اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 87

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 87
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 87

  

ایک بزرگ ہاتھ پیر سے رہ گئے تھے، وہ اُٹھنے بیٹھنے سے بھی معذور تھے۔ اتفاقاً ایک مرتبہ گھر میں کوئی نہیں تھا اور نماز کا وقت بھی ہوگیا تھا۔ نماز جانے کے خیال سے زار زار روتے ہوئے بولے کہ خداوند! میری نماز قضا نہ ہوجائے۔ نماز کے قضا ہوجانے سے اپنی قضا آجانا گوارا ہے۔

اسی وقت آپ کے ایک پڑوسی کے دل میں خداوند تعالیٰ نے رحم ڈالا۔ اس نے اپنے دل میں کہا کہ میرا پڑوسی معذور ہے اور آج اس کے گھر میں بھی کوئی نہیں ہے۔ مجھے جاکر اس کا حال و احوال دریافت کرنا چاہیے، شاید اسے کسی شے کی ضرورت ہو۔یہ سوچ کر وہ آپ کے پاس پہنچا اوربولا کہ اگر کوئی حاجت ہو تو کہیے۔ وہ بزرگ بولے۔’’ہاں، وضو کے لیے پانی درکار ہے۔‘‘

اس پر وہ کنویں پر پانی لینے کے لیے گیا۔ جب ڈول ڈال کر نکالا تو اسے زروجواہر سے پر پایا۔ وہ اسے لے کر شیخ کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ آپ نے اسے دیکھ کر فرمایا’’یہ تیری مزدوری ہے خوشی سے لے لے۔ اللہ تعالیٰ نے تجھے مزدوری پہلے ہی ادا کردی ہے تاکہ مجھ جیسا معذور کسی کا احسان مند نہ ہو۔‘‘

اس کے بعد وہ شخص دوبارہ کنویں پر گیا۔ ڈول ڈالا تو پانی سے بھر آیا۔ پانی لے کر شیخ کے پاس پہنچا۔ آپ نے وضو کیا، نماز پڑھی اور اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ اس نے ایک عاصی کی نماز کو قضا نہ ہونے دیا۔

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 86 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

***

حضرت مالک بن دینارؒ حج کو جارہے تھے کہ راستہ میں انہوں نے دیکھا کہ ایک کوا منہ میں روٹی لیے اڑاجارہا ہے۔ آپ کے جی میں آیا کہ اس کوے کو دیکھنا چاہیے کہ وہ روٹی لے کر کہاجاتا ہے۔ تھوڑی دور جاکر دیکھا تو وہ کوا ایک ایسے شخص کے سینے پر بیٹھا اسے روٹی کھلا رہا تھا جس کے ہاتھ اور پاؤں کٹے ہوئے تھے۔ روٹی کھلانے کے بعد کوا چونچ میں پانی لایا اور اسے پلایا۔ جب وہ اُڑگیا تو آپ اس شخص کے پاس گئے اور اس سے یہ احوال دریافت کیا۔

وہ بولا ’’ہمارا قافلہ حج کو جاتا تھا۔ راستہ میں ڈاکوؤں نے ہمیں لوٹ لیا۔ میرے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے پھر مجھ کو مراجان کر چھوڑ گئے۔ تین دن تک بھوکا پیاسا تڑپتا رہا۔ دانہ پانی منہ میں نہ گیا۔ جب زندگی کے ہاتھوں مایوس ہوگیا تو جناب باری میں گریہ وزاری کی۔ اے میرے کریم تیرے سوا اس خوار و زار کا خبر لینے والا کون ہے۔ اپنی رحمت سے مجھے بھوک پیاس کی مصیبت سے چھڑا۔ ‘‘دعا اس بے کس کی اللہ نے قبول کی۔ چنانچہ اس وقت سے یہ کوا دونوں وقت مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔ جیساکہ خود تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔‘‘

***

ایک مرتبہ مشائخ جمع ہوکر کہیں دعوت کھانے کے لیے جانے لگے تو حضرت ابراہیم ادہمؒ کوبھی بلایا۔ وہ بھی آگئے اور جماعت میں شامل ہوگئے۔ پھر ایک اور شخص کا انتظار کرنے لگے۔ جماعت میں سے ایک آدمی نے کہا ’’وہ دولت مند ہیں دیر سے آئیں گے۔‘‘

یہ کلام سنتے ہی ابراہیمؒ چپ چاپ چلے آئے کہ یہاں غیبت ہوتی ہے۔ پھر اپنے نفس کو لعنت ملازمت کی۔ کہ کھانے کے لالچ میں مسلمان بھائی کی غیبت سنی۔ اور پھر ایسی دعوت کھانے سے کہ جس میں غیبت ہو۔ ہمیشہ کے لیے توبہ کی۔

***

حضرت شفیق بلخیؒ ہمیشہ دریائے دجلہ کے کنایر وعظ فرمایا کرتے تھے۔ انہی دنوں ایک قافلہ عراق کا جو کہ حج کو جارہا تھا اس طرف سے گزرا تو ایک اونٹ والا آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ کوئی ایسی بات بتائیے جو سفر و حضر میں کام آئے۔ آپ نے فرمایا

’’تین باتیں یاد رکھ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمیشہ فائدہ اٹھائے گا۔ ایک یہ کہ جو اپنے واسطے چاہے سو آقا کے لیے بھی چاہنا۔ دوسرے یہ کہ جو چیز نفیس درکار ہو وہ مالک ہی سے مانگنا۔ تیسرے جو تجھ کو مالک سے ملے اس پر راضی رہنا اور کبھی ناخوش نہ ہونا۔‘‘ اس نے یہ باتیں پلے باندھ لیں اور چلا گیا۔

ایک مدت کے بعد حضرت شفیق بلخیؒ نے دیکھا کہ وہی اونٹ والا پانی کی سطح پر چلا آرہا ہے۔ آپ نے اسے اپنے پاس بلا کر پوچھا۔ ’’کیا تو وہی اونٹ والا ہے جو ہم سے تین باتیں پوچھ کر گیا تھا۔‘‘

وہ بولا ’’ہاں، مَیں وہی ہوں، اور تم وہی عالم ہو جو اوروں کو بتاتے ہو اور خود اس پر عمل نہیں کرتے۔ مَین نے صرف آپ کی دو ہی باتوں پر عمل کیا۔ فضل الہٰی سے پانی پر چلنے لگا اور جو تیسری پر بھی عمل نصیب ہوتا تو خدا جانے کس درجہ ولایت پر جاپہنچتا۔ مگر اس کی مجھ میں طاقت نہیں تھی۔ مجبور ہوں۔‘‘ اتنا کہہ کر چلا گیا۔(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 88 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے