باعزت ریٹائرمنٹ (1)

باعزت ریٹائرمنٹ (1)
باعزت ریٹائرمنٹ (1)

  



موت اور ریٹائرمنٹ سے کسی کو چھٹکارانہیں، دونوں بڑے جھٹکے ہیں،دونوں سے بڑا خوف آتا ہے…… موت کا جھٹکا تو آخری ہوتا ہے اور انسان کی جان اس دُنیا سے چھوٹ جاتی ہے، لیکن ملازمت سے ریٹائرمنٹ اور موت کے درمیان بہت کچھ بھگتنا پڑتا ہے۔ریٹائرمنٹ بھی کئی طرح کی ہوتی ہے، بعض دفعہ آپ کو وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ پر بھیج دیا جاتا ہے اور بعض دفعہ آپ خود وقت سے پہلے ریٹائر ہونے میں عافیت سمجھتے ہیں، لیکن ایک قسم ”باعزت ریٹائرمنٹ“ ہوتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنا وقت پورا کرکے ریٹائر ہوتے ہیں۔ ایسے ہی ایک صاحب ملازمت سے ریٹائر ہوئے تو روایتی طریقے سے ان کے اعزاز میں ایک پارٹی ہوئی۔ پارٹی کے بعد ہر آدمی ان سے ہاتھ ملاتا اور یہی کہتا تھا کہ سر آپ بڑے ”باعزت ریٹائر“ ہوئے ہیں، یہ بڑی خوش قسمتی کی بات ہے۔

وہ کچھ دیر تو ہوں ہاں کرکے یہ خراج تحسین وصول کرتے رہے، لیکن کافی تنگ آ گئے، لہٰذا جب ایک صاحب نے پھر اسی ”باعزت ریٹائرمنٹ“ پر مبارکباد دی تو وہ صبر نہ کر سکے اور ان صاحب کو متوجہ کر کے کہنے لگے، دیکھو اس ”باعزت ریٹائرمنٹ“ کے لئے پچھلے 35 سال میں بہت بے عزتی کرائی ہے۔ خیر کچھ لوگوں کو تو عزت راس ہی نہیں آتی، لہٰذا وہ بے عزتی کراتے رہتے ہیں اور زیادہ بدمزہ نہیں ہوتے۔ کچھ اپنے تئیں عزت سے نوکری پوری کرتے ہیں،بے عزتی سے بچ بچا کر نکل جاتے ہیں اور بڑے خوش ہوتے ہیں کہ ان کے دامن پر کوئی داغ نہیں۔انہوں نے اپنی پوزیشن سے کوئی ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا، لہٰذا وہ سر اُٹھا کر چل سکتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی اصول پسندی اور ایمانداری کا فخریہ ذکر بھی کرتے رہتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ انہیں یہ جان کر بڑا صدمہ ہوتا ہے کہ عام لوگوں کے نزدیک ایمانداری کوئی ایسی خاص بات نہیں ہوتی،جس کے لئے اُن سے کوئی خاص سلوک کیا جائے، بلکہ بعض دفعہ لوگوں کو ان پر نالائقی یا اکھڑ پن کا شک ہوتا ہے، کیونکہ ملازمت میں آپ نے اپنی زندگی کھپا دی اور بے شمار فائدوں سے محروم رہے، جو آپ کی دسترس میں تھے۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے۔ ملازمت تو انسان کھانے پینے اور موج اڑانے کے لئے کرتا ہے اور آپ نے کسی ”مخصوص سوچ“ کی وجہ سے بہت کچھ خواہ مخواہ اپنے اوپر حرام کئے رکھا۔ جو لوگ ملازمت کا صحیح مزہ لیتے ہیں، اُن کے لئے تو ریٹائرمنٹ ایک ڈراؤنا خواب ہوتا ہے۔ بھلا ریٹائرمنٹ میں ”عزت بے عزتی“ والی کیا بات ہوئی؟یہ تو ایک بہت بڑی محرومی ہے۔

ملازمت انسان کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہے،اسی سے معاشرے میں اس کی قدرو منزلت کا تعین ہوتا ہے، اسی میں دوستیاں دشمنیاں بنتی ہیں، اسی میں پیش آنے والے حالات کے نتیجے میں زندگی کے بنیادی مسائل خصوصاً،باس اور وقت کے حکمرانوں کے بارے میں سوچ تشکیل پاتی ہے۔ ٹرانسفر پوسٹنگ کا بڑا اہم رول ہوتا ہے۔ بعض دفعہ کسی غلط پوسٹنگ یا گریڈ کے جھٹکے کا صدمہ پوری عمر پر محیط ہو جاتا ہے۔ چھوٹے موٹے جھٹکے تو انسان پی جاتا ہے، وہ انہیں ساتھیوں کی سازشوں کا نتیجہ قرار دیتا ہے، اپنی کسی کمزوری یا غلطی کا ادراک تو ناممکن سی بات ہے۔اگر کوئی کسی وجہ سے ٹاپ پر نہ پہنچ سکے تو وہ اس ”زیادتی“ کے صحیح یا غلط ذمہ داروں کو کبھی معاف نہیں کرتا،حالانکہ اس میں بھی خیر کا ایک پہلو ہوتا ہے، وہ یہ کہ ٹاپ پر پہنچنے سے انسان Expose ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ اس رسک سے بھی بچ نکلتا ہے……ریٹائرمنٹ کے بعد ایک مسئلہ اپنے سابقہ رفیقانِ کار سے تعلقات کا ہوتا ہے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد آپ سینئرز،خصوصاً ماتحتوں سے بڑی توقعات رکھتے ہیں۔بعض دفعہ تو آپ کو ایسے لگتا ہے کہ ریٹائرمنٹ کوئی ایسا دھبہ ہے، جو صرف آپ پر لگا ہے،حالانکہ ریٹائر تو سب ہوتے ہیں، لیکن مسئلہ تو یہ ہے کہ آپ پہلے کیوں ریٹائر ہوئے؟ لہٰذا کوئی ”شریف“ آدمی یہاں میری مراد کرسی نشین اعلیٰ حکام سے ہے، کیونکہ اُن کے علاوہ باقی لوگوں کا شرافت کا دعویٰ تو کھوکھلا ہوتا ہے۔ وہ آپ سے بچ بچا کر چلتا ہے۔ دفتر میں تو اُن کا پی اے ہی آپ کو چکر دینے کے لئے کافی ہوتا ہے،جو چائے کے دور کو بھی ”اہم میٹنگ“ ثابت کرتا رہتا ہے، البتہ دفتر سے باہر کسی پبلک پلیس پر غلط آدمیوں، یعنی ریٹائر لوگوں کے ٹکرانے کا بڑا خطرہ ہوتا ہے،لہٰذا کرسی نشینوں کا یہ محتاط رویہ بالکل اُن کی حیثیت اور عقل کے مطابق ہے۔ بھلا کون ریٹائر لوگوں سے فضول میں ملتا پھرے۔ ہمارے ایک بیوروکریٹ دوست لاہور میں ایک اچھی پوسٹ پر تعینات تھے۔ وہ خود سنایا کرتے ہیں کہ جب کوئی ریٹائرڈ کولیگ ملنے آ جاتا تھا تو مَیں اُسے اُٹھ کر ملتا تھا اور ساتھ ہی گھنٹی بجا کر گاڑی لگانے کا حکم جاری کر دیتا تھا، کیونکہ بڑے صاحب کی میٹنگ میں شریک ہونا ہوتا تھا۔ ساتھ ہی ملاقاتی سے معذرت کرتے ہوئے کسی کام کے بارے میں رسمی طریقے سے پوچھ لیتا تھا اور کہہ دیتا تھا کہ چائے اُدھار رہی، اگلی دفعہ ان شاء اللہ یہ کمی پوری کر دی جائے گی۔وہ بیچارہ شرمندہ سا ہو کر ٹل جاتا تھا اور مَیں اپنا کام شروع کر دیتا تھا، یعنی آخر قیمتی وقت بھی بچانا ہوتا ہے۔

دفتروں میں ایک عجیب رول ہے کہ ایک سال پہلے ریٹائرمنٹ کا خط نکال دیا جاتا ہے تاکہ ہر خاص و عام کو پتہ چل جائے۔ کمزور ”صاحب“ کی تو اسی سے ہوا نکل جاتی ہے، وہ حوصلہ ہار بیٹھتے ہیں اور کام چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ اپنی پنشن اور گریجوایٹی کے حساب کتاب اور یاد اللہ میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ ”صاحب“ کی اس کیفیت سے کئی چالاک ملازمین ناجائز فائدہ اُٹھا لیتے ہیں اور بہت سے کاغذوں پر اُن کے دستخط کرا لیتے ہیں تاکہ بوقت ضرورت کام آ سکیں۔”صاحب“ اُس وقت نرم دِل ہو چکے ہوتے ہیں اور اس کیفیت کے زیراثر اُصول اور ضمیر وغیرہ کی غیرضروری باتیں فراموش کر دیتے ہیں،کیونکہ عملی زندگی میں اُن کا کوئی مطلب نہیں ہوتا،البتہ عقلمند لوگ ریٹائرمنٹ کے قریب بھرپور ”کارکردگی“ دکھاتے ہیں تاکہ اُن کے جانے کی وجہ سے پیدا ہونے والا ”خلاء“ محسوس کیا جا سکے۔ ویسے بھی باقی زندگی کے لئے ”زادِ راہ“ اکٹھا کرنا ہوتا ہے۔ سارے متوقع مسائل سے نمٹنے کی حکمت عملی کو حتمی شکل دینا ہوتی ہے۔(جاری ہے)

مزید : رائے /کالم