دو حکومتی عہدیداروں کا ”جرم“

دو حکومتی عہدیداروں کا ”جرم“
دو حکومتی عہدیداروں کا ”جرم“

  



آپ عنوان پڑھ کر غالباً چونک گئے ہوں گے کہ ہر جرم ابلیسی ہی تو ہوتا ہے……ایسا نہیں ہے! بعض جرائم بھوک کے مارے ہوتے ہیں، شدید حاجات کی وجہ سے بھی جرائم ہوتے ہیں، نادانستگی میں بھی جرم سرزد ہو جاتاہے۔ یہ اور کئی اور جرائم مجبوری، بشری کمزوری اور خطا کے باعث ہو جاتے ہیں، جس جرم کا تذکرہ مَیں آج کر رہا ہوں،وہ ابلیس کے کسی پجاری ہی سے سرزد ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں: ”لوگوں کے چولہے ٹھنڈے ہو گئے ہیں، کروڑوں عوام تکلیف میں مبتلا ہیں، معیشت تباہ ہو گئی ہے، لوگ خود کشی کر رہے ہیں، گھریلو جھگڑے ہو رہے ہیں، گھروں میں کھانے کو نہیں ہے، میاں بیوی لڑ رہے ہیں، بچوں کو مارا جا رہا ہے، حکومت فوری انکوائری کرے، ہر شے کا ریکارڈ موجود ہے“…… اگر آپ کو راستے میں پڑا تھیلا ملے جس میں لاکھوں روپے ہوں اور آپ کے علم میں آئے کہ یہ مال ایک عرب شیخ یا بل گیٹس نامی امریکی کا ہے تو ہم آپ میں سے ہر شخص، گمان غالب ہے، دم سادھ کر تھیلا گھر میں رکھ لے گا،

لیکن تھیلے میں پڑی اس رقم کا پتا چلے کہ یہ کسی بیوہ کے وہ بقایاجات ہیں جو شوہر کی وفات کے بعد اسے ترکے میں ملے ہیں اور یہی اس کی کل کائنات ہے، اسی سے اس نے بیٹیوں کی شادی کرنا ہے، اسی سے اس نے اکلوتے بیٹے کو تعلیم دلانا ہے تو مجھے یقین ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اس بیوہ کو تلاش کر کے اسے رقم لوٹا دے گا۔ اگر رقم ہر دو صورتوں میں اپنے پاس رکھ لی جائے تو بدعنوانی یا غبن کہلائے گی۔ کیا اس بدعنوانی یا غبن کی سزا ہر دو صورتوں میں برابر ہے؟ آپ اتفاق کریں گے کہ ہم سب جس جواب پر متفق ہیں، وہی جواب ہے۔ یہ بددیانتی شاید قابل معافی ہوکہ بیوہ نے تھیلا سنبھال کر کیوں نہیں رکھا، لیکن اگر اسی بیوہ کے گھر میں پڑے آٹے کے تھیلے سے اسے کوئی ریاستی عہدیدار محروم کر دے تو اس عہدیدار کو کیا نام دیں گے؟

غبن، بددیانتی کے اتنے رنگ اور اتنے ذائقے ہیں کہ ان کے بیان کے لئے پورا دفتر درکار رہتا ہے۔

یہی وجہ ہے، اور دیگر وجوہ بھی ہیں کہ مَیں نے اسے کبھی موضوع گفتگو نہیں بنایا۔اس کی جڑیں تلاش کی جائیں تو اس کی لپیٹ میں ابتدائی اولاد آدم سے لے کر اس اکیسویں صدی تک کے باشندے آ جاتے ہیں۔ یہ من بھاتا موضوع ہمارے محبان وطن کا ہے، جس کی لپیٹ میں صرف سیاست دان آتے ہیں، حالانکہ بدعنو انی، غبن اور بددیانتی دُنیا میں ایک عالمگیر وباء کی شکل میں موجود ہے۔ اسے کئی مختلف رنگوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ قانون کی رنگین پَنّی میں لپیٹ کر کمپنیوں کا کِک بیک اگر وہاں کہا جاتا ہے تو اپنے ہاں سیکرٹری حکومت پاکستان کو جو دو پلاٹ دیئے جاتے ہیں، وہ اس کی پنشن سے بعض اوقات تو دس گنا سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ کیوں دیئے جاتے ہیں؟ اس کا جواب نہ میرے پاس ہے اور نہ آپ کے پاس۔ اس ادارہ جاتی بددیانتی کے متعلق میرے تھوڑے کہنے کو بہت سمجھ کر بس چُپ رہیں اور اندازے سے اس دائرے کو وسعت دیتے رہیں۔ بددیانتی کا تذکرہ آج کل فیشن میں شمار ہوتا ہے۔

مَیں اپنی تحریر کو اس سے آلودہ نہیں کرتا، میرے موضوعات ذرا دیگر قسم کے ہیں، لیکن میرے ان موضوعات کو اگر بدعنوانی کی وہ قسم مَس کرنا شروع کر دے،جو میرے موضوعات کو متاثر کرے تو خاموشی جرم بن جاتی ہے…… اور اگر اس بددیانتی، غبن اور جرم کا تذکرہ ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کی زبان سے سنوں تو اسے صحیفہ آسمانی تو سمجھنا غلط ہو گا، لیکن میرے نزدیک پھر سچ وہی ہے جو ڈاکٹر صاحب بیان کریں۔ ڈاکٹر صدیقی اپنی وضع کے بس ایک ہی اور لاثانی شخص ہیں۔کوئی گیارہ سال قبل مَیں خیبر بینک کے شریعہ بورڈ کا ممبر بنا تو اسی دورانیہ میں وہ بھی ممبر تھے۔ ہم دیگر ممبران نے انہیں چیئرمین بنا ڈالا۔ چیئرمین بنتے ہی انہوں نے پہلی قرار داد یہ منظور کرائی کہ اس کا م کا ہم کوئی اعزازیہ نہیں لیں گے۔ وہ ایک آدھ سہ ماہی کے بعد مستعفی ہو گئے، لیکن تمام ممبران ان کی اس قرار داد پر اس پورے دورانیہ میں کاربند رہے۔

بی سی سی آئی (بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس) کے مشرق وسطیٰ کے اس نستعلیق، وضع دار اور بامروت سربراہ اعلیٰ کی وضع داری کا یہ عالم کہ ایک بار کراچی جانے سے ذرا قبل فون پر ان سے سرسری تذکرہ کیا تو فوراً بولے: ”ذرا فلائٹ نمبر بتائیے“……روا روی میں بتا دیا۔ دیکھا کہ اپنے گھر کھڑی نصف درجن گاڑیوں میں سے کسی ایک کے ڈرائیور کو بھیج دینے کی بجائے موصوف خود کراچی ایئرپورٹ پر کھڑے ہیں۔ یہ پوچھنے کی بجائے کہ قیام کہاں ہے، اپنی دن بھر کی اہم مصروفیات ترک کر کے سیدھا اپنے گھر لے گئے۔ آصف علی زرداری اور نواز شریف دونوں نے اپنے عہد ِ اقتدار میں انہیں اسٹیٹ بینک کا گورنر بننے کو کہا تو مختصر جواب کے ساتھ معذرت کر دی: ”مَیں جس طرح بینک چلاؤں گا، اسے آپ پسند نہیں کریں گے“۔

انتہائی بیدار مغز، دقیقہ رس، نکتہ سنج اور بال کی کھال اتارنے والے ڈاکٹر صاحب بورڈ کے اجلاس میں پوری تیاری کے ساتھ شرکت کرتے۔ اعدادوشمار ان کی نوک زبان پر یوں رہتے کہ برسوں قبل کے کسی اجلاس کی تاریخ اور جگہ کے حوالے سے کچھ بیان کرتے تو اجلاس کے سیکرٹری صاحب بھی اِدھر اُدھر دیکھنا شروع کر دیتے۔ مجال ہے کہ برسوں قبل کے کسی بیان کی تحریف یا تفریق ہو۔ اب اگر یہ ڈاکٹر صاحب بددیانتی کی وہ شکل، وہ سیاہ کاری سامنے لائیں،جو میرے موضوعات کے قریب تر ہو تو اسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہے۔ میرے نزدیک پھر سچ وہی ہے،جو ڈاکٹر صاحب بیان کریں ……ڈاکٹر صاحب نے چند د ن قبل ٹی وی پر ساڑھے پانچ منٹ کی اپنی مختصر گفتگو ارسال کی، سُن کر چھکے چھوٹ گئے۔ ان کی تحقیق کا نچوڑ انہی کے الفاظ میں ملاحظہ کیجئے…… ان کے خیال میں موجودہ بحران صرف دو افراد جہانگیرترین اور ہمایوں اختر کا پیدا کردہ ہے اور یہ دونوں وہی اشخاص ہیں، جنہوں نے 2005ء میں چینی کا بحران پیدا کیا تھا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ آٹے کے اس مصنوعی بحران سے ”کئی سو ارب روپے غریب اور متوسط طبقے سے طاقتور طبقوں کی طرف منتقل ہوئے“۔

وہ کہتے ہیں کہ ان دونوں افراد نے اکتوبر 2005ء میں ای سی سی میں ایک سمری بھیجی کہ چینی درآمد کی جائے۔ وزیراعظم شوکت عزیز نے لکھا کہ مَیں ان دو حضرات جہانگیرترین اور ہمایوں اخترسے مشورہ کروں گا، جو خود ممبر تھے اور دونوں نے چینی کا ذخیرہ کیا ہوا تھا۔ اُدھر عالمی منڈی میں چینی کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ دونوں نے دو ماہ تک خوب منافع کمایا، لیکن باہر سے چینی نہ آئی۔ جب عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ گئیں تو شوکت عزیز صاحب نے دو ماہ بعد لکھا کہ چینی درآمد کر لی جائے،چنانچہ نیب نے کہا کہ ہم اس سارے معاملے کی تحقیق کریں گے، کیونکہ یہ خاصا سنجیدہ معاملہ ہے۔

ڈاکٹر صدیقی کہتے ہیں کہ اس پر مَیں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ اگر نیب نے اس سارے قضیے کو تحقیق کے بعد پایہ تکمیل تک پہنچا دیا تو اس کے سارے گناہ دھل جائیں گے۔ کہتے ہیں مضمون چھپنے کے چوبیس گھنٹے بعد نیب نے گھٹنے ٹیک دیئے اور سارا معاملہ داخل دفتر ہو گیا۔ نیب تحقیق سے دستبردار ہو گیا۔ اب صورت یہ ہے کہ انہی دو افراد جہانگیرترین اور ہمایوں اخترنے آٹے کا موجودہ بحران پیدا کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے اپنے وزیر علی زیدی نے ٹی وی پر کہا کہ مَیں نے لکھ کر بھیجا ہے کہ آٹے کے اس موجودہ مصنوعی بحران پر پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے،جو اس سارے معاملے کی تحقیق کرے۔ ڈاکٹر صاحب نے سوال اٹھائے: اکتوبر میں جب حکومت کو پتا تھا کہ بارش کے باعث گندم کم پیدا ہوئی ہے تو عین بحرانی دنوں میں گندم برآمد کیوں کی گئی؟اور برآمد سے کس کو فائدہ ہوا؟ کس نے اجازت دی؟ بحران پیدا ہوا تو حکومت کا بیان تھا گندم وافر موجود ہے۔

اگر گندم موجود تھی تو درآمد کیوں کی گئی؟اس درآمدو برآمد سے کس نے فوائد اٹھائے……؟ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ ای سی سی کا فیصلہ آنے سے ایک روز قبل جہانگیر ترین نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ فیصلہ ہو گیا ہے اور ہم گندم درآمد کر رہے ہیں۔ اس پریس کانفرنس میں ان کے ساتھ وزیر دفاع بھی موجود تھے۔ ای سی سی کے اجلاس سے قبل جہانگیر ترین نے گندم درآمد کرنے کے فیصلے کا انکشاف کیسے کیا کہ جب اجلاس ہوا ہی نہیں تھا؟یہ انکشاف انہوں نے کس حیثیت میں کیا کہ جب وہ سپریم کورٹ سے ویسے ہی نااہل ہیں، جیسے نواز شریف؟ لوگ ان کو ڈپٹی پرائم منسٹر کہتے ہیں تو وجہ کیا ہے؟ پانچ منٹ کی اس مختصر گفتگومیں ڈاکٹر صاحب نے……او میرے خدایا……چند مزید زہریلے انکشاف کئے یا سوال اٹھائے۔ الفاظ ملاحظہ فرمائیں: ”لوگوں کے چولہے ٹھنڈے ہو گئے ہیں، کروڑوں عوام تکلیف میں مبتلا ہیں، معیشت تباہ ہو گئی ہے، لوگ خود کشی کر رہے ہیں، گھریلو جھگڑے ہو رہے ہیں، گھروں میں کھانے کو نہیں ہے، میاں بیوی لڑ رہے ہیں، بچوں کو مارا جا رہا ہے، حکومت فوری انکوائری کرے، ہر شے کا ریکارڈ موجود ہے“۔

یہ ہے وہ ڈاکا جو متمول افراد نے ابتدائی سطور میں مذکور ہماری اس بیوہ کے گھر مارا ہے اور اسے آٹے سے محروم کر دیا ہے۔ قارئین جانتے ہیں کہ میرے نزدیک مال اسباب زیست میں سے تو ہے، لیکن اس کی پوجالوگوں کو درندہ بنا دیتی ہے۔ یہ اس نشتر کی مانند ہے،جو طبیب کے ہاتھ میں ہو تو عمل جراحی میں معاون اور ہلاکوخان کے پاس ہو تو آلہ گردن کشی۔ یہ نمرود کے ہاتھ چلا جائے تو لوگ نان جویں کو ترسیں، عثمان رضی اللہ کے پاس ہو تو پیاسوں کی زبانیں تر ہو جائیں۔ آپ آٹے کے اس موجودہ مصنوعی بحران پر نظر ڈالیں۔ دُنیا کی کون سی نعمت ہے جو جہانگیرترین اور ہمایوں اختر کے پاس نہیں ہے، لیکن ”العطش العطش“ کی صدا انہی کے حلق سے نکلتی سنائی دیتی ہے۔ 2005ء میں بھی انہوں نے ہی لوگوں کے چولہے ٹھنڈے کئے اور 2019ء میں بھی انہوں نے ہی مخلوقِ خدا، بیواؤں، یتیموں اور ناداروں کو نشانہ بنایا۔

لوگوں کے گھروں میں جمع ریزہ ریزہ، لقمہ لقمہ، نوالہ نوالہ ہتھیایا۔ باپ بچوں کی پٹائی کر رہا ہے تو ان دو کی وجہ سے، میاں بیوی میں علیحدگی ہو رہی ہے تو اس کے ذمہ دار یہی ذات شریف، باپ کی خودکشی سے بچے یتیم ہو رہے ہیں تو انہی کا نامہ ئ اعمال سیاہی میں لتھڑا ہوا……پارلیمنٹ، حکومت، نیب، عدلیہ اور ذرائع ابلاغ سب کی ذمہ داری ہے کہ ڈاکٹر صدیقی صاحب کے ان سنجیدہ سوالات کی چھان بین کے لئے اپنے اپنے ذرائع سے کام لیں۔ ہم نے آصف علی زرداری اور نواز شریف کے ادوار میں اس قدر سفاکی نہیں دیکھی۔آصف علی زرداری اور نواز شریف پر الزامات تو ہیں ممکن ہے درست ہوں، لیکن ان کی نوعیت وہ نہیں کہ لوگوں کے چولہے ٹھنڈے ہوں، بچے یتیم ہوں، میاں بیوی میں ناچاقی ہو…… یہاں تو دن دیہاڑے یہ سب کچھ ہوا۔ نیب نے نوٹس لیا اور اگلے ہی دن منقار زیر پر ہو گیا۔ قارئین امید کرتے ہیں کہ اس سنگین انسانی مسئلے کی چھان بین اورمجرموں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لئے پارلیمنٹ، حکومت، نیب،عدلیہ اور ذرائع ابلاغ اپنے اپنے حصے کا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

مزید : رائے /کالم