امریکہ نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا،اثاثےمنجمند ، سفری پابندیاں عائد

امریکہ نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں ...
امریکہ نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا،اثاثےمنجمند ، سفری پابندیاں عائد

  


نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکہ نے فلسطین کی جدو جہد آزادی کیلئے کوشاں مشہور تنظیم حماس کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم اسماعیل ہانیہ کا نام بین الاقوامی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے معروف آزادی پسند مسلمان لیڈر اور  حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ  حماس کے ملٹری ونگ کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے اور  مسلح جدوجد کے حامی ہیں۔امریکہ کی جانب سے اسماعیل ہانیہ کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیے جانے کے بعد ان کے اثاثے بھی منجمد کر دیے گئے ہیں اور سفری پابندیاں بھی عائد کر گئی ہیں۔ امریکا کا الزام ہے کہ اسماعیل ہانیہ متعدد اسرائیلی اور 17 امریکی شہریوں کے قتل میں ملوث ہیں۔خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس دسمبر میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔او آئی سی اور اقوام متحدہ سمیت امریکا کے متعدد اتحادیوں نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کی مذمت کرتے ہوئے خطے میں مزید کشیدگی کا قرار دیا تھا۔واضح رہے کہ اس سے قبل حال ہی میں  اسرائیل کے انتہا پسند وزیر دفاع آوی گیڈور لائبرمین نے  اسماعیل ہانیہ سمیت ’’حماس‘‘ کی مرکزی قیادت کو قاتلانہ حملوں میں شہید کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا  کہ اسرائیلی حکومت حماس کو کچلنے کے لیے گذشتہ ایک سال سے نئی حکمت عمل مرتب کررہی ہے۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے  مقبوضہ بیت المقدس کو  اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کی شدید مزمت کرتے ہوئے آزادی فلسطین کی جدوجہد کرنے والی ممتاز تنظیم’’حماس‘‘ کے سینئر رہنما اسماعیل ہانیہ نےاس امریکی اعلان اور اسرائیل کے خلاف نئی انتفاضہ (جدو جہد آزادی) تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ  ہمیں انتفادہ کیلئے کام کرنا چاہئے، ہم حق خودارادیت کیلئے جدوجہد کرتے رہیں گے،مقبوضہ بیت المقدس ریاست فلسطین کا دارالحکومت ہے اور رہے گا ۔ انھوں نےفلسطینی صدر محمود عباس سے بھی مطالبہ کیا تھا  کہ وہ اسرائیل کے ساتھ امن عمل معطل کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انتظامیہ کا بھی بائیکاٹ کردیں۔

مزید : اہم خبریں /بین الاقوامی


loading...