اندھیرے میں بھٹکتے مسافر

اندھیرے میں بھٹکتے مسافر
اندھیرے میں بھٹکتے مسافر

  



”پاکستان مسائل میں گھرا ہوا ملک ہے“…… یہ وہ بیانیہ ہے جو قیام پاکستان سے آج تک کبھی تبدیل نہیں ہوا اور نہیں لگتا کہ اگلے 72 برسوں میں بھی تبدیل ہو۔ صورتِ حال اس قدر پیچیدہ ہے کہ خرابی کا پتہ تک لگانا ممکن نہیں رہا۔ بڑے بڑے دعوؤں کے ساتھ عوام کی رہنمائی کا دعویٰ کرنے والے اقتدار میں آئے، مگر اس گنجلک نظام میں ایسے اُلجھے کہ خرابی کا سرا تک تلاش کرنا ان کے لئے ممکن نہ ہوا…… مثلاً آج کل جو کشتی بھنور میں پھنسی ہوئی ہے تو کیا کسی کے پاس اسے بھنور سے نکالنے کا کوئی راستہ ہے؟…… ہر طرف بحران، بحران کی پکار ہے…… مگر نہ بحران کی نوعیت واضح ہوتی ہے، نہ اس کا تدارک کسی کی سمجھ میں آتا ہے۔ بڑے بڑے گھمبیر مسائل کی موجودگی میں چھوٹے چھوٹے مسائل ایسے دیو ہیکل مسئلے بن جاتے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔

اب پچھلے کئی دنوں سے سندھ کے آئی جی کی تبدیلی کا معاملہ یوں لگ رہا ہے، جیسے تمام مسائل کی جڑ ہے،جونہی یہ مسئلہ حل ہو گا، ملک کے سارے مسائل ختم ہو جائیں گے، اس کے بعد راوی چین ہی چین لکھے گا اور ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی…… ایک آئی جی وزیر اعظم سے اس انداز میں ون ٹو ون ملاقات کرتا ہے، جیسے ان کا ہم منصب ہو۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ ماضی میں کوئی ایسا آئی جی بھی گزرا ہو جو اتنی اہمیت کا مالک بن گیا ہو؟…… یہ کیا ضد ہے اور کیا فضولیات ہیں۔ کیا یہ اتنا اہم معاملہ ہے کہ وزیر اعظم سارے کام چھوڑ کر اس پر توجہ دینے لگیں۔

سندھ حکومت کو آپ جتنا بھی بُرا کہیں، لیکن اس سے یہ اختیار کیسے چھینا جا سکتا ہے کہ وہ صوبے کا آئی جی کابینہ کی منظوری کے باوجود تبدیل نہ کر سکے۔ پھر کلیم امام کیا پورے ملک میں پولیس کے واحد افسر رہ گئے ہیں کہ ان کے سوا کوئی ایماندار اور اہل نہیں؟ کیا ایک پولیس افسر کو اتنی ہلہ شیری ملنی چاہئے کہ وہ سیاست دانوں کی طرح بڑھکیں مارے۔ کیا ڈسپلن اور رولز آف بزنس کی اس پر کوئی قدغن نہیں؟پنجاب میں اتحادیوں،بلکہ تحریک انصاف کے اپنے ارکانِ اسمبلی نے چیف سیکرٹری اور آئی جی کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا،مگر انہیں شٹ اَپ کال مل گئی، لیکن سندھ میں جی ڈی اے نے آئی جی کی تبدیلی پر تحفظات ظاہر کئے تو وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ سندھ سے مفاہمت ہو جانے کے باوجود یوٹرن لیا اور آئی جی کی تبدیلی کو مؤخر کر دیا، حالانکہ مشتاق میمن کے نام پر اتفاق بھی ہو چکا تھا……

یہ کتنا بڑا زوال ہے کہ سیاست کے ساتھ ساتھ بیورو کریسی اور پولیس میں بھی شخصیات کو اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔ یہ ہم کس طرزِ حکمرانی کو فروغ دے رہے ہیں؟ آج پولیس پیچھے چلی گئی ہے اور کلیم امام کا نام آگے آ گیا ہے۔ اگر یہی رویہ رہا تو پھر ہر افسر یہ کوشش کرے گا کہ کوئی ایسا کام کرے جو اسے سیاسی حکمرانوں کی ضرورت بنا دے، پھر وہ آلہئ کار بنے گا اور اپنے منصب کے اصل تقاضوں کو بھول جائے گا۔ حیرت اس لئے بھی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان یہ کہا کرتے تھے کہ بیورو کریسی اور پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد کرائیں گے، اب اگر آئی جی کے معاملے پر حکومت اپنے اتحادیوں تک کا دباؤ قبول کر رہی ہے تو اس سے زیادہ سیاسی مداخلت اور کیا ہو سکتی ہے؟

ایسے فروعی مسائل میں الجھ کر کون سی حکومت ملک کو مسائل کی دلدل سے نکال سکتی ہے؟……مَیں سوچتا ہوں کہ کیا ایسے مسائل میں ملائشیا کے ڈاکٹر مہاتیر محمد اور ترکی کے طیب اردوان بھی الجھتے ہوں گے؟ جن کی وزیراعظم عمران خان بڑی مثالیں دیتے ہیں۔ کیا وہاں کسی آئی جی کو اتنی اہمیت ملتی ہو گی کہ وہ وفاق اور صوبے کے درمیان وجہ ئ نزع بن جائے اور ملک کے وزیراعظم کے سامنے بیٹھ کر ایسے قہقہے لگائے، جیسے اپنے بیج میٹ کے ساتھ بیٹھا ہو۔ کیا اسی طرح ادارے مضبوط ہوں گے؟ اصل ترجیحات کو چھوڑ کر اس طرح کے مسائل میں الجھ جانا، جن کا عوام سے کوئی تعلق نہیں، کیا کوئی دانشمندی کی بات ہے؟ کلیم امام، کو امام پولیس بنا کر کیوں پیش کیا جا رہا ہے؟ کیا ان کا دور سندھ کا مثالی دور تھا؟ کیا سندھ میں وڈیرے اسی طرح ظلم نہیں ڈھاتے رہے؟ ظلم و تشدد کی داستانیں اسی طرح سامنے نہیں آتی رہیں؟ کراچی میں رینجرز کے بغیر پولیس آج بھی صفر ہے۔ گویا سب کچھ پہلے کی ڈگر کے مطابق ہوتا رہا، پھر یہ کلیم امام کا ایشو کیسے سامنے آ گیا؟ لگتا ہے کہ ڈاکٹر کلیم امام نے بڑی مہارت سے اس تاثر کو فروغ دیا کہ وہ نہایت ہی ایماندار اور پروفیشنل پولیس افسر ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی میں موجود سیاسی کشمکش سے بھی فائدہ اٹھایا جو میرے نزدیک بذات خود ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے منصب کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ متنازعہ بننے کی بجائے از خود کسی دوسری پوسٹنگ کی درخواست کرتے، مگر وہ عہدے سے چپکے رہے۔ اس کشمکش میں سندھ پولیس کی کارکردگی پر کیا منفی اثرات پڑے ہوں گے، اس کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں۔

وزیر اعظم عمران خان ڈیووس کانفرنس میں شرکت کے لئے گئے ہوئے تھے، تو وہاں ان کی مصروفیات دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ صحیح معنوں میں عالمی سطح کے ایک لیڈر ہیں۔ انہوں نے وہاں پاکستان کا مقدمہ بڑی خوبصورتی سے پیش کیا، اسی طرح کشمیر کی صورتِ حال کا نقشہ بھی نہایت جرأت مندی سے کھینچا،عالمی لیڈروں سے ملاقاتیں کیں اور پاکستان کے لئے اپنی ترجیحات ان تک پہنچائیں …… مگر ”کیسی بلندی کیسی پستی“ کے مصداق واپس آتے ہی وہ ایسے مسائل سلجھانے میں اُلجھ گئے، جن کے سلجھنے یا الجھنے سے عوام کو کوئی سروکار ہی نہیں۔ عوام مہنگائی سے نجات چاہتے ہیں، آٹے، چینی، دال، گھی کے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں، لیکن کابینہ میں کبھی آئی جی کا مسئلہ زیر بحث آتا ہے اور کبھی اتحادیوں کے مطالبات پر بحث سارا وقت لے جاتی ہے۔ وزیر اعظم پہلے اپنے چہیتے تین صوبائی وزیر کابینہ سے نکال دیتے ہیں، پھر انہیں بلاکر حقیقت حال پوچھتے ہیں، یعنی جو کام پہلے ہونا چاہئے، وہ بعد میں ہوتا ہے۔

وزیراعظم کو ان چھوٹے چھوٹے کاموں میں الجھانے والے کون ہیں؟ ان کے سامنے تو مسائل کا انبار لگا ہوا ہے…… کیا انہیں انفرادی معاملات میں الجھنا چاہئے یا اجتماعی مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہئے؟ اگر وزیراعظم عمران خان کو ان فروعی مسائل سے کبھی فرصت ملے تو وہ اپنے اس ایجنڈے پر غور کریں، جسے لے کر وہ انتخابی مہم کے دوران عوام کے پاس گئے تھے،مگر حکومت میں آنے کے بعد اسے بھول گئے۔ عوام کو سستا اور فوری انصاف دلوانا تھا، میرٹ کو ہر شعبہئ زندگی میں لاگو کرنا تھا، پولیس میں اصلاحات کرنی تھیں، تھانہ کلچر کو بدلنا تھا، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لانا تھیں، غریبوں کو اوپر اٹھانا تھا، ظلم کے نظام کو ختم کرنا تھا، روز گار کے مواقع پیدا کرنے تھے، قانون کی بالا دستی کو یقینی بنانا تھا…… غرض ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھنی تھی۔ یہ بہت بڑا نعرہ تھا اور اسی نعرے کی وجہ سے قوم نے انہیں پچھلے سیاستدانوں کے مقابلے میں ترجیح دی تھی۔

72 برسوں میں آنے والے حکمرانوں کی طرح عمران خان بھی یہ سب کام تو بھول گئے، یا انہیں مختلف مسائل میں الجھا کر یہ کام پس پشت ڈالنے پر مجبور کر دیا گیا۔ آج وہ بس اچھی اچھی تقریریں کرتے ہیں، ماضی کے کارنامے گنواتے ہیں، عوام کو حوصلہ بلند رکھنے کی تلقین کرتے ہیں، کابینہ میں اپنی معاشی ٹیم کو تھوڑی بہت جھاڑ پلاتے ہیں، آٹے اور چینی کے بحران پر غصے کا اظہار کرتے ہیں، ایک آئی جی کو ملنے کا وقت نکالتے ہیں،اسے سیاست میں ملوث ہونے پر شٹ اَپ کال دینے کی بجائے، ڈٹے رہنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو کچھ کر کے دکھانے کی تنبیہ کرنے کی بجائے عہدے پر قائم رہنے کی نوید سناتے ہیں ……پھر اظہار بے بسی کچھ ایسے کرتے ہیں کہ عثمان بزدار کو تبدیل کیا تو اگلے کو بیس دن بھی نہیں چلنے دیا جائے گا۔ گویا اسی وزیراعلیٰ کو چلانا ہے، چاہے وہ صوبے میں اچھی گورننس نہ بھی دے پائے……

صاحبو! یہ سب کچھ انوکھا نہیں ہے، یہ تو ہماری 72 سالہ تاریخ کا تسلسل ہے، ہم نے کولہو کے بیل کی طرح ایک ہی دائرے میں گھومنا ہے۔ اقتدار میں آنا تو بڑے بڑے دعوؤں کے ساتھ ہے، لیکن عملاً کرنا کچھ نہیں۔ اس سارے کھیل میں ہمیشہ نقصان صرف عوام کا ہوتا آیا ہے۔ ان کی حالت خراب ہوئی ہے، بہتر کبھی نہیں ہوئی۔ سب نعرے انہی کے لگائے گئے، مگر سب سے زیادہ ظلم بھی انہی پر ڈھایا گیا۔ کل بھی سرمایہ داروں نے انہیں لوٹا تھا، آج بھی لوٹ رہے ہیں۔ ہم ایک ایسی خرابی کے اسیر ہیں جس کا سرا تک معلوم نہیں، سو اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں اور نجانے کب تک بھٹکتے رہیں گے؟

مزید : رائے /کالم