دِلِ خوش فہم کی امیدیں؟

دِلِ خوش فہم کی امیدیں؟
دِلِ خوش فہم کی امیدیں؟

  



دلِ خوش فہم کو جو امیدیں ہیں، وہ کبھی بر آئیں گی؟ ہمیں اب پھر سے اِس وقت کا انتظار کرنا ہو گا کہ وفاقی اور سندھ حکومت کے درمیان جو روابط استوار ہونے جا رہے تھے ان میں پھر سے تعطل آ گیا اور ہمیں 90ء کی دہائی والا دور یاد آ گیا، جب وفاق میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں مسلم لیگ(ن) برسر اقتدار تھی، تب بھی سی ایس پی افسروں کے تبادلے کا مسئلہ یا تنازعہ پیدا ہوا۔ وفاق نے غالباً چیف سیکرٹری کا تبادلہ کر دیا اور ان کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی، پنجاب حکومت نے ان کو چارج چھوڑنے سے منع کر دیا اور موقف اختیار کیا کہ صوبے کی مرضی اور تعاون کے بغیر وفاق کو تبادلے کا حق نہیں۔

تب آئین میں اٹھارہویں ترمیم بھی نہیں ہوئی تھی۔ بہرحال معاملہ اسی کشمکش کے دوران بالآخر افہام و تفہیم ہی سے حل ہوا تھا، آج جب آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو مزید حقوق حاصل ہو چکے ہیں تو سندھ کی صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان انسپکٹر جنرل پولیس سید کلیم امام کے تبادلے پر پھڈا ہو گیا۔ صوبائی حکومت ان کی جگہ کسی دوسرے کو چاہتی ہے اور اس کی طرف سے پانچ نام بھی دیئے گئے کہ کسی ایک کو تعینات کر دیا جائے۔ خبروں کے مطابق اس تنازعہ کو نمٹانے کے لئے گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے درمیان ملاقات میں افہام و تفہیم کی فضا بن گئی،چنانچہ عرصہ بعد وزیراعلیٰ کو وزیراعظم عمران خان کی کراچی آمد کے پروگرام سے مطلع کیا گیا اور وہ بھی وزیراعظم کا استقبال کرنے ایئر پورٹ گئے اور اس کے بعد ان کی وزیراعظم سے ملاقات بھی ہوئی،اس میں بھی گورنر موجود تھے۔

خبر تو یہی ہے کہ بات چیت اطمینان بخش تھی، وزیراعلیٰ نے آئی جی کے تبادلے کی وجوہات سے آگاہ کیا،اس پر وزیراعظم مان گئے اور طے ہو گیا کہ تبادلہ ہو گا اور جو نام دیئے گئے ان میں سے کسی کو تعینات کر دیا جائے گا،لیکن یہ سب اتنا آسان نہ ہوا کہ جب وزیراعظم کنگری ہاؤس گئے تو تین ارکان قومی اسمبلی والی گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس نے پیپلزپارٹی کی حکومت کے ایماء پر آئی جی کے تبادلے کی مخالفت کر دی اور ساتھ یہ مطالبہ کیا کہ اگر بالفرض تبادلہ کرنا ہی تو پھر نئے آئی جی کے لئے ان کی مرضی بھی معلوم کی جائے،اس کے بعد کیا ہوا کہ وزیراعظم نے اپنا ذہن تبدیل کیا۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ حالیہ بحران میں متحدہ اور جی ڈی اے کے ووٹ مل کر دس ہوتے ہیں۔ جی ڈی اے اور متحدہ کے درمیان سندھ کی تقسیم اور فنڈز پر کتنے بھی اختلاف ہوں مگر دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے کے مطابق متحدہ اور جی ڈی اے پیپلزپارٹی کے مقابلے میں متحد ہیں۔ چنانچہ تبادلے پر پھر سے غور کی وجہ یہی دباؤ بنا اور وزیراعظم نے پھر سے گورنر سے کہا کہ وہ سب سے مشاورت کریں اور صوبائی حکومت کوبھی آن بورڈ لے کر نئے نام یا تبادلے کے حوالے سے فیصلہ کر کے آگاہ کریں۔یوں یہ معاملہ پھر سے لٹک گیا کہ حکومت سندھ نے گورنر سے بات کرنے کا مشورہ قبول نہیں کیا اور موقف اختیار کیا کہ اس معاملے میں گورنر کا سرے سے کوئی کردار ہی نہیں اور صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ جو نام دیئے گئے ان میں سے جس کو چاہیں تعینات کر دیں۔

اب دِل خوش فہم کی سب خوشی غارت ہو گئی کہ چلیں، تین صوبوں اور وفاق کے درمیان ہم آہنگی کے بعد اب چوتھے صوبے سے بھی مفاہمت کی راہ ہموار ہو گئی ہے تو ملک کے اندر سیاسی استحکام آئے گا،جس کی اشد ضرورت ہے کہ بیرونی خدشات اور اندرونی مسائل کا حل ہی ہموار اور بہتر حالات میں مضمر ہے،لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جو جن آمریت نے بوتل سے نکالا وہ اب بھی اپنا کام کر رہا ہے کہ پولیس آرڈر2002ء ایک ایسی پھانس ہے، جو خصوصی طور پر صوبائی حکومت کے گلے میں اٹکی ہوئی ہے کہ اس کے تحت انسپکٹر جنرل پولیس ایک ادارہ ہے، حتیٰ کہ صوبائی حکومت کسی اعلیٰ پولیس افسر کا تبادلہ بھی آئی جی کی منشاء کے بغیر نہیں کر سکتی، جسے سندھ ہائی کورٹ نے مشاورت قرار دے دیا ہے۔ حال ہی میں ڈاکٹر رضوان اور ایک دوسرے افسر کو وزیراعلیٰ نے تبدیل کیا،نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ یہ نوٹیفکیشن سندھ ہائی کورٹ نے معطل کر دیا ہے۔اب روایت کے برعکس ایسے تبادلوں کے لئے عدالت سے رجوع کرنے کی رسم بھی ہے اور وہاں سے ریلیف بھی مل جاتی ہے کہ پولیس آرڈر 2002ء کے تحت ممکن ہے۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اٹھارہویں ترمیم کے بعد بھی یہ صورتِ حال ہے تو پھر صوبائی حکومت کے اختیارات کیا ہوں گے؟ اگر حکومت جرائم کے حوالے سے شکایات کی روشنی میں کسی پولیس اہلکار یا افسر کے خلاف تادیبی کارروائی کرنا چاہے تو وہ کیا کرے۔اگر حکومت کا اختیار نہیں تو پھر پولیس خود مختار ہو گئی اور یہ خود مختار باز پرس سے روکے گی اور یوں اگر میاں ٹھہرے کوتوال تو پھر ڈر کاہے کا، والی بات ہو گئی کہ کوئی بھی پولیس اہلکار جس کی اپنے اعلیٰ افسر کے ساتھ اچھی ”گڈ وِل“ ہو گی۔اس کے خلاف تو کارروائی ممکن ہی نہیں ہو گی، چاہے وزیراعلیٰ کی ہدایت ہو،اگر یہ ہے تو وزیر کی کوئی مجال نہیں،حالانکہ آئینی طور پر انتخابی عمل کے ذریعے عوام اپنے ووٹوں سے نمائندے منتخب کرکے ایوانوں میں بھیجتے ہیں، اور انہی کی اکثریت سے حکومت بنتی ہے۔اب اگر یہ حکومت تادیبی کارروائی سے محروم ہے تو پھر عوامی ووٹ یا رائے کی کیا حیثیت باقی رہ گئی؟

سندھ اور وفاق میں اس تبادلے کے حوالے سے پس پردہ جو قوتیں کام کر رہی ہیں،ان کی طرف سے پیپلزپارٹی کو چڑانے کا بھی انتظام کیا گیا،انسپکٹر جنرل سید کلیم امام کی وزیراعظم سے ملاقات کی فوٹیج خصوصی طور پر ریلیز کی گئی اس میں کلیم امام کو بڑے ہی آسان اور سیدھے انداز میں خوبصورتی سے مسکراتے اور وزیراعظم کے چہرے پر اطمینان اور سکون دکھایا گیا ہے۔خبر یہ ہے کہ وزیراعظم نے ان (سید کلیم امام) کی کارکردگی کی تعریف کی اور ان سے کام جاری رکھنے کو کہا، تاوقتیکہ مشاورت مکمل نہیں ہوتی،اس سے قبل یہ اطلاع تھی کہ وزیراعظم نے ان کو سیکرٹری نارکوٹکس ڈویژن لگانے کے لئے کہا ہے، جو جگہ31جنوری سے خالی ہو رہی ہے، اس طرح یہ سب خبریں یا اطلاعات یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ”ہیں کہ ہمیں کسی کا ڈر نہیں“ کہ بحران تو ٹل ہی گیا کہ متحدہ بھی مطمئن اور جی ڈی اے بھی خوش،حالانکہ پہلے بھی کسی بڑے خطرے کا امکان نہیں تھا کہ ”دم مارو دم والی“ بات ہے، اور جسے پیا چاہے، وہی سہاگن، والا قصہ ہے۔

یہ سطور گواہ ہیں کہ ہم نے ہمیشہ قومی مفاہمت و مصالحت کی بات کی کہ حالات اسی کا تقاضہ کرتے ہیں،لیکن شاید ہماری قسمت میں یہ نہیں، ویسے قارئین!یہ کیسا طریقہ ہے کہ بے روزگاری، خوفناک مہنگائی اور بیماریوں سے توجہ ہٹانے کے لئے ایسے بحران پیدا ہوتے رہیں تاکہ عوامی توجہ بٹی رہے،لیکن تسلسل سے ایسا ہونا ممکن نہیں کہ بھوک تو مردار کھانے پر بھی مجبور کر دیتی ہے اور آج جو بھوک ننگی ہو کر ناچ رہی ہے، جس طرح آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت بجلی، گیس،پٹرولیم اور یوٹیلیٹی اشیاء مہنگی سے مہنگی ہوتی جا رہی ہیں وہ عوام کو بلبلانے سے رونے اور اشتعال پر مجبور کر سکتی ہیں،ابھی گیس والوں نے سلیبس میں ہیرا پھیری کر کے50فیصد نرخ بڑھا لئے ہیں اور نئے نرخوں کی سمری بھیج کر چار سو فیصد اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔

اب اگر یہ ہوتا ہے جو ہو کر رہے گا، یہ موخر والی بات بھی دلاسہ ہی ہے تو لوگ اسی طرح گیس استعمال کرنے سے عاجز ہوں گے جیسے اس بار گرمیوں میں پنکھے کی ہوا نہ لے سکیں گے کہ بجلی کے بل بھی بس سے باہر ہیں۔اب اگر مفاہمت کی جگہ محاذ آرائی جاری رہی اور اپوزیشن بھی الجھی رہی تو ان حالات کی بات کون کرے گا؟ اور اگر اپوزیشن بھی کچھ نہ کرے تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔اس کا اندازہ آج (جمعرات) شام کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی سے ہو جائے گا، ویسے اندازِ بیاں کی ہم داد دیتے ہیں، ”ہم مانتے ہیں مہنگائی ہوئی، لیکن یہ سابقہ حکومتوں کا کیا دھرا ہے“۔

مزید : رائے /کالم