381 افراد سے 106 بلین ڈالر کا سمجھوتہ ہوا: سعودی اٹارنی جنرل

381 افراد سے 106 بلین ڈالر کا سمجھوتہ ہوا: سعودی اٹارنی جنرل
381 افراد سے 106 بلین ڈالر کا سمجھوتہ ہوا: سعودی اٹارنی جنرل

  


ریاض(آن لائن)سعودی اٹارنی جنرل شیخ سعود المعجب کا کہنا ہے کہ انسداد بدعنوانی مہم میں 437 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں سے 381 کو سمجھوتے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ بدعنوانی کے خلاف گرفتاریوں سے 106 بلین ڈالر قومی خزانے میں آئے ہیں۔

غیرملکی میڈیاکے مطابق اٹارنی جنرل شیخ سعود المعجب کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے تحت گرفتار افراد کے ساتھ سمجھوتوں میں 106 بلین ڈالر قومی خزانے میں اثاثہ جات بشمول جائیداد، کمرشل کمپنیوں، سکیورٹیوز، نقدی کی صورت میں آئے ہیں۔ بدعنوانی کے الزام میں گرفتار افراد کے کیسز کا ریویو مکمل کر لیا گیا جس کے تحت ان سے مذاکرات اور سمجھوتے ہوئے۔انہوں نے کہاکہ اس ریویو کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان تمام افراد کو رہا کر دیا جائے جن کے خلاف ناکافی ثبوت ہیں،ریویو میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ جن افراد نے بدعنوانی کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ سمجھوتہ کیا ہے ان کو بھی رہا کیا جائے گا۔

اٹارنی جنرل کے بیان میں مزید کہا گیا کہ 56 افراد کو حراست میں رکھا جائے گا کیونکہ حکومت نے ان کے ساتھ سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا کیونکہ ان کے خلاف دیگر مقدمات بھی تھے۔ واضح رہے کہ درجنوں شہزادے، اعلیٰ حکام اور بڑی کارروباری شخصیات بشمول کابینہ کے کئی اراکین اور ارب پتی لوگ اس وقت کرپشن کو ختم کرنے کے نام پر شروع کی گئی مہم کے تحت حراست میں تھے۔

لائیو ٹی وی دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مزید : عرب دنیا


loading...