اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 124

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 124

  

خان رشید نے مجھے ہندوستان کے حکمران غیاث الدین بلبن کی خدمت میں پیش کیا تو اس نے کچھ عرصے کے لئے مجھے اپنے بیٹے سے عاریتاً لے کر اپنے امراء میں شریک کرلیا۔ اس دوران مجھے غیاث الدین بلبن کے قریب رہ کر اس کی شخصیت کے تمام پہلووں پر قریب سے نگاہ ڈالنے کا موقع ملا۔ غیاث الدین بلبن کے دربار میں بہت سے نادر الوجود اور لاثانی افراد یک جاتھے۔ ان میں یکتائے روزگار اہل سیف و قلم بھی تھے اور مشہور زمانہ مغنی و موسیقار بھی تھے اس دور کی شان و شوکت محمود غزنوی اور سنجیر جیسے عالی شان اور ذی مرتبت حکمرانوں کے درباروں سے کہیں زیادہ تھی۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 123 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

غیاث الدین بلبن، آرائش لباس، عظمت حکومت اور رعب شاہی کا بہت قائل تھا۔ وہ بڑے جلال اور شکوہ کے ساتھ دربار عام منعقد کرتا۔ یہ شان و شکوہ دیکھ کر لوگوں کے دل دہل جاتے تھے اور اس جاہ و جلال کا حال سن کر باغیوں اور سرکشوں کے جسم تھرتھرا جاتے تھے۔ بلبن جب بھی کہیں جانے کے لئے نکلتا تو اس کی سواری کے ساتھ پانچ سو غویر، عربی، سیتانی، سمرقندی اور کرد سپاہی ہاؤ ہوکے نعرے بلند کرتے ہوئے پیادہ پاچلتے تھے۔ بلبن جشن کی محفلیں بھی بڑی دھوم دھام سے منعقد کرتا تھا۔ عید اور نوروز کے موقعوں پر دربار کو ایرانی بادشاہوں کے درباروں کی طرح سجایا جاتا اور بلبن سارا دن دربار میں بیٹھ کر امیروں اور منصب داروں سے نذریں وصول کرتا۔ یہ دستور تھا کہ جب کوئی امیر بادشاہ کی خدمت میں نذر پیش کرتا تو شاہی مقرب اس امیر کی اچھی عادات اور قابل قدر خدمات کا بادشاہ سے تذکرہ کرتے۔ محفل میں نقش و نگار سے مزین فرش بچھایا جاتا۔ زربفت کے پردے لٹکائے جاتے اور چاندی اور سونے کے برتن استعمال کئے جاتے۔ اہل محفل کی خاطر تواضح شربت میوے اور پان وغیرہ سے کی جاتی۔ بلبن اپنے امراء سے اکثر کہا کرتا تھا

’’میں نے سلطان شمس الدین التمش کے دربار میں ترکی امراء سے یہ بارہا سنا ہے کہ جو بادشاہ دربار کی ترتیب، سواری کے طریقوں اور حکمرانی کے آداب کا خیال نہیں رکھتا رعایا کے دلوں پر اس کا دبدبہ نہیں بیٹھتا اور نہ ہی دیکھنے والے اس کی شان و شوکت سے متاثر ہوتے ہیں۔ چنانچہ ایسے بادشاہوں کے دشمن بڑی قوت حاصل کرلیتے ہیں اور ان کے راستے میں رکاوٹ بن کر سلطنت کی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔‘‘

جس طرح غیاث الدین بلبن دربار کے آداب و قواعد کا خیال رکھتا تھا اسی طرح انصاف اور حق پرستی کو بھی پوری طرح مدنظر رکھتا تھا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ دہلی میں ایک شاہی جام دار کے بیٹے ملک رفیق نے جو شاہی امرا میں تھا اور چار ہزار سواروں کا مالک اور بدایوں کا صوبے دار تھا ایک فراش کو اس قدر مارا اور درے لگائے کہ وہ مرگیا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد بلبن بدایوں گیا تو مرحوم فراموش کی بیوہ فریاد لے کر بلبن کے پاس آئی۔ بلبن نے تمام واقعہ سننے کے بعد حکم دیا کہ ملک رفیق کو بھی اتنے درے لگائے جائیں کہ جتنے اس فراش کو لگائے گئے تھے۔ بلبن کے حکم کی تعمیل کی گئی۔ ملک رفیق مرگیا اور اس کی لاش شہر کے دروازے پر لٹکادی گئی۔ بلبن پنے بیٹوں سے اکثر کہاکرتاتھا

’’میں نے معزالدین بن بہاؤالدین سام کی محفل میں دوبار سید مبارک غزنوی سے سنا ہے کہ بادشاہوں کے اکثر افعال شرک کی حدود کو چھولیتے ہیں اور وہ بہت سے ایسے کام کرتے ہیں جو سنت نبوی صلعم کے خلاف ہوتے ہیں لیکن وہ اس وقت اور بھی گناہ گار ہوجاتے ہیں جب کہ وہ چار باتوں پر عمل نہیں کرتے اور وہ چار باتیں یہ ہیں۔ پہلی یہ کہ بادشاہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے شان و شکوہ کو مناسب موقع پر استعمال کرے اور خدا ترسی اور خلق خدا کی بھلائی ہمیشہ اس کے پیش نظر رہے۔ دوسری یہ کہ بادشاہ کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ اس کے ملک میں بدکاری کا خاتمہ ہو۔ تیسری بات یہ کہ امور سلطنت کو عقل مند، پاکباز اور راست باز لوگوں کے سپرد کرنا چاہیے اور چوتھی بات یہ کہ بادشاہ کو چاہیے کہ وہ انصاف سے کام لے۔ خوشامدی اور بدعقیدہ لوگوں کو قریب نہ آنے دے۔ خلق خدا پر جن کو حاکم مقرر کیا جائے وہ دیانتدار اور خدا ترس لوگ ہونے چاہئیں۔ پس تم سب جو میرے جگر گوشہ ہو یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ اگر تم میں سے کسی نے کسی عاجز اور لاچار کو ستایا تو میں ظالم کو اس کے ظلم کی پوری پوری سزا دوں گا۔‘‘

ایک بار میں بادشاہ کے ساتھ شریک سفر تھا۔ شاہی سواری ایک نہر کے کنارے پہنچی تو بلبن خود نہر کے کنارے جاکر کھڑا ہوگیا اور اس نے عہدہ داروں کو حکم دیا کہ وہ خود ہاتھوں میں لکڑیاں اور شہتیر لے کر انتظام کریں کہ سب سے پہلے خواتین، بچے، بوڑھے، بیمار اور کمزور ناتواں افرادکو پار اتارا جائے۔ صحت مند اور توانا لوگ معذوروں اور کمزوروں کی مدد کریں۔ اس کے بعد گھوڑے، ہاتھی اور باربرداری کے دوسرے جانور پانی کو عبور کریں۔ غیاث الدین بلبن کو میں نے ارکان دین اور نماز روزے کا پابند پایا۔ ان کے علاوہ اس نے کبھی تہجد، چاشت اور اشراق کی نماز بھی قضا نہیں کی تھی۔ وہ ہر وقت باوضو رہتا تھا۔ عالموں، صوفیوں اور بزرگان دین کی موجودگی میں دسترخوان پر کبھی پیش دستی نہیں کرتا تھا۔ اس کی عادت تھی کہ کھانے کے وقت علماء کرام سے مختلف مسائل کی تحقیق کرتا۔ وہ امیروں، وزیروں کی قیام گاہوں پر ان سے ملاقات کو جاتا اور اس طرح ان کی عزت افزائی کرتا۔ اس کا معمول تھا کہ جمعہ کی نماز پڑھنے کے بعد مشائخ اور علمائے دین کے گھروں میں جاتا اور برہان الدین ؒ کی، مولانا سراج الدین سنجری اور مولانا نجم الدین دمشقی جیسے جید اور بزرگ کی صحت سے فیض یاب ہوتا۔ بلبن قبروں پر بھی فاتحہ خوانی کے لئے جایا کرتا۔ جب حکومت کے کسی رکن یا بزرگ کا انتقال ہوجاتا تو وہ اس کے جنازے پر جاتا، تجہیز و تکفین میں شریک ہوتا۔ بعد میں مرنے والے کے گھر جاکر صبر کی تلقین اور راضی بہ رضائے خدا رہنے کی تاکید کرتا۔ مرحوم امراء کے وارثوں کے بلبن خلعت اور انعامات وغیرہ سے سرفرازکرتا اوریتیم بچوں کی پرورش کے لئے بھاری وظیفے مقرر کرتا۔ بلبن کی عادت تھی کہ اگر کہیں سوار ہوکر جاتا اور راستے میں لوگوں کا ہجوم نظر آتا اور یہ معلوم ہوتا کہ یہاں وعظ ہورہا ہے تو وہ فوراً سواری سے اتر کر مجلس وعظ میں شریک ہوجاتا۔ وہ خدا اور اس کے رسول پاک صلعم کے احکامات کو بہت غور سے سنتا اور زار و قطار روتا۔ میں نے غیاث الدین بلبن کے پاس اپنے قیام کے دوران اسے کبھی ننگے سر نہیں دیکھا۔ وہ محفل میں کبھی باآواز بلند قہقہہ نہیں لگاتا۔(جاری ہے)

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 125 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار