شہباز شریف نے برطانوی اخبار، ڈیلی میل، صحافی ڈیوڈروز کیخلاف دعوی دائر کر دیا، چودھری شوگر ملز کو منی لانڈرنگ کیلئے استعمال کیا گیا: شہزاد اکبر

شہباز شریف نے برطانوی اخبار، ڈیلی میل، صحافی ڈیوڈروز کیخلاف دعوی دائر کر ...

  



لندن ( مانیٹرنگ ڈیسک، آئی این پی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے برطانوی صحافی ڈیوڈ روز کا چیلنج قبول کرلیا، شہباز شریف نے صحافی ڈیوڈ روز اور برطانوی اخبار ڈیلی میل کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ لندن کی کوئنز ڈویژن بینچ میں دائر کر دیا ہے، شہباز شریف کا موقف ہے کہ اخبار نے جھوٹے، بے بنیاد الزامات لگائے اور اسے سیاسی مقاصد کیلئے میرے خلاف استعمال کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے برطانوی صحافی ڈیوڈ روز کا چیلنج قبول کرتے ہوئے صحافی ڈیوڈ روز اور لندن کے مقامی برطانوی اخبار ڈیلی میل کے خلاف لندن ہائیکورٹ ہتک عزت کا مقدمہ دائر کردیا ہے، لندن میں میاں شہباز شریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ لندن ہائیکورٹ کی کوئنز بینچ ڈویژن نے ڈیلی میل اور صحافی ڈیوڈ روزکو نوٹسز بھی جاری کر دیئے ہیں جبکہ شہباز شریف کے وکیل الاسڈائرپیپرنے کہا کہ رائل کورٹ آف جسٹس میں مقدمہ شروع ہونے میں 9ماہ سے ایک برس تک وقت لگ سکتا ہے۔ شہباز شریف کی لاء فرم کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اخبار کی طرف سے معقول جواب نہ دینے پر عدالت سے رجوع کیا گیا ہے جبکہ صحافی ڈیوڈ روز کی جانب سے شہباز شریف پر خوردبرد کے بے بنیاد الزامات لگائے گئے اور آرٹیکل سیاسی مقاصد کیلئے شہباز شریف کے خلاف مہم کا حصہ تھا، الاسڈائیر پیپر کا مزید موقف ہے کہ شہباز شریف کو اپنی ساکھ عزیز ہے اور وہ ان مضحکہ خیز الزامات سے اپنا نام کلیئر کرائیں گے، درخواست میں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ڈیوڈ روز کے آرٹیکل میں الزامات جھوٹے اور بے بنیاد تھے اور بغیر ثبوت کے الزامات لگانا سیاسی صور پر نقصان پہنچانے کی کوشش تھی،اس موقع پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ان پر عائد الزامات جھوٹے اور بے بنیاد تھے۔ بغیر ثبوت کے سیاسی طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ واضح ہے کہ ڈیوڈ روز کو پی ٹی آئی کی حکومت نے استعمال کیا اور اْسے“خفیہ تحقیقاتی“ رپورٹس تک رسائی دی گئی۔لیگی قائد شہباز شریف نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کی ہدایت پر ہونے والی اعلیٰ سطح کی تحقیقات کے تبدیل کردہ نتائج اْسے دکھائے گئے جبکہ شہباز شریف کی جانب سے اخبار کو پہلا قانونی نوٹس 26جولائی 2019کو دیا گیا تھا اور یاد رہے کہ برطانوی صحافی ڈیوڈ روز کئی بار میاں شہباز شریف کو مقدمہ کرنے کا چیلنج دے چکے ہیں۔شہباز شریف نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ڈیلی میل کی خبر اس پروپیگنڈے اور سازش کا حصہ ہے جو عمران خان اور اس کے ساتھی کر رہے ہیں اور وہ لوگ اپوزیشن کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، خاص طور پر مسلم لیگ (ن) کے لوگوں کے خلاف اور یہ سب احتساب کے نام پر کیا جا رہا ہے تا کہ لوگوں کے سامنے اپوزیشن کی جگ ہنسائی ہو۔ شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان عوامی خدمت میں وہ کچھ نہیں کر سکے جو مسلم لیگ نون کی حکومت نے کیا ہے لیکن جب سے عمران خان نے کرکٹ چھوڑی ہے تو وہ صرف یوٹرن اور دروغ گوئی کے علاوہ کوئی کام نہیں کر سکے، ان کی مثال ایسی ہے جیسے چور مچائے چور جبکہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ بھی سب کے سامنے آچکی ہے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ برلن سے جاری ہوئی ہے پاکستانی حکام کہاں سے وضاحت دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے خلاف من گھڑت کہانی عمران خان کی ہدایت پر بنائی گئی اور وزیراعظم خان کے چاپلوس شہزادہ اکبر نے ہدایات پر من و عن عمل کیا جبکہ مجھ سے روز 10اور18سوالات پوچھتے تھے جس کا جوابیہ ہے کہ میں لندن نے میں مقدمہ دائر کر دیا ہے،نیب اور نیازی کا گٹھ جوڑ ہے، مجھے آشیانہ کیس میں ضمانت ملی ہے جو ان کے منہ میں طمانچہ ہے، عدالت نے جب پوچھا ثبوت کہاں ہیں تو وہ پیش نہیں کر سکے، اگر چہ نیب نیازی گٹھ جوڑ کا مقدمہ پاکستان میں کروانا چاہیے تھا جہاں گندے نالے کا مقدمہ بنایا گیا لیکن لندن میں خبر چلا کر اپنے چاپلوس لگوائے گئے، سٹوری چلا کر لندن کے لوگوں کو پتہ نہیں کیا پیغام دیا گیا، لندن کے لوگوں کے ذہن میں یہ سوچ ڈالی گئی کہ ان کے پیسوں پر کرپشن کی گئی، شہباز شریف نے کہا کہ برطانوی امداد سے پاکستان میں سب سے بڑے پروجیکٹس بنے، فلاحی کام ہوئے، ماں اور بچے کے ہسپتال تعمیر ہوئے ہیں اور ان پیسوں سے کرپشن کرنا صرف پتھر دل انسان کا ہی کام ہو سکتا ہے،یہ کام میں نہیں کر سکتا ہوں،موجودہ حکومت نے مجھے بدنام کرنے کی بجائے ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور پاکستان کو بدنام کیا ہے، اور دنیا کو پیغام دیا ہے کہ پاکستان کو امداد نہ دی جائے کیونکہ یہاں لوٹ مار ہے، میاں شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ حکومت نے میاں نواز شریف کی سوچ ہے کہ پاکستان ہوائی جہاز کی اڑان کی طرح ترقی کرے اور دنیا نے دیکھا اس سوچ تباہ کر دیا گیا، موجودہ حکومت16ماہ میں ملک کو کئی سال پیچھے لے گئی ہے، حکومت نے پاکستان کوبھکاری بنادیا ہے اور بھکاری کبھی اپنی چوائس نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ میاں نواز شریف کے دور میں ترقی ہوئی ہے اور انتھک محنت اور کوشش بھی کی گئی ہے۔ شہبازشریف نے کہا چین میں پھنسے پاکستا نیوں کی مدد کیلئے واضح حقائق قوم کو بتائے جائیں،چین سے پاکستانی طالب علموں کو نکالنے سے متعلق سچائی قوم کو بتائی جائے۔ انہوں نے کہاکہ حیرت کی بات ہے کہ اب تک حکومت پاکستان کوئی واضح بیان اور حکمت عملی بیان نہیں کرسکی،ووہان میں پھنسے پا کستا نیوں اوران کے اہلخانہ کی پریشانی کا فوری نوٹس لیاجائے، انہیں مطمئن کیاجائے اورقوم کو بتایا جائے پاکستانیوں کی واپسی میں کیا رکاو ٹیں حا ئل ہیں۔ چین میں پاکستانی سفارتخانے کے شکایات نہ سننے کی اطلاعات پر انکوائری کرائی جائے۔چین میں پاکستانی سفارتخانے کو فعال اور متحرک کیاجائے، زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھاجائے۔

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے الزام لگایا کہ شریف برادران نے چوہدری شوگر ملز کو منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ ایک بار پھر شریف برادران کے خلاف چوہدری شوگر ملز کیس پر بات کی۔انہوں نے کہا کہ چوہدری شوگر ملز بہت بڑا کارپوریٹ فراڈ ہے اس کے زیادہ تر ملزمان ملک سے باہر ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شوگر مل کیسے لگائی گئی مگر بدقسمتی سے ماضی میں ملک میں رجحان رہا کے ڈٹ کر پیسے کماؤ اور مزے کرو۔انہوں نے الزام لگایا کہ شریف برادران نے آف شور کمپنی کے ذریعے منی لانڈرنگ کی، نواز شریف نے پنجاب کارپوریٹ بینک سے 105 ملین روپے کا قرض لیا، پنجاب کارپوریٹ نامی کمپنی نے بھی 65 ملین کا شریف برداران کو قرض دیا لیکن نواز شریف نے وزیراعظم بننے کے بعد پورا قرضہ معاف کروا دیا۔شہزاد اکبر نے مزید الزام لگایا کہ قاضی فیملی کے نام پر شریف خاندان نے جعلی اکاوئنٹس کھولے، اس کے علاوہ 15.37 ملین ڈالر کے فارن کرنسی اکاؤنٹ بھی کھولے گئے، ایک سعودی شہری کے نام سے جعلی ٹی ٹیز بنائی گئیں، شہباز شریف سے ٹی ٹی والے ایشو پر 10 سوال پوچھے تھے اس کا جواب آج تک نہیں ملا۔ان کا کہنا تھا کہ پاناما سے پہلے نواز شریف کے شیئرز مریم نواز کے نام تھے، اس کیس میں سب سے اہم کردار مریم کا ہے اور انہی کا ہی عدم تعاون ہے۔

شہزاد اکبر

مزید : صفحہ اول