ایبٹ آباد میں گھریلو ملازمہ کی ہلاکت کا معاملہ ، چیف جسٹس نے نوٹس لے لیا، 3دن میں رپورٹ طلب

ایبٹ آباد میں گھریلو ملازمہ کی ہلاکت کا معاملہ ، چیف جسٹس نے نوٹس لے لیا، ...
ایبٹ آباد میں گھریلو ملازمہ کی ہلاکت کا معاملہ ، چیف جسٹس نے نوٹس لے لیا، 3دن میں رپورٹ طلب

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ایبٹ آباد میں خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ہائر ایجوکیشن مشتاق غنی کے بھائی کے گھر میں 11 سالہ ملازمہ مصباح کی ہلاکت کا نوٹس لے لیا ہے اور آئی جی خیبر پختونخوا کو3دن میں رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت جاری کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایبٹ آباد میں کم سن گھریلو ملازمہ مصباح کی ہلاکت کا نوٹس لے لیا ہے ۔ انہوں نے آئی جی خیبر پختونخوا کو 3دن میں اس کیس کی تحقیقات کے حوالے سے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت بھی جاری کردی ہے۔

دوسری جانب ایبٹ آباد میں خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ہائر ایجوکیشن مشتاق غنی کے بھائی کے گھر میں 11 سالہ ملازمہ مصباح کی ہلاکت معمہ بن گئی،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی سفارشات پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے بچی کی قبرکشائی کی اجازت دے دی۔فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے کمسن ملازمہ کی قبرکشائی اور پوسٹ مارٹم کی سفارش کی تھی جس پر پولیس نے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں قبرکشائی کی درخواست جمع کرائی تھی۔عدالت نے بچی کی قبر کشائی کرنے کی اجازت دے دی ہے جس کے بعد کمسن ملازمہ مصباح کی قبر کشائی کل کی جائے گی۔

واضح رہے کہ 27 جنوری کو شعیب غنی کے گھر کام کرنے والی ملازمہ مصباح کی حالت خراب ہونے پر اسے بے نظیر بھٹو شہید اسپتال ایبٹ آباد لایا گیا تھا جہاں وہ دم توڑ گئی تھی۔لیکن واقعے کی تحقیقات سے قبل ہی خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے بچی کی ہلاکت پر وضاحتی بیان سامنے آگیا تھا اور پولیس کی جانب سے کہا گیا تھا کہ 11 سالہ مصباح اپنی بڑی بہن کے ہمراہ بطور گھریلو ملازمہ کام کرتی تھی۔پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ بچی کی طبیعت 25 جنوری کو پھل کھانے کے بعد اچانک خراب ہوئی،اسے اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ جانبر نہ ہوسکی۔پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بچی کو سانس کی موروثی بیماری تھی جس کا 4 سالہ بھائی بھی سانس کی بیماری سے فوت ہو چکا ہے۔

مزید : اہم خبریں /قومی


loading...