بھارت کے بارے میں وہ باتیں جو اسکی تباہی کا سبب بننے جارہی ہیں

بھارت کے بارے میں وہ باتیں جو اسکی تباہی کا سبب بننے جارہی ہیں
بھارت کے بارے میں وہ باتیں جو اسکی تباہی کا سبب بننے جارہی ہیں

  


بھارت کی یہ فطر ت رہی ہے جب بھی کسی ملک کا سربراہ بھارت کا دور کر تا ہے یا پھر مو دی کسی ملک کے دورے پر جاتا ہے تو ان کو سوائے پاکستان کی مخالفت کے کچھ اور نظر نہیں آتا۔ ویسے تو بھارت خطے میں امن کی بات کر تا ہے لیکن بارڈر پر مسلسل خلاف ورزی بھی خود بھارت کر رہا ہے۔ آئے رو ز ورکنگ باونڈری پر فائرنگ اور گو لہ باری سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنا نے کے علاوہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے ‘ ساتھ ہی کشمیری مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نہ تو عالمی اداروں کو نظر آتی ہیں اور نہ ہی بھارت کو تھپکی دینے والوں کو نظر آتی ہیں۔ بھارتی آرمی چیف نے بھی مودی کی طرح گیدڑبھبکی سے کام لیا۔ دنیا کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ رکھنے والی بھارتی فوج کے ملک کی اندر سے حالت بہت خر اب ہے ۔بھارتی فوجی اور عوام بھوک سے خود کشیاں کر رہے ہیں۔

بھارت کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کی جمہو ریت دنیا کی بہتر ین جمہو ریت میں شمار ہوتی ہے ‘ پتہ نہیں یہ دنیا کی کیسی بہتر ین جمہو ریت ہے جہاں کی عوام بھو ک سے مر رہی ہے۔ مو دی بھار ت کو شا ئنگ انڈیا بنا نا چا ہتا ہے لیکن بھارت کے اند رونی حالات کچھ اور کہا نی بیا ن کر تے ہیں۔ بھارت پاکستان دشمنی کا ڈھنڈورا پیٹ کر اپنے اندرونی حالات سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔ بھارت میں بھو ک افلاس‘ غربت ‘ جہالت ‘ انتہا پسندی ‘ کی وجہ سے کئی ریا ستوں علیحدگی کی تحر یکیں چل رہی ہیں ‘بھارت کی اکثر ریاستوں کی 80 فیصد آبادی نہا یت ہی بد حالی کی زندگی بسر کر رہی ہے ۔بھارت میں مذہبی انتہا پسند ی عروج پر ہے مسلمانوں اور نچلی ذات کے ہندوں پر ظلم ڈھائے جاتے ہیں۔

حال ہی میں ایک مسلمان مصنفہ نازیہ ارم کی کتاب ’’مدرنگ اے مسلم‘‘ نے سارا بھانڈا پھو ڑ دیا کتاب کے مطابق بھارتی سکولوں میں مسلمان بچوں کو ہراساں کرنے کے علاوہ نفرت انگیز سوالات سے ان کا استحصال کیا جاتا ہے۔ مقامی ہندو سما جی طور پر مسلمانوں کو برداشت نہیں کرتے۔ چھو ٹے چھو ٹے بچوں کو سکولوں میں تنگ کیا جاتا ہے اور انہیں ذہنی اذیت پہنچا ئی جاتی ہے۔ مسلمان بچوں سے باقی بچے سوال کر تے ہیں ۔کیا تم دہشت گرد ہو ؟ کیا تم طالبان ہو ؟ اس طر ح کے سوال کر کے مسلما ن بچوں کو پر یشان کیا جاتا ہے۔

جہاں بھارت میں اتنہا پسندی کو کنٹر ول کر نا حکومت کے بس میں نہیں رہا تو ساتھ ہی غربت کا خاتمہ کرنے میں بھی بھارت ناکام ریاست ثابت ہو رہا ہے۔ ہر سال غریب افراد کی تعداد میں اضا فہ ہو رہا ہے ‘ یو نیسف کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر چوتھا بھارتی باشندہ بھو ک کا شکار ہے۔ دنیا میں غربت اور مفلسی میں پر ورش پانے والے بچوں کی مجمو عی تعدا د کا 30فیصد بھارت میں ہے۔ فاقہ کشی میں افر یقہ کے بعد بھارت کا نمبر آتا ہے ۔بھارت کی بیشتر آبادی کے لئے مکان جیسی سہو لت میسر نہیں ہے ۔دولت کی غیر منصفانہ تقسم کی وجہ سے وہاں کے دو سے تین فیصد لوگ کھر ب پتی ہیں اور باقی آبادی انتہائی غربت میں زندگی بسر کر رہی ہے ۔ایک ایسا ملک جو اپنے آپ کو ایٹمی طاقت کہلواتا ہو اور دنیا میں سب سے زیادہ اسلحے کا خر ید ار ہو لیکن دوسری طرف اسی ملک کے باشندے کروڑوں کی تعداد میں جھو نپڑیوں میں زند گی بسر کر تے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً 29 فیصد آبا دی جو کہ 36 کروڑ سے زیا دہ بنتی ہے خط غربت سے نیچے ز ند گی بسر کرتی ہے اور اسی طر ح 73 فیصد آبادی کی ما ہا نہ آمد نی 5 ہز ار سے بھی کم ہے ۔ یو نیو رسٹی آکسفورڈ کی جا نب سے شا ئع کئے جا نے والے غربت کے ایم پی آئی انڈکس کے مطابق بھارت میں 64 کر وڑ افرادخطے غربت میں زند گی بسر کر تے ہیں۔ بھارت کا اگر افریقہ کے ممالک سے مو از نہ کیا جا ئے تو افریقہ کی عوام اور بھارتی عوام میں کو ئی زیا دہ فرق نہ ہو گا بھارت میں 60 فیصد سے زیادہ آبادی کو بیت الخلاء کی سہو لت میسر نہیں ۔

بھارت میں مذہبی ہندو انتہا پسند وں نے اپنی پر ائیو یٹ فورس بنا رکھی ہے کسی بھی سیا سی یا مالی فائد ے کی خاطر اس فورس کو استعما ل بھی کیا جاتا ہے اور کر ائے پر دے کر دنگے کر وائے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس فورس کو فلموں کی کا میابی اور ناکامی کے لئے بھی استعما ل کیا جاتاہے۔ ان انتہا پسند وں کے پنجے بالی ووڈ میں گڑھے ہو ئے ہیں ۔یہ انتہا پسند با قا عد ہ ادکاروں اور فلمی صنعت سے وابستہ افراد سے بھتہ وصولی کر تے ہیں ۔بھتہ نہ ملنے پر فلم کی پر مو شن اور نمائش رکو ا دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ گلو کاروں اور فنکاروں کے کنسرٹ پر حملے کر وائے جاتے ہیں۔ اکثر مسلمان گلوکاروں اور اداکاروں کو نشا نہ بنا یا جاتا ہے۔ سٹید یم میں میچ رکوا دیا جاتا ہے ‘ بھارت میں اب تو ذاتی دشمنی کے لئے بھی مذہبی انتہا پسند وں کا استعمال کیا جاتا ہے جس کی با قاعدہ فیس وصول کی جاتی ہے اور کر ائے کے غنڈے فراہم کیے جاتے ہیں ۔

بھارت خواتین کے لئے غیر محفو ظ ترین ملک بن گیا ہے ۔سب سے زیا د ہ خواتین پر جنسی حملے بھارت میں ہو تے ہیں جو اس حوالے سے دنیا کا چوتھا بدترین ملک ہے ۔ایک امر یکی صحافی نے فوربس میگزین کی ویب پر ایک مضمو ن لکھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں خواتین کے لئے دس خطر ناک ترین ممالک میں بھارت کا شما ر ہو تا ہے۔ بھارت میں خواتین کو غلام اور کمز ور تصور کیا جاتا ہے خواتین کے حقوق کی پامالی کو عام تصور کیا جاتا ہے۔ بس ٹر ین کے علاوہ راہ چلتی خواتین کو دن دھاڑے اغوا کے بعد جنسی تشد د کا نشا نہ بنا یا جاتا ہے۔ بھارت میں ڈاکو ڈکیتی کی واردات کے ساتھ خواتین کو زیادتی کا نشانہ بھی بنا تے ہیں ۔وہاں خواتین کو جا ئید اد کے حقوق سے محر وم رکھا جاتاہے ساتھ ہی پیسے کی خاطر کم عمر بچیوں کو فر وخت کرنے کے علاوہ لڑکیوں کو پیدا ئش سے پہلے ماردیا جاتا ہے تاکہ ان کو جہیز نہ دینا پڑے۔ گز شتہ دس سالوں میں بھارتی ڈاکٹر 8 کر وڑ بچیوں کو اسقاط حمل میں مار چکے ہیں ۔بھارت میں لڑکوں کے مقا بلے میں لڑکیوں کی تعد ا د کم ہو رہی ہے۔ ایک ہز ار لڑکیوں کے مقا بلے میں لڑکیوں کی تعد اد 760 سے لے کر 900 تک رہے گئی ہے۔

بھارت یوں تو تعلیم کے میدان میں بڑے دعوے کر تا ہے لیکن تعلیم کے میدا ن میں بھی بھارتی عوام کی صورت حال بہت ابتر ہے اگر بھارت تعلیم میدان میں انقلاب لارہا ہوتا تو وہاں جہالت کا خاتمہ ہو جانا چا ہیے تھا۔ایک بھارتی اخبار میں شا ئع ہو نے والی رپورٹ کے مطابق سکولوں میں پڑھنے والے 14 سال تک کے بچے ملک کا نقشہ نہیں پہچان سکتے۔ 36 فیصد اسی عمر کے بچے ملک کے درالحکو مت کا نام نہیں بتا سکتے ‘ 21 فیصد یہ نہیں بتا سکتے کہ وہ کس ریاست میں رہتے ہیں ۔مز ید حیر انی کی بات یہ ہے کہ آٹھویں سے با رہویں کلاس کے ایک چو تھا ئی بچے جمع تفریق کے عام سوال حل نہیں کر سکتے ۔اٹھو یں کلاس کے بچے اپنی مادری زبان نہیں پڑھ سکتے۔

دنیا میں بھارت کا شمار ان ممالک میں ہو تا ہے جہاں سب سے زیاد ہ خو دکشیا ں کی جاتی ہیں۔ بھارت میں سالانہ ایک لاکھ 35 ہز ار افر اد خو دکشی کر تے ہیں جن میں زیاد ہ تر تعداد نو جو انوں کی ہے جن کی عمر یں 15 سے 29سال تک کی ہو تی ہیں۔ اس کے علاوہ بھارتی کسان قرض کے بوجھ تلے دبنے کی وجہ سے خودکشیاں کر تے ہیں ۔ہر سال ہز اروں کسان خو دکشی کرتے ہیں ۔بات یہیں ختم نہیں ہوتی ۔دنیا میں سب سے زیادہ خودکشیاں بھارتی فوجی کرتے ہیں اور بغیر جنگ لڑے بھارتی فوج مر رہے ہیں۔ اکثر فوجی جو ان نفسیاتی مر یض ہو چکے ہیں ۔انہیں وقت پر کھانا نہیں ملتا اور یہ باڈر پر بھو کے مر رہے ہیں۔ گز شتہ نو برسوں میں ایک ہز ارسے زیا دہ فوجی خودکشی کر چکے ہیں اور سولہ سو فوجی بغیر لڑے مر گئے ہیں جن میں سے اکثر اپنے ہی ساتھیوں کی گو لی کا نشانہ بنے ہیں۔ ان کے لئے مز ید شرمنا ک صورت حال یہ ہے کہ گز شتہ پانچ برسوں میں بھارتی فوج کے 532 کیس ہم جنس پر ستی کے سامنے آچکے ہیں۔ اب اس تما م ترصورت حال کو دیکھا جا ئے تو بھارت بجائے خطے میں چوہد ری بننے کے ، اپنا فوکس اپنی عوام کی فلاح بہبود پر رکھے تو اس کے لئے زیادہ بہتر ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...