جانی چاہیے؟ پنجا ب میں رہنے والی کم سن زینب ہو، مردان کی ننھی اسماء یا یا خیبر پختوں خواہ کی نوجوان عاصمہ ۔۔۔ کسی ایک بیٹی کی بھی بے حرمتی و تذلیل پوری قوم کے منہ پر کالک ہے۔

یہ کیسا دیس ہے جہاں بہن بیٹیاں اپنوں کے بیچ میں ہی محفوط نہیں؟ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں ۔ میری تمام سیاستدانوں ، اہل قلم اور نامور شخصیات سے گزارش ہے ہے کہ خدارا۔۔۔ ایسے دل سوز، المناک سانحوں پر اپنے سیاسی،سماجی اور ذاتی مفادات کی چاندی چمکانے سے گریز کریں۔ ایسے گھناونے مسلے کو کسی ایک صوبے یا نسل سے منسوب کرنے کی بجائے قومی مسلہ سمجھ کر ان مصائب کے خاتمے کے لئے کوئی موئثر حکمت عملی اپنائی جائے۔ جس سے ملک بھر کی بہن بیٹیوں کی عزتیں مخفوظ رہ سکیں۔ آئندہ کو ئی بھی زینب، اسماء یا عاصمہ کسی حیوان کی درندگی کی نذرنہ ہو اور نہ ہی کوئی والدین یا لواحقین اپنی بیٹوں کے انصاف کے لئے در در ٹھوکریں کھائیں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...