مزید خواری سے بچانے کیلئے سٹیڈیمز ہی میں فائیو سٹار ہوٹل تعمیر کئے جائیں

مزید خواری سے بچانے کیلئے سٹیڈیمز ہی میں فائیو سٹار ہوٹل تعمیر کئے جائیں
 مزید خواری سے بچانے کیلئے سٹیڈیمز ہی میں فائیو سٹار ہوٹل تعمیر کئے جائیں

  



دشمنانِ پاکستان نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تخریب کاری کے منصوبے تسلسل کے ساتھ ترتیب دیئے اور سازش کے تحت عدم تحفظ، دہشت گردی کو پاکستان سے منسوب کر کے بین الاقوامی کرکٹ، ہاکی کو اہل ِ پاکستان سے دور کر دیا، کئی سال تک پاکستانی قوم اپنی گراؤنڈ میں کرکٹ دیکھنے سے محروم رہی، بین الاقوامی کھیلوں کو پاکستان سے دور کرنا ایسی سازش تھی، جس کا مقصد مرحلہ وار پاکستان کو بدامنی کا مرکز دہشت گرد، ملک ثابت کرنا تھا۔ سری لنکا کے دورے سے شروع ہونے والی تخریب کاری کو اس انداز سے آگے بڑھایا گیا کہ مساجد، سکول، کالج، بازار، سینما گھر سب غیر محفوظ قرار دیئے جانے لگے، بغض ِ معاویہ سے شروع ہونے والی ہمسایہ ملک کی سازشوں نے حقیقتاً پاکستانی کھیلوں کے میدان ویران کر دیئے، اس بڑی سازش کی کامیابی سے ہمسایہ ملک شادیانے بجانے لگا اور دُنیا بھر کی کرکٹ اور ہاکی سمیت دیگر کھیلوں کی ٹیمیں جو پاکستان آ کر فخر محسوس کرتی تھیں دور ہوتی چلی گئیں، نوبت یہاں تک آ گئی کہ بین الاقوامی کھیلوں کی ٹیموں نے پاکستان آنے سے صاف انکار کر دیا اور اگر کوئی ٹیم پاکستان سے کھیلنے کے لئے تیار ہوتی تو اس کی پہلی شرط پاکستانی گراؤنڈ کی بجائے نیوٹرل ملک کی گراؤنڈ تھی، مجبوراً پاکستان کئی سال تک نیوٹرل گراؤنڈ کی سزا بھگتا رہا، کئی سال تک بین الاقوامی ٹیمیں پاکستان نہ آ سکیں، یکسوئی کے ساتھ ہمارے وطن ِ عزیز کو بدامنی کا مرکز قرار دے کر دہشت گردی کی صف میں لاکھڑا کیا گیا،اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کھیلوں کے میدان ویران ہونے سے ہماری نوجوان نسل جو پاکستانی آبادی کا60فیصد سے زائد ہے اضطراب کا شکار تھی، غیر نصابی سرگرمیوں سے دور ہو کر بے حیائی اور دُنیاوی آلائشوں کا شکار ہو رہی تھی، ہمارے پاک فوج کے سپوتوں نے وطن ِ عزیز کے گراؤنڈ آباد کرنے کے لئے جانوں کی قربانی کی نئی داستانیں رقم کیں اور پھر گلی محلے تک پھیلی دہشت گردی کا ملک کے طول عرض سے خاتمہ کیا،اس کا کریڈٹ جنرل(ر) راحیل شریف اور جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے، پھر اللہ نے کرم کیا بدامنی، عدم تحفظ کا احساس کم ہوتا چلا گیا۔ دہشت گردی کے خاتمے میں کسی سیاسی حکومت کا کوئی کردار نہیں رہا البتہ پاک فوج کے ساتھ کو آرڈی نیشن اور اخلاقی حمائت کا کریڈٹ حکومت ضرور جاتا ہے۔

تمہید طویل ہو گئی، پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دینے کی سازشیں بیدار پاکستانی قوم کی دُعاؤں کی وجہ سے دم توڑ گئیں اور ہمارے مستقبل کے نونہالوں کے لئے کھیلوں کے میدان دوبارہ آباد ہونے لگے، اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں ہے پاکستانی قوم اپنی کرکٹ ٹیم بالعموم اور ہاکی و دیگر کھیلوں کی ٹیموں سے بالخصوص بہت پیار کرتی ہے اور اپنی ٹیموں کو دُنیا بھر میں نمایاں دیکھنے کے خواہش مند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سری لنکا کی ٹیم کی آمد پر بڑے خوش۔سری لنکا کے دورے کے دوران ضلعی انتظامیہ کی بدانتظامی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کی وجہ سے خاموش رہے، صرف اس لئے کہ پاکستانی گراؤنڈ آباد ہو رہے ہیں، مہمانوں کی سیکیورٹی ضروری ہے پاکستانی عوام لاہور کے ہوں ہو یا کراچی کے، اسلام آباد کے ہوں یا فیصل آباد کے، سب نے بڑے دِل کے ساتھ بین الاقوامی کرکٹ کی آمد کو خوش آمدید کہا۔ دہشت گردی کے خاتمے کی طرح سری لنکا کی ٹیم اور مینجمنٹ کے تحفظ کو یقینی بنا کر بین الاقوامی طور پر مثبت پیغام دینا بھی پاک فوج کے حصے میں آیا۔

سری لنکا کی ٹیم کے دورے کے دوران پیدا ہونے والے مسائل کا دورے کی کامیابی کے بعد جائزہ لینا بڑا ضروری تھا، کیونکہ بین الاقوامی قوتیں جو پاکستان کو امن و سلامتی کا گہوارہ دیکھنے کی روادار نہیں، پاکستانی ساکھ کی بہتری قبول کرنے کے لئے بھی تیار نہیں، اِس لئے پاکستانی حکومت کو بھی پاک فوج کے اقدامات کو مثبت انداز میں لینا چاہئے، عملی طور پر ایسا نہیں ہو رہا۔ بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کی آمد کے موقع پر جو بدانتظامی دیکھنے کو ملی اس سے اندازہ ہوا ہمارے لاہور کی انتظامیہ بالعموم اور پنجاب حکومت بالخصوص ناکام رہی ہے۔ تین ٹی 20 میچوں کے چار دن اہل ِ لاہور کے لئے عذاب بنا دیئے گئے، بچے، بوڑھے، خواتین ذہنی مریض بن گئے۔ رہی سہی کسر انتظامیہ نے لاہور کے سکولوں کو11بجے چھٹی کرنے کی ہدایت کے ساتھ پوری کر دی۔11 بجے جو والدین اپنے بچوں کو لینے سکول کی طرف آئے، 11بجے ہی فیروز پور روڈ بند، نہر بند، بچے سکولوں میں، والدین سڑکوں پر، بدانتظامی نہیں تو اور کیا ہے، ساڑھے 10یا 11بجے چھٹی کی بجائے اگر سکولوں کو چار دن کی مکمل چھٹی دے دی جاتی تو شاید اہل ِ لاہور کے حصے میں خواری کم آتی، مگر لاہور انتظامیہ نے تو انتہا کر دی، والدین کی گاڑیوں کے پٹرول ختم ہو گئے، مائیں گھروں میں اضطراب کا شکار، والدین گاڑیوں میں، بچے بچیاں سکولوں میں انتظار کی سولی پر لٹکے رہے۔افسوس اِس امر کا ہے کہ سی ٹی او لاہور سمیت ڈپٹی کمشنر لاہور اور پولیس چیف نے راستے بند کرنے کو ہی حل سمجھا۔

بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم جس کو دُنیا میں کوئی پوچھتا تک نہیں اس کو آسمانوں پر پہنچا دیا،آخری میچ میں تو حد کر دی گئی، کئی دن سے پیش گوئی کی جا رہی تھی تین دن بارش ہے اس کے باوجود 10بجے صبح سڑکیں بند کر دی گئیں۔ ایک طرف بارش دوسری طرف بچوں تک پہنچنے کی دشواری چھ چھ گھنٹے والدین خوار ہوئے،دفاتر میں کام کرنے والے سرکاری اور پرائیویٹ ملازمین کے ساتھ جو کچھ ہوا اس خواری پر کتاب لکھی جا سکتی ہے، بنگلہ دیش کی ٹیم کی خیریت سے واپسی کے ساتھ ایسا عذاب اب راولپنڈی میں نازل ہونے والا ہے۔

اہل ِ لاہور پریشان ہیں، چند روز بعد لاہور میں پی ایس ایل کا میلہ لگنے والا ہے، پی ایس ایل کا نام آنے سے ہی خوفزدہ ہو رہے ہیں، بڑی تجاویز آ رہی ہیں۔ ایک دوست نے مجھے تحریری تجویز دی،اللہ کا واسطہ دیا اور کہا کرکٹ سے پیار کے نام پر قوم کو عذاب نہ دیا جائے، کرکٹ سے سب کو پیار ہے، مسائل کا مستقل حل ڈھونڈا جائے، بنگلہ دیش، پی ایس ایل، ساؤتھ افریقہ اور دیگر ٹیموں نے تو آنا ہی ہے، راستے بند کرنے، پُل بند کرنے کی بجائے قذافی سٹیڈیم میں ایک فائیو سٹار ہوٹل ہنگامی بنیادوں پر بنا لیا جائے، ساری سیکیورٹی کا مرکز قذافی سٹیڈیم کو بنا لیا جائے، اسی طرح راولپنڈی اور کراچی و دیگر شہروں جہاں کرکٹ کروانی ہے سٹیڈیم کے ساتھ ہی ہوٹلز بنا لئے جائیں،ٹیموں کو وہی رکھا جائے اس کے لئے وزیراعظم کو مداخلت کر کے فوری یہ کام کروانا چاہئے۔ سری لنکا اور بنگلہ دیش کی ٹیموں کی آمد پر جو کچھ ہوا اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو اہل ِ لاہور کی کرکٹ سے محبت جلد نفرت میں بدلنا شروع ہو جائے گی، اس کی وجہ صرف بچوں کو سکولوں سے لانے تک محدود نہیں ہے۔ چار دن تک لاہور میں کوئی کاروبار نہیں ہوا، مارکیٹیں تک بند کر دی گئیں، میٹرو، سپیڈو بند، سب کچھ کرکٹ کے پیار کے لئے کیا گیا یا قوم کو کرکٹ سے متنفر کرنے کے لئے، عوام اور حکومت ضرور سوچئے۔

مزید : رائے /کالم