پاکستانی طلبہ کو چین سے نکالاتو وبا ء ملک میں پھیل سکتی ہے: حکومت

  پاکستانی طلبہ کو چین سے نکالاتو وبا ء ملک میں پھیل سکتی ہے: حکومت

  



بیجنگ/اسلام آباد/نئی دہلی /منیلا /ماسکو/جنیو ا(مانیٹرنگ ڈیسک،شہنوا،این این آئی)چینی صحت حکام نے اعلان کیا ہے کہ بدھ تک چین کے صوبائی سطح کے31علاقوں اور سنکیانگ پروڈکشن اینڈ کنسٹرکشن کورپس میں کرونا وائرس کے باعث نمونیا کے 7711مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ کل 170 افراد اس مرض کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے چین میں پاکستانی شہریوں کے تحفظ کیلئے اقدامات جاری ہیں، عالمی برادری نے بھی چین کے اقدامات کوسراہا جبکہ چینی حکومت کے کرونا وائرس سے متعلق اقدامات پر پاکستان بھی مطمئن ہے۔ معاون خصوصی ظفر مرزا کا کہنا ہے جن پاکستانی بچوں میں وائرس کی تشخیص کی گئی ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ادھرکرونا وائرس کے ملک میں پھیلنے کے خدشے کے سبب پاکستان نے چین کیلئے فضائی آپریشن معطل کردیا۔ایکسپریس نیوز کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ہدایات جاری کی ہیں کہ چین کے لیے فوری طور پر تمام فلائٹ آپریشنز کو معطل کردیا جائے۔سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ابتدائی طور پر تمام فلائٹس آپریشن کی 2 فروری تک معطلی کا فیصلہ کیا گیا ہے، 2 فروری کے بعد پاکستان چین کے درمیان فضائی آپریشن سے متعلق جائزہ لینے کے بعد دوبارہ فیصلہ کیا جائے گا۔ادھر اسلام آباد میں ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ووہان میں موجود پاکستانی شہریوں کو تحفظ دینے کیلئے پاکستانی حکومت پوری طرح فعال ہے، پاکستانی سفارتخانے میں رابطوں کیلئے نمبرمختص کر دیئے گئے ہیں۔ شہریوں کو درپیش خوراک کے مسئلے پر چینی حکام سے بھی رابطے میں ہیں۔ چین میں پاکستانی شہریوں کو ڈیٹا بیس رجسٹریشن کا کہا ہے، کسی ملک نے باضابطہ طور پر اپنے شہری چین سے نہیں نکالے، چینی حکام پاکستانی شہریوں کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں جس پر چینی حکومت کے مشکور ہیں۔دوسری جانب معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا پریس کانفرنس کرتے ہوئے معاملے پر کہنا تھا کرونا وائرس کے حوالے سے چین میں موجود بچوں کیساتھ رابطے میں ہیں، وائرس سے متاثرہ بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ پاکستانی سفارتخانے کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ چین میں موجود بچوں کا خیال رکھا جائے، وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت ہے کہ ان بچوں کو تمام سہولیات مہیا کی جائیں۔ جن بچوں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے انہیں چین میں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، چین نے اس کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکا ہوا ہے۔ پاکستان، دنیا اور خطے کے مفاد میں یہی بہتر ہے کہ ہم لوگوں کو وہاں سے نہ نکالیں۔ پوری دنیا کرونا وائرس سے بڑی پریشان ہے۔ کرونا وائرس کے معاملے پر عالمی ادارہ صحت نے 194 ممالک کو ہدایات جاری کی، پندرہ ممالک میں یہ بیماری پھیل چکی ہے۔ اب تک 7 ہزار 831 لوگوں میں کرونا وائرس ثابت جبکہ 170 لوگ اس بیماری کی وجہ سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ چین میں چار پاکستانی طلبہ کرونا وائرس سے متاثر ہوئے، تاہم اللہ کا شکر ہے ابھی تک پاکستان میں ایک بھی کرونا کا مریض نہیں ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کی ہیں کہ کوئی بھی ملک چین میں اپنے شہریوں کو نہ نکالے۔ اگر ہم نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی طلبہ کو وہاں نکالا تو یہ وبا پھیل سکتی ہے۔ چین نے اس وائرس کو پھیلنے سے روکا ہوا ہے۔ ہم بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ تمام ایئرپورٹس پر حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ پاکستان، دنیا اور خطے کے مفاد میں یہی بہتر ہے کہ ہم لوگوں کو وہاں سے نہ نکالیں۔ حکومت کو ووہان شہر میں پاکستانی طلبہ کی فکر ہے۔ چین میں موجود پاکستانیوں کو روزمرہ کی ضروریات مہیا کی جا رہی ہیں۔ بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانہ چین کی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے۔ ہم عجلت میں کوئی جذباتی فیصلہ نہیں کرنا چاہتے جس سے بیماری کے پھیلاؤ کا سبب بن جائیں۔ بہت ضروری ہے کہ ہم چین کی پالیسی کی عزت کریں۔ چین نے ابھی تک کسی کونکالنے کی اجازت نہیں دی۔ ویانا کنونشن کے قوانین کے تحت کچھ سفارت کاروں کو نکالا گیا ہے۔ ہم چین کے ساتھ کھڑے ہیں ان کی بہترین پالیسی ہے۔ چین کی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ پاکستانیوں کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ لی جا رہی ہے۔ ووہان میں طلبہ نے ہمیں لکھا ان کا بڑا خیال رکھا جا رہا ہے۔ جس طرح تشویش پھیلائی جا رہی ہے ویسی صورتحال نہیں ہے۔ مناسب وقت پر مناسب اقدام کریں گے، عجلت کا مظاہرہ نہیں کرینگے۔ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ جس طرح چین نے معاملے کوہینڈل کیا عالمی ادارہ صحت بھی تعریف کر رہا ہے۔ ووہان سے ابھی کسی کو آنے کی اجازت نہیں، جب چین سے فلائٹس آئیں گی تو ہر ممکن حفاظتی اقدام کیے جائیں گے۔ وزارت صحت اس حوالے سے دن رات کام کر رہی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے چاروں پاکستانیوں کی صحت بہتر ہو رہی ہے۔ ان طلبہ نے خود درخواست کی ہمارے اور ہماری فیملی بارے میڈیا میں بات نہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ چین میں 28 ہزار سے 30 ہزارکے قریب پاکستانی موجود ہیں۔ ابہام اسی وجہ سے ہے کہ تمام پاکستانیوں کی رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے تعداد کا پتا نہیں ہے۔ چین میں تمام پاکستانیوں سے درخواست کرتا ہوں سفارت خانے کی ویب سائٹ پر اپنی رجسٹریشن لازمی کروائیں۔دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ نے چین میں پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ مراد علی شاہ نے سیکریٹری خارجہ کو ٹیلفون کیا اور بتایا کہ 2 ہزار کے قریب سندھ کے شہری چین میں مقیم ہیں، ان میں سے زیادہ تر نوجوان طلبہ ہیں، جن کے اہلخانہ پریشان ہیں۔انہوں نے چینی قونصل جنرل سے بھی ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور کہا سندھ کے شہر بدین کے تیس طلبہ وہاں پھنسے ہوئے ہیں،انھیں ہنگامی بنیادیوں پر اپنوں کو وطن واپس لایا جائے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بیان میں کہا ہے چینی حکام نے کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے خاطر خواہ کوششیں کیں، چین میں پاکستانی شہریوں کی مدد پر چینی حکومت کے شکر گزار ہیں۔کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے چینی کوششوں سے متعلق بیان میں کہا پاکستانی عوام اور حکومت اس مشکل گھڑی میں چینی عوام کیساتھ کھڑے ہیں، کوئی شک نہیں کہ چین اس چیلنج پر قابو پانے میں کامیاب ہوگا، اعلیٰ چینی قیادت وائرس سے نمٹنے کی کوششوں کی نگرانی کر رہی ہے، عالمی برادری نے بھی کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے چین کی کوششوں کو سراہا، پاکستان چینی بھائیوں کی ہر ممکن مدد کیلئے تیار ہے۔علاوہ ازیں چین میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد واپس آنے والے پاکستانی شہری ایئرپورٹ پر پھنس گئے، ٹکٹ کینسل ہونے پر سفارتخانے پر برس پڑے۔پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے فون نہ اٹھانے اور مدد نہ کرنے کا شکوہ کرتے رہے۔ لوگوں نے دہائی دیتے ہوئے کہا پتہ نہیں وطن واپس پہنچ بھی سکیں گے یا نہیں، ٹکٹس کنفرم نہیں ہو رہیں، سفارتخانے سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہو رہا، خدا کیلئے یہاں سے نکالا جائے۔چین کے صوبہ ہبئی میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ نے کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے چینی حکومت کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ خبریں بڑھا چڑھا کر بیان کر رہے ہیں جس سے ان کے والدین میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پاکستانی طلبہ کا کہنا تھا کہ مصیبت کی گھڑی میں چینی عوام کے ساتھ ہیں۔دوسری جانب بھارت اور فلپائن میں بھی کرونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق ہوگئی۔بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کیرالا کے ایک نوجوان میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔جسے کیرالا کے مقامی ہسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ فلپائن میں بھی کرونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق ہوگئی ہے۔فلپائن کے وزیر صحت کے مطابق 21 جنوری کو ووہان سے فلپائن آنے والی 38 سالہ خاتون میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔علاوہ ازیں روس نے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے چین کے ساتھ اپنی سرحد کو فوری طور پر بند کردیا جبکہ روسی حکومت نے چینی شہریوں کو فوری طور پر ویزوں کا اجرا بھی روک دیا ہے۔روسی حکام کا کہنا ہے کہ چین کیساتھ ریلوے کے ذریعے آمدروفت بھی محدود کی جائے گی جس کے بعد 31 جنوری سے صرف ماسکو اور بیجنگ کے درمیان چلنے والی ٹرینیں جاری رکھی جائیں گی۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ناول کورونا وائرس کی وبا کے صحت عامہ کی عالمی ہنگامی صورتحال کے تعین کے لیے ایمرجنسی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس آڈھانوم غیبریسوس نے جنیوا سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ چین میں اور عالمی سطح پر اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ڈبلیو ایچ او کی اولین ترجیح ہے۔ ہم ہر دن کے ہر لمحے کی صورتحال کی نگرانی کررہے ہیں۔ایمرجنسی کمیٹی اس بحران سے نمٹنے کے طریقوں پر سفارشات بھی پیش کرے گی۔عالمی ادارہ صحت کے ایمرجنسی ڈیزیز یونٹ کی سربراہ ڈاکٹر ماریہ وان کیرکہو نے تمام اقوام کو خوف و ہراس سے بچنے اور بیماری پر قابو پانے پر توجہ مرکوز کرنے کا مشورہ دیا۔ تمام ممالک کے لیے ہماری ہدایت ہے کہ کیسز کی فوری شناخت کریں، مریضوں کو الگ تھلگ کریں اور علاج فراہم کریں اور گھر کے افراد سمیت سب سے انسانی روابط سے بچیں۔ہیلتھ ایمرجنسیز پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیکل ریان نے کہا کہ اس وائرس کا تیزی سے پھیلاؤ تشویش کا باعث ہے لیکن وہ اب تک انہیں یقین نہیں کہ ایسا کیسے ہوا۔ عالمی ادارہ صحت چین اور دیگر قوموں کیساتھ مل کر اس حوالے سے تعین کے لیے کام کررہا ہے۔ڈاکٹر مائیکل ریان نے قوموں پر وائرس کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو ترتیب دینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ 194 ممالک انفرادی اقدامات پر عملدرآمد کررہے ہیں جس کی وجہ سے معاشی، سماجی اور سیاسی طور پر تباہی کا امکان ہے۔ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا کہ عالمی برادری کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مالی ذرائع اور سیاسی خواہش موجود ہے۔ ہم وائرس کے مرکز پر سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کرنے پر چین سے اتفاق کرتے ہیں۔علاوہ ازیں کرونا وائرس کے وبائی مرکز ہوبے نے صوبہ میں بیماری کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کی غرض سے غیر ملکیوں کے لئے 24 گھنٹے کام کرنے والی ہاٹ لائنز شروع کردی ہے۔ یہ بات صوبہ ہوبے کے خارجہ امور آفس نے بتائی ہے۔ہوبے کے صوبائی امور خارجہ دفتر کی ہاٹ لائن کا نمبر87122256-027ہے جو 24گھنٹے کام کرے گی۔صوبے کے بڑے شہروں میں امور خارجہ کے دفتروں کی ہاٹ لائنز ہوبے صوبائی امور خارجہ کے دفتر کی ویب سائٹ www.fohb.gov.cn پر دستیاب ہے۔ہوبے میں غیر ملکی طلبا اور غیر ملکی ٹور گروپس کیلئے بھی ہاٹ لائن ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

کرونا وائرس

کراچی(این این آئی) کرونا وائرس پاکستان میں پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا، پاکستان کے تمام ائیرپورٹس پر تھرمل اسکینرز کم پڑ گئے، عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کی مزید 100گنز کی فراہمی کی درخواست منظور کرلی۔علاوہ ازیں چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے چین میں پھنسے پاکستانی طلبہ کی پاکستانی واپسی میں تاخیر کا نوٹس لے لیا،چین میں پھنسے پاکستانی طلبہ و ان کے والدین کا سینیٹر رحمان ملک سے رابطہ اور فوری واپسی کا مطالبہ کردیا۔سینیٹر رحمان ملک نے وزارت داخلہ کو چین میں پھنسے پاکستانی طلبہ کی فوری وطن واپسی کے انتظامات کے احکامات جاری کردیئے۔ انہوں نے کہاکہ وزارت داخلہ، ایف آئی اے اور او پی ایف کمیٹی کو واقعے پر تفصیلات دیں، سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ وزارت داخلہ پاکستانی طلبہ کے واپسی کیلئے وزارت خارجہ، او پی ایف اور جی ایچ کیو سے ملکر لائحہ عمل تیار کرے،پاکستانی طلبہ کی چین سے بحفاظت واپسی کیلئے سی۔130 طیارہ بھیجنے کے انتظامات کیے جائیں، چیئرمین قائمہ کمیٹی داخلہ نے کہاکہ پاک چین بارڈر کے قریب طلبہ کے منتقلی کیلئے خنجراب بارڈر کی طرف گاڑیاں و ڈاکٹرز ٹیمیں روانہ کی جائیں، پاکستانی طلبہ کو کرونا وائرس کیلئے سکریننگ ٹیسٹ کے بعد انکے والدین کے حوالے کیا جائے، سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ سکریننگ کے بعد کورونا وائرس کے تصدیق کی صورت میں مکمل طبی سہولیات مہیا کی جائیں، پاکستانی طلبہ کو ادویات، کھانے پینے کی اشیا و محفوظ مقامات کی فراہمی کیلئے چینی حکومت سے رابطہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ نے کورونا وائرس کی پاکستان میں موجودگی کے حوالے سے کیا انتظامات اٹھائے ہیں، چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ چین سے پاکستان آئے سامان و دیگر اشیا خصوصا اشیائے خوردونوش کی مکمل سکریننگ کی جائے، سینیٹر رحمان ملک نے مزید کہاکہ بیرون ممالک سے آنے والے مسافروں کی ائیرپورٹس پر مکمل سکریننگ کے انتظامات کیے جائیں۔

سکینرز کمی/رحمان ملک

مزید : صفحہ اول